🥰

*شہزادوں کا امتحان* 

*(بچوں کے لیے دل چسپ ، حیرت انگیز اور سبق آموز کہانی )*

*قسط نمبر 02*

 *رحم دل شہزادہ اور مکار بڑھیا* 

اب رحم دل شہزادے کی سنیے۔ جب اُس نے اپنے ملک کی سرحد سے باہر قدم رکھا تو سورج نکل چکا تھا۔ اُس نے گھوڑے کو تھکانا مناسب نہ سمجھا تھا۔ وہ راستے میں کچھ دیر سواری کرتا اور کچھ دیر اس کو سستانے کا موقع دیتا۔ اس وجہ سے وہ دیر سے اپنے ملک سے نکلا۔ اُس کا گھوڑا ابھی تک تازہ دم تھا۔

اُس کے چاروں طرف خشک ریگستان تھا۔ دور دور تک کسی ذی روح کا کوئی نشان نہ تھا، لیکن وہ اس طرف جانے پر مجبور تھا، کیوں کہ یہ بادشاہ کا حکم تھا۔ اُس نے گھوڑے کے لیے تھوڑی گھاس کھائی اور صحرا میں داخل ہو گیا۔ دوپہر کے وقت تک وہ پیاس سے نڈھال ہونے لگا۔ اس وقت اُسے سامنے کی طرف کچھ درخت نظر آئے تو اس کی رکتی ہوئی سانسیں بحال ہونے لگیں۔ شہزادے نے گھوڑے کا رُخ اُدھر موڑ دیا۔

درخت کافی دور ثابت ہوئے اور اُن کے قریب پہنچتے پہنچتے اُسے شام ہو گئی۔ اُس نے گھوڑے کو ایک درخت کے ساتھ باندھا اور خود پانی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ تھوڑے فاصلے پر اُسے کسی کے کراہنے کی آواز آئی۔ وہ نزدیک پہنچا تو دیکھا کہ ایک بڑھیا کراہ رہی ہے۔ اُس کی آنکھیں بند ہیں۔ وہ فوراً اُس کی طرف بڑھا اور پوچھا:

"بڑی اماں! آپ کو کیا ہوا ہے؟"

بڑھیا نے کراہتے ہوئے آنکھیں کھولیں اور بولی:
"بیٹے! مجھے سخت پیاس لگی ہے۔ یہاں سے تھوڑی دور ایک کنواں ہے، جہاں ایک بہت بڑا اژدھا بیٹھا ہے۔ میں اور میرا بیٹا یہاں سے گزر رہے تھے۔ میرا بیٹا پانی لینے گیا تو اس اژدھے نے اُسے نگل لیا۔ آج تیسرا دن ہے اور میں نے کچھ کھایا پیا نہیں ہے۔"

شہزادہ بڑھیا کی داستان سن کر رنجیدہ ہو گیا۔ اُس نے بڑھیا کے بیٹے کی موت پر افسوس کیا اور اُسے پانی پلانے کا وعدہ کیا۔ بڑھیا نے شہزادے کو منع کیا کہ اجنبی! تمھیں بھی اژدھا نگل جائے گا۔ شہزادے نے کہا کہ زندگی اور موت تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پہلے میں آپ کو پانی پلاؤں گا، اُس کے بعد خود پیوں گا۔

شہزادہ چھپتے چھپاتے کنوئیں کی طرف چل پڑا۔ وہ کنواں کافی فاصلے پر تھا۔ شہزادے کو وہاں پہنچتے پہنچتے کافی دیر ہو گئی۔ اُسے اپنے سے زیادہ بڑھیا کی فکر تھی کہ کہیں وہ پیاس سے مر ہی نہ جائے۔ جب وہ کنوئیں کے پاس پہنچا تو اُسے اژدھا کہیں نظر نہ آیا۔ کنوئیں کے قریب ہی ایک رسی اور پانی بھرنے والا ڈول پڑا ہوا تھا۔ اُس نے بسم اللہ پڑھ کر رسی کنوئیں میں لٹکا دی۔ جب اُسے احساس ہوا کہ اب ڈول پانی سے بھر گیا ہے تو اُس نے دھیرے دھیرے رسی واپس کھینچنا شروع کر دی۔

