مغرب کا ویک اینڈ ( WEEKEND ) بمقابلہ جمعۂ اسلام

( میں یوں ہی اسلام کا دیوانہ نہیں)

✍🏻 محمد پالن پوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مغربی تہذیب نے انسانی زندگی کو وقت کے خانوں میں اس طرح تقسیم کیا کہ ہفتے کے پانچ دن محض پیداوار، منافع اور مشین بنے رہنے کے لیے مخصوص کر دیے گئے اور پھر دو دن اس تھکن کے ازالے کے نام پر خواہشات کو کھلی چھوٹ دے دی گئی۔ اسی تقسیم کا نام ویک اینڈ ( WEEKEND )ہے جس کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ انسان ذمہ داریوں سے وقتی فرار اختیار کرے تاکہ پیر کے دن وہ دوبارہ اسی نظام کا ایندھن بن سکے۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے برعکس اسلام نے انسانی زندگی کو تھکن اور فرار کے اصول پر نہیں بلکہ یاد دہانی اور احتساب کے اصول پر قائم کیا۔ اسی لیے جمعہ کو آرام کا دن نہیں بلکہ رکنے، پلٹنے اور خود کو دیکھنے کا دن بنایا۔ قرآن کا حکم ( فاسعوا الی ذکر اللہ و ذروا البیع)محض عبادت کی دعوت نہیں بلکہ ایک تہذیبی اعلان ہے کہ معیشت، منڈی اور مفاد انسان پر حاوی نہیں ہوں گے بلکہ انسان انہیں ایک لمحے میں ترک کر کے خدا کے سامنے کھڑا ہو سکے گا۔۔۔۔
مغربی ویک اینڈ میں اجتماع فرد کی خواہش کے گرد بنتا ہے جبکہ جمعہ میں اجتماع حق کے گرد بنتا ہے اسی لیے وہاں ہجوم ہوتا ہے مگر امت نہیں بنتی اور یہاں صف بنتی ہے تو طبقاتی فاصلے خود بخود ٹوٹ جاتے ہیں۔۔ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ مغربی معاشروں میں ویک اینڈ ذہنی دباؤ کم کرنے کے باوجود اخلاقی انتشار، خاندانی کمزوری اور روحانی خلا کو بڑھاتا ہے جبکہ اسلامی معاشرے میں جمعہ کا نظام فرد کو ہر ہفتے یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ وہ صرف ملازم، صارف یا شہری نہیں بلکہ ایک جواب دہ انسان ہے۔ خطبۂ جمعہ کی تاریخی حیثیت اس بات کی شاہد ہے کہ یہ مذہبی خطاب کے ساتھ ساتھ سماجی و سیاسی شعور کی ترسیل کا سب سے مؤثر ذریعہ رہا ہے جس کے ذریعے عہدِ نبوی میں اقدار کی تشکیل ہوئی اور بعد کے ادوار میں اجتماعی سمت متعین کی گئی۔۔۔۔۔۔۔
اصل بحران یہ نہیں کہ مسلمان مغربی نظام میں رہتا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ مغربی ویک اینڈ کے فلسفے کو اندر سے قبول کر چکا ہے جہاں چھٹی کا مطلب بے خبری ہے نہ کہ خود احتسابی۔ یہی وجہ ہے کہ جمعہ اس کے لیے بھی ایک رسمی وقفہ بنتا جا رہا ہے جس میں جسم مسجد آتا ہے مگر شعور حاضر نہیں ہوتا۔ اگر تہذیبوں کا تقابل نعروں سے نہیں بلکہ اقدار سے کیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ ویک اینڈ انسان کو وقتی سکون دے کر نظام سے جوڑتا ہے جبکہ جمعہ انسان کو خدا سے جوڑ کر نظام کو درست کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اور یہی وہ بنیادی فرق ہے جو آج کے تہذیبی تصادم میں مسلمان کو فیصلہ کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ وہ محض ایک عالمی نظام کا صارف بن کر جینا چاہتا ہے یا ایک ایسی تہذیب کا وارث بن کر جس میں ہر ہفتہ انسان کو دوبارہ انسان بنایا جاتا ہے۔۔۔۔

https://www.facebook.com/share/1DC89ZQgqv/