*مرد ہوس کا پجاری ہے لیکن عورت بھی کم نہیں*

معاشرہ جب جذبات کے بجائے الزامات پر کھڑا ہو جائے، جب ایک جنس کو مکمل مجرم اور دوسری کو مکمل مظلوم بنا کر پیش کیا جائے، تو انصاف نہیں بگڑتا بلکہ سوچ مر جاتی ہے، ہوس صرف آنکھ میں نہیں ہوتی، نیت میں بھی ہوتی ہے، اور پردہ صرف لباس کا نہیں بلکہ کردار کا بھی ہوتا ہے، یہ تحریر نہ مرد کو فرشتہ بنانے آئی ہے نہ عورت کو شیطان، بلکہ دونوں کو ان کی اصل ذمہ داری یاد دلانے آئی ہے،اور میرا مقصد صرف اصلاح ہوتا ہے واللہ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں، فائنلی جملہ اللہ مجھے میری نیت کا ثواب عطا کرے آمیـــــــــــــــــن۔*کہا جاتا ہے مرد ہوس کا پجاری ہے* مگر ذرا رک کر سوچیے، جب عورت مرتی ہے تو اس کا جنازہ مرد اٹھاتا ہے، اسی مرد کے کاندھوں پر وہ آخری سفر طے کرتی ہے، اور اسی مرد کے ہاتھوں وہ لحد میں اتاری جاتی ہے، پیدائش کے لمحے یہی مرد اس کے کان میں اذان دیتا ہے، باپ کے روپ میں سینے سے لگاتا ہے، بھائی بن کر اس کی حفاظت کرتا ہے، شوہر کی صورت میں محبت اور ذمہ داری نبھاتا ہے، اور پھر وقت بدلتا ہے تو بیٹا بن کر اسی عورت کے قدموں میں اپنے لیے جنت تلاش کرتا ہے،واقعی بہت ہوس کی نگاہ سے دیکھتا ہے مرد اس میں کوئی شک نہیں لیکن ہوس کا پجاری صرف مرد ہی کیوں، لڑکیاں مارکیٹ میں یا کسی فنگشن میں اتنی سجھ دھج کر کیوں جاتی ہیں،کیا انہیں پتہ نہیں ہمارا وجود کتنا نازک ہے،کیا انہیں شریعت کا پتہ نہیں، کیا انہیں معلوم نہیں کس کے لیے سنگار کرنا چاہیے،کیا انہیں معلوم نہیں ہمیں اسلام نے کتنے وقار سے رہنا سکھایا ہے، پھر ہوس کا پجاری مرد کیوں نہ بنیں جب آپ نے اسے اپنے نیم جسم اور بےلوس پیکپ کرکے دکھایا،اور حد درجے کی حرکتیں کرکے اس کے نفس کو بے قابو کر دیا پھر شکایت کہ مرد نفس کا پجاری ہے،غور کیجیے گا اپنے آپ پر پھر کسی پر حکم لگائیے گا،اگر اسکی ہوس دیکھنی ہے تو کریں تاریخ کے ان اوراق کا مطالعہ جس میں ہر لائن مرد کے وجود سے اسکی غیرت کا پیغام دیتی ہوئی نظر آتی ہے۔کبھی غور تو کریں یہی مرد حضرات ہیں انکی ایک ہوس بڑھتے بڑھتے ماں حاجرہ سلامۃ اللہ علیہا کی سنت پر عمل کرتے ہوئے صفا و مروہ کے درمیان سعی تک لے جاتی ہے، یہی ہوس ایک عورت کی پکار پر سندھ آپہنچتی ہے، یہی ہوس اندلس فتح کر ڈالتی ہے، اور یہی ہوس تاریخ کے اوراق میں یہ سچ رقم کر دیتی ہے کہ اسی عورت کی عصمت کی حفاظت میں 80 فیصد مرد اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں،واقعی مرد ہوس کا پجاری ہے،لیکن وہ ایک اچھی ہوس کا بھی پجاری ہے جب ہوس دینے والی خواتین اسلام کا درد رکھتی ہو،اللہ کا خوف رکھتی ہو،محبت رسول میں مستغرق ہو،اور ایک اچھے گھرانے کی لڑکی ہو،جس نے غیرت میں پروان چڑھا ہو،جسے والدین نے حلال لقمے کھلائے ہوں،جسے ماں نے فاطمہ کا کردار سکھایا ہو،جسے باپ نے غیرت سکھائی ہو،جسے خاندان عزت و وقار سمجھایا ہو،جسے ہر موڑ پر سنوارنے والے مربی تربیت یافتہ ہو۔لیکن سچ کا ایک اور رخ بھی ہے، جب حوا سلامۃ اللہ علیہا کی بیٹی کھلا بدن، چست لباس پہن کر، اپنی نمائش کو آزادی کا نام دے کر باہر نکلتی ہے، اور اپنی ہی ادا سے فتنہ پیدا کر دیتی ہے تو پھر یہی مرد واقعی ہوس کا پجاری بن جاتا ہے، اور کیوں نہ ہو؟ کھلا گوشت ہمیشہ درندوں کو متوجہ کرتا ہے، یہ فطرت ہے، فلسفہ نہیں، جب عورت گھر سے باہر نکل کر مرد کی ہوس بھری نظروں کی شکایت کرے اور سمجھانے پر اسی مرد کو تنگ نظر، پتھر کے زمانے کا، اور رجعت پسند کہے، تو سوال یہ نہیں بنتا کہ نظریں کیوں اٹھیں، سوال یہ بنتا ہے کہ حدیں کیوں ٹوٹیں۔ستر ہزار کا سیل فون ہاتھ میں، ساڑھے چار ہزار کا میک اپ چہرے پر، تنگ شرٹ، پھٹی جینز، کھلے بال، انڈے کی شکل کا چشمہ، اور پھر یہ شکوہ کہ مرد کی نظریں بری ہیں، یہ تضاد نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ جملے تلخ ضرور ہیں مگر معاشرے کا آئینہ ہیں، انہیں غصے سے نہیں، غور سے پڑھنے کی ضرورت ہے،خدارا مرد ہوس پجاری نہیں مگر شرط یہ ہے کہ اس سے صحیح سمت ملنا چاہیے غلط نہیں۔