شہزادہ یہ دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ پانی کا برتن پورا بھر کر باہر آیا تھا۔ وہ خوشی خوشی واپس چل دیا، تا کہ بڑھیا کو پانی پلا کر اس کی زندگی بچائے۔ جہاں وہ بڑھیا کو چھوڑ کر گیا تھا، وہاں پہنچا تو بڑھیا کہیں نظر نہ آئی۔ اُس نے یہاں وہاں ہر طرف دیکھ ڈالا، لیکن وہ کہیں نہ ملی۔ شہزادہ ناکام ہو کر تھکے تھکے قدموں سے اپنے گھوڑے کی طرف چل دیا۔

جیسے ہی وہ گھوڑے کے پاس پہنچا، چار ڈاکو درختوں کے پیچھے سے نکل آئے اور تلواریں سونت کر شہزادے کو گھیر لیا۔ اُن کے اونٹ بھی شہزادے نے دیکھ لیے تھے۔ ایک درخت کے پیچھے سے وہی بڑھیا نکل رہی تھی۔ اب اُس نے قہقہے لگانے شروع کر دیے۔

شہزادہ بڑھیا کی ساری چال سمجھ گیا۔ بڑھیا کہنے لگی:
"یہ چاروں میرے بیٹے ہیں اور اب ہم تمھارا گھوڑا اور سارا مال و اسباب لے جائیں گے۔"

صحرائی ڈاکو آگے بڑھے اور شہزادے کو ایک درخت کے ساتھ باندھ دیا۔ بڑھیا نے گھوڑے کو کھولا اور اُس پر سوار ہو گئی۔ گھوڑے پر کافی قیمتی ہیرے اور اشرفیاں تھیں۔ انھیں دیکھ کر بڑھیا اور اُس کے بیٹوں کی باچھیں خوشی سے پھیل گئیں۔ انھوں نے شہزادے کی تلاشی لینا بھی مناسب نہ سمجھا۔

وہ جانے لگے تو شہزادے نے درخواست کی کہ مجھے کھول کر تو جاؤ، مگر بڑھیا اور اس کے بیٹوں نے اُس کی بات پر توجہ ہی نہ دی اور شہزادے کے گھوڑے سمیت اونٹوں پر سوار ہو کر گرد اڑاتے نگاہوں سے اوجھل ہو گئے۔

 *بہادر شہزادہ موت کی دہلیز پر* 

بہادر شہزادہ جنوب کی سمت روانہ ہوا تھا۔ جب وہ اپنے ملک کی سرحد سے باہر نکلا تو شام پڑ چکی تھی۔ اس طرف اُن کا ملک زیادہ پھیلا ہوا تھا، اس لیے اُسے سرحد عبور کرتے شام ہو گئی تھی۔ اب اُس کے سامنے پہاڑوں کا لامتناہی سلسلہ تھا۔ اُس نے پہاڑوں کو عبور کرنا شروع کر دیا، جو ختم ہونے میں نہ آتے تھے۔

زادِ راہ کے طور پر دوسرے شہزادوں کی طرح اُس نے بھی ہیرے اور اشرفیاں ساتھ لی تھیں۔ اُس کے پاس خشک میوہ جات کی تھیلیاں بھی تھیں، لیکن ابھی تک اُس نے کھانے پینے کی طرف کوئی خاص توجہ نہ دی تھی۔ پہاڑ عبور کرتے ہوئے اُسے ساری رات بیت گئی۔ سحری کے وقت اُس نے کچھ خوراک لی اور اب جس پہاڑ کی طرف روانہ ہوا، اُس کے خیال میں وہ سب سے بلند تھا۔ اُس کے اوپر کھڑے ہو کر راستے کا صحیح تعین کیا جا سکتا تھا۔

