حافظ شیخ اسلم الہند
ہندوستان کی تاریخ میں جمہوریت کبھی محض ایک سیاسی اصطلاح نہیں رہی، بلکہ یہ ایک اخلاقی وعدہ تھا جو اس ملک کی سرزمین پر بسنے والے ہر فرد سے کیا گیا تھا؛ ایک ایسا وعدہ جس کی بنیاد برابری، انصاف اور مذہبی رواداری پر رکھی گئی تھی، اور جسے آئینِ ہند نے باقاعدہ تحفظ فراہم کیا کہ یہاں ہر شہری، بلا لحاظ مذہب و عقیدہ، اپنی شناخت کے ساتھ محفوظ اور باعزت زندگی گزار سکے گا، مگر آج جب ہم اپنے گرد و پیش کے حالات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو یہ سوال بے اختیار ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا وہی ہندوستان باقی ہے جس کا خواب آزادی کے معماروں نے دیکھا تھا یا جمہوریت محض عددی اکثریت کے سہارے ایک خاص طبقے کو حاشیے پر دھکیلنے کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے؛ یہ سوال کسی تعصب یا جانبداری پر مبنی نہیں بلکہ ان حقائق سے جنم لیتا ہے جو گلی کوچوں سے نکل کر عالمی اداروں اور بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس تک پہنچ چکے ہیں، چنانچہ ۱۹ جنوری ۲۰۲۶ کو معروف عالمی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی شائع کردہ مفصل رپورٹ نے ہندوستان کی جمہوری ساکھ کے حوالے سے کئی سنجیدہ خدشات کو زبان دی، جس میں مختلف دستاویزی شواہد اور مشاہدات کی بنیاد پر اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ ملک میں مسلم اقلیت کے خلاف تعصب اور امتیازی رویوں میں اضافہ ایک تشویشناک حقیقت بنتا جا رہا ہے، اور یہ کیفیت کسی ایک واقعے یا ایک دن کا نتیجہ نہیں بلکہ اس ذہنیت کی پیداوار ہے جو تنوع کو طاقت کے بجائے بوجھ سمجھنے لگی ہے، کبھی تعلیم کے دروازے حجاب کے نام پر تنگ کیے جاتے ہیں، کبھی صدیوں پرانی عبادت گاہوں کی شناخت کو متنازع بنایا جاتا ہے اور کبھی بعض ریاستوں میں ماہرینِ قانون کے مطابق ماورائے عدالتی نوعیت کے اقدامات کو عوامی زبان میں ’’بلڈوزر انصاف‘‘ کا نام دے دیا جاتا ہے، جو اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ انصاف کا معیار بعض مواقع پر مذہبی شناخت سے مشروط ہوتا جا رہا ہے، حالانکہ جمہوریت کی اصل روح یہی ہے کہ وہ اکثریت کے ساتھ ساتھ اقلیت کے حقوق کی بھی محافظ ہو اور کمزور کو طاقتور کے ممکنہ ظلم سے بچائے؛ یہ بھی فراموش نہیں کیا جانا چاہیے کہ ہندوستان کی آزادی اور اس کے جمہوری ڈھانچے کی تعمیر میں مسلمانوں نے غیر معمولی کردار ادا کیا، مولانا ابوالکلام آزاد کی فکری بصیرت، شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کی جدوجہد، اشفاق اللہ خان کی قربانی اور بے شمار دیگر مجاہدینِ آزادی کی خدمات اس تاریخ کا ناقابلِ انکار حصہ ہیں، جنہوں نے ایک ایسے ہندوستان کی بنیاد رکھی تھی جہاں مندر کی گھنٹی اور مسجد کی اذان ایک دوسرے کے وجود کو چیلنج نہیں بلکہ تسلیم کرتی تھیں، اگرچہ حکومتِ وقت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اپنے اقدامات کو قانون کے دائرے میں قرار دیتی ہے، تاہم بین الاقوامی رپورٹس اور زمینی مشاہدات کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ان امور پر سنجیدہ، شفاف اور غیر جانب دار مکالمہ کیا جائے، کیونکہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں تنقید دشمنی نہیں بلکہ اصلاح کی بنیاد ہوتی ہے، اور آج سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ہندوستان اپنے آئینی وعدوں اور سیکولر اقدار کی طرف پلٹے، نفرت اور تقسیم کے بیانیے سے وقتی سیاسی فائدہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے مگر اس کی قیمت جمہوریت کی روح کو کمزور کر کے ادا کرنی پڑتی ہے، لہٰذا اگر اس ملک کو واقعی مضبوط، باوقار اور متحد رکھنا ہے تو انصاف، برابری اور مذہبی رواداری کو محض آئینی دفعات نہیں بلکہ عملی حقیقت بنانا ہوگا، اللہ تعالیٰ اس سرزمین کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے اور یہاں بسنے والے تمام انسانوں کو امن، انصاف اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