میں ایک صاحب کے منہ سنا ہوں وہ بیان کرتے ہیں،

میں نے مرد کی بے بسی اس دن محسوس کی جب میرے والد کینسر سے جنگ لڑ رہے تھے اور انہیں اپنی صحت سے زیادہ اس بات کی فکر تھی کہ جو کچھ انہوں نے اپنے بچوں کے لیے بچایا تھا وہ بیماری پر خرچ ہو رہا ہے، اور ان کے بعد ہمارا کیا ہوگا، میں نے مرد کی قربانی اس دن دیکھی جب عید کے بازار میں ایک خاندان کے ہاتھوں میں شاپنگ بیگز کا ڈھیر تھا اور بیوی شوہر سے کہہ رہی تھی کہ میری اور بچوں کی خریداری مکمل ہو گئی ہے، آپ بھی کچھ لے لیں، اور جواب آیا: ضرورت نہیں، پچھلے سال والی چیزیں کون سی روز پہنی ہیں، تم دیکھ لو اور کیا لینا ہے، میں بعد میں آ جاؤں گا، میں نے مرد کا ایثار تب دیکھا جب وہ بیوی بچوں کے لیے کچھ لایا تو اپنی ماں اور بہن کے لیے بھی تحفہ لایا میں نے مرد کا تحفظ تب دیکھا جب سڑک پار کرتے وقت اس نے اپنی فیملی کو پیچھے رکھا اور خود ٹریفک کے سامنے کھڑا ہو گیا، میں نے مرد کا ضبط تب دیکھا جب اس کی جوان بیٹی اجڑا ہوا گھر لے کر واپس لوٹی، اس نے غم چھپاتے ہوئے بیٹی کو سینے سے لگایا اور کہا ابھی میں زندہ ہوں حالانکہ کھنچتی ہوئی کنپٹیاں اور سرخ ہوتی آنکھیں چیخ چیخ کر بتا رہی تھیں کہ ٹوٹ تو وہ بھی چکا ہے، رونا تو وہ بھی چاہتا ہے، مگر یہ جملہ کہ مرد کبھی روتا نہیں اسے رونے نہیں دیتا۔

یا اللہ ہمیں الزام تراشی نہیں، انصاف کی نظر عطا فرما، ہمیں آزادی نہیں، ذمہ داری کا شعور دے، مرد کو نگاہ کی پاکیزگی اور عورت کو وقار کی حفاظت نصیب فرما، یا اللہ ہر مرد اور عورت کو سمجھ، توازن اور ہدایت عطا فرما آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔

*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*