پہاڑ کے اوپر پہنچنے تک صبح ہو گئی اور سورج نکل آیا تھا۔ پہاڑ کی چوٹی سے دور دور تک کے علاقے نظر آ رہے تھے۔ اُس کے دائیں، بائیں اور پیچھے تو یہی بنجر پہاڑ ہی پہاڑ تھے، مگر سامنے کی طرف والا پہاڑی سلسلہ سرسبز تھا۔ اُس نے اپنے گھوڑے کو اسی سمت ڈال دیا۔

گھوڑا بہت اصیل نسل کا تھا۔ وہ دشوار گزار راستوں پر بھی بڑی پھرتی سے چل رہا تھا۔ سرسبز پہاڑ کے دامن میں پہنچتے ہی گھوڑے کی بھوک جاگ اٹھی۔ شہزادہ سمجھ گیا تھا کہ اب کچھ دیر آرام کیے بغیر ہم آگے سفر جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ وہ گھوڑے سے اترا اور اُس کی رسی کو لمبا کر کے باندھ دیا۔

یہاں گھاس تو نہ تھی، لیکن لمبی لمبی پتیوں والے چھوٹے چھوٹے سبز پودے ضرور تھے۔ اُن کا قد دو سے پانچ فٹ تک ہو گا۔ اُن کے پتوں سے عجیب سی بو آ رہی تھی۔ گھوڑا بھوک کے مارے اس پودے پر منہ مارنے لگا۔ شہزادہ اُس کے قریب ہی لیٹ کر گھوڑے کی طرف دیکھنے لگا، جو اُس کا مستقل ساتھی تھا۔

پھر اچانک اُس نے گھوڑے کو گرتے ہوئے دیکھا۔ شہزادہ ایک دم اُٹھ کر گھوڑے کی جانب بڑھا۔ اس دوران میں گھوڑا زمین پر لیٹ چکا تھا۔ شہزادہ پریشان ہو گیا۔ بظاہر ایسا کچھ محسوس نہ ہوتا تھا کہ گھوڑے کو کوئی تکلیف ہوئی ہو۔ اب گھوڑے کی آنکھیں بند ہونے لگی تھیں اور شہزادے کی پریشانی بڑھنے لگی۔

قریب پہنچ کر اُس نے گھوڑے کو بہت ہلایا جلایا، لیکن اس نے اپنی آنکھیں نہ کھولیں۔ شہزادے نے اُس کے نتھنوں پر ہاتھ رکھا تو سانس چلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس سے پہلے کبھی گھوڑا اس طرح نہیں لیٹا تھا اور یہ گھوڑا سب سے تندرست تھا۔ بہرحال سوچتے سوچتے وہ سمجھ گیا کہ ضرور اس پودے میں کچھ اثرات ہیں، جن کی وجہ سے گھوڑا لمبی تان کر سو گیا ہے۔

شہزادے نے اُس پودے کے چند پتے توڑے اور انھیں سونگھ کر چکھنے لگا۔ اُس نے دو چار پتے ہی کھائے تھے کہ اُس پر غنودگی چھانے لگی۔ پھر اُسے ڈھول کی آوازیں آنے لگیں۔ اُس کی نگاہیں بے اختیار پہاڑ کی چوٹی کی جانب اُٹھ گئیں، جہاں بہت سے لوگ ناچتے گاتے آ رہے تھے، لیکن بہادر شہزادے کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور وہ زمین پر لڑھکتا چلا گیا۔

 *عقل مند شہزادے کی گرفتاری* 

عقل مند شہزادہ گھوڑے پر سوار ہو کر جنوں کی طرف بڑھنے لگا۔ جن پتلی سی نہر کے کنارے کھڑے تھے۔ سب سے پہلے جنوں کے سردار کی نظر اس پر پڑی۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو ادھر متوجہ کیا، تو سب شہزادے کی جانب دیکھنے لگے۔

اسی وقت نہر پر ایک چھوٹا سا مضبوط پل نمودار ہو گیا۔ پل کے ذریعے شہزادے نے اپنا گھوڑا نہر سے پار کیا۔ تمام جنوں نے جھک کر شہزادے کا استقبال کیا۔ شہزادے نے ان کو اپنا دوست سمجھا اور دل ہی دل میں خوش ہونے لگا۔

