اے امت مسلمہ!!!!!
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب بھی مسلمانوں کے خلاف کوئی محاذ قائم ہوا، تمام مذاہب و اقوام نے اپنے اختلافات بھلا کر ایک صف میں کھڑے ہو گئے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ مسلمانوں کی ترقی، ان کی قوتِ ایمان اور وحدتِ ملت ہمیشہ دوسروں کے لیے باعثِ خوف رہی ہے۔ اس لیے جب بھی اسلام کی آواز بلند ہوئی، دنیا کی طاقتیں اس کے مقابلے پر متحد ہو گئیں۔
مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ جب مسلمانوں کے ساتھ دینے، انصاف کرنے یا ان کے حقوق کی حمایت کرنے کا موقع آیا تو یہی اتحاد ٹوٹ گیا۔ سب اپنے اپنے مفاد کے پیچھے چھپ گئے، اور مسلمانوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا۔
یہی وہ تلخ حقیقت ہے جو ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ مسلمانوں کی اصل طاقت دوسروں کا ساتھ نہیں بلکہ اپنا اتحاد، ایمان، اور قرآن سے وابستگی ہے۔ جب تک ہم خود ایک امت بن کر نہیں اٹھیں گے، دنیا کے کسی اتحاد سے انصاف کی امید رکھنا محض فریب ہے۔
مسلمان اگر واقعی عزت و سربلندی چاہتے ہیں تو انہیں دوسروں کی حمایت کے بجائے اپنے اتحاد، علم، اور عمل پر اعتماد کرنا ہوگا، کیونکہ قرآن نے صاف کہا:
"إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ"(سورۃ الرعد:١١)
یقیناً اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔
اسی طرح شاعر کہتا ہے:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت بدلنے کا
اللہ تبارک و تعالی امت مسلمہ کو اتحاد و اتفاق کی دولت سے مالا مال فرمائے ۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین
از: محمد احمد اسلمی مدھوبنی