Translation unavailable. Showing original.
سورۃ الفیل کا شان نزول
11 جنوری، 2026
سورۃ الفیل اس عظیم تاریخی واقعے کے پس منظر میں نازل ہوئی جو نبی کریم ﷺ کی ولادت سے کچھ عرصہ پہلے پیش آیا۔ اس سال کو تاریخ میں عامُ الفیل کہا جاتا ہے۔
یمن کا عیسائی حاکم ابرہہ الاشرم تھا۔ اس نے صنعاء میں ایک بہت بڑا عبادت خانہ (کنیسہ) بنوایا تاکہ عرب لوگ خانۂ کعبہ کے بجائے وہاں زیارت کے لیے آئیں، لیکن عربوں نے اسے قبول نہ کیا۔ اس پر ابرہہ کو سخت غصہ آیا اور اس نے خانۂ کعبہ کو ڈھانے کا فیصلہ کیا۔
ابرہہ ایک بہت بڑا لشکر لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوا، جس میں ہاتھی بھی شامل تھے۔ عربوں نے اس سے پہلے ہاتھی نہیں دیکھے تھے، اس لیے یہ لشکر بہت ہیبت ناک تھا۔ جب لشکر مکہ کے قریب پہنچا تو سب سے بڑا ہاتھی (جس کا نام محمود بتایا جاتا ہے) کعبہ کی طرف بڑھنے سے رک گیا، چاہے اسے کتنا ہی مارا پیٹا گیا۔
اسی وقت اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا مظاہرہ فرمایا۔ ابابیل نامی پرندوں کو بھیجا جو آسمان سے آئی ہوئی تھیں۔ ان کے پنجوں اور چونچوں میں پکی ہوئی مٹی کی چھوٹی کنکریاں تھیں، جو جس پر پڑتیں وہ ہلاک ہو جاتا۔ اس طرح پورا لشکر تباہ و برباد ہو گیا اور ابرہہ خود بھی زخمی ہو کر واپس گیا اور راستے ہی میں مر گیا۔
اسی واقعے کو یاد دلانے اور قریش پر اللہ کے احسان کو ظاہر کرنے کے لیے یہ سورۃ نازل ہوئی، تاکہ وہ جان لیں:
خانۂ کعبہ کا محافظ اللہ خود ہے
اللہ کمزور نظر آنے والی مخلوق سے بھی طاقتور لشکروں کو تباہ کر سکتا ہے
یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے قریب اللہ کی خاص نشانی تھا
خلاصہ شانِ نزول: سورۃ الفیل ابرہہ کے ہاتھیوں والے لشکر کی تباہی کے واقعے پر نازل ہوئی، تاکہ اللہ کی قدرت، خانۂ کعبہ کی حفاظت اور قریش کے لیے تنبیہ و نصیحت واضح ہو جائے۔
مفتی صادق امین قاسمی