جنوں کے سردار نے آگے بڑھ کر گھوڑے کی لگام تھام لی اور شہزادے کو بڑی عزت سے نیچے اُتارا گیا۔ شہزادے نے نیچے اترتے ہی سوال کیا:
"کیا میں آپ سے پوچھ سکتا ہوں کہ آپ لوگ کون ہیں؟"

سردار جن ادھر اُدھر دیکھ کر بولا:
"شہزادے! عرصہ پہلے ہمیں آپ کے یہاں آنے کی نوید سنائی گئی تھی اور آج وہ مبارک دن آ پہنچا ہے۔"

شہزادہ سوچ رہا تھا کہ ان کو کیسے معلوم ہوا ہو گا کہ میں شہزادہ ہوں؟ جن بھانپ گیا کہ شہزادہ کیا سوچ رہا ہے۔ وہ کہنے لگا:

"شہزادے! ہمارا بادشاہ نیاز جن دو سال سے بیمار ہے۔ نامی گرامی طبیبوں سے علاج کرایا گیا، لیکن اُس کی حالت بہت زیادہ بگڑنے لگی۔ پھر بوڑھے شاہی نجومی جن کو بلایا گیا تا کہ وہ بادشاہ کی بیماری کے بارے میں کچھ بتائے۔ اُس نے کہا تھا کہ دو سال بعد ایک ملک کا شہزادہ، جس کا نام عقل مند شہزادہ ہوگا، وہ ہمارے ملک کی سرزمین پر قدم رکھے گا۔ اُس کے قدم رکھتے ہی بادشاہ سلامت کی طبیعت سنبھلنا شروع ہو جائے گی..."

اور اگر بادشاہ ایک مہینے تک شہزادے کو اپنا مہمان رکھنے میں کامیاب ہو گیا تو وہ مکمل صحت یاب ہو جائے گا!

جن کی باتیں سن کر شہزادے کو تعجب ہوا، لیکن اسی اثنا میں سردارِ جن نے شہزادے کا ہاتھ تھام کر کہا:
"شہزادے! کیا آپ ہمارے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہیں؟"

شہزادے نے اثبات میں سر ہلایا تو جن کہنے لگا:
"آپ اپنی آنکھیں بند کر لیں اور جب تک میں نہ کہوں، اُس وقت تک آنکھیں نہیں کھولنی۔"

شہزادے نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اُس کے قدم زمین سے اوپر اٹھ رہے ہوں۔ پھر چند منٹوں بعد اس کے قدموں نے دوبارہ زمین کو چھوا تو سردارِ جن کی آواز ابھری:
"شہزادے! آپ اپنی آنکھیں کھول سکتے ہیں۔"

شہزادے نے آنکھیں کھولیں تو اُس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اُس کے سامنے شیشے سے بنا ہوا ایک وسیع و عریض محل تھا۔ محل کے دروازے پر ایک خوب صورت بگھی کھڑی تھی۔ اُس کے آگے سفید پروں والے چار خوب صورت گھوڑے جتے ہوئے تھے۔

جنوں کے سردار نے شہزادے کو آرام دہ بگھی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ بگھی میں سوار ہو گیا۔ بگھی نے محل کے اندر والی سمت میں اُڑنا شروع کر دیا۔ شہزادے کو یہ سب کچھ ایک خواب کی طرح لگ رہا تھا۔ بگھی محل کے صدر دروازے پر جا کر رک گئی۔

جب شہزادہ نیچے اترا تو سردارِ جن پہلے سے وہاں موجود تھا۔ محل کا دروازہ سونے سے تیار کیا گیا تھا اور اُس پر قیمتی ہیروں سے نقش و نگار بنائے گئے تھے۔ ان کی چمک سے سارا دروازہ جگمگا رہا تھا۔ دروازے کے اندر کئی کنیزیں مؤدب انداز میں کھڑی تھیں۔ انھوں نے شہزادے کو خوش آمدید کہا۔

*جاری ہے ۔۔۔۔۔///*
🌹🌸♥️🤲🌼