*ہماری بچیاں ارتداد کا شکار*
یوں تو بہت دن پہلے اس موضوع پر لکھ چکا ہوں، لیکن پھر مطالبہ کیا گیا ہے تو دوبارہ لکھ رہا ہوں اللہ کریم قبول فرمائے، آمین یارب العالمین
اللہ رب العزت کا احسان عظیم و کریم ہے کہ اس نے ہمیں مسلمان پیدا کیا اور امت محمدیہ ﷺ میں پیدا کیا،،،
لیکن ایک درد جس سے کوئی بھی انجان نہیں ہے کہ کثیر تعداد میں ہماری بہن،بیٹیاں،ارتداد کا شکار ہو گئی ہیں جن کی تعداد جب سنی جاتی ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے،
مگر افسوس کہ آج ہم اپنی سب سے قیمتی دولت یعنی اپنی بیٹیوں کے ایمان کی حفاظت نہ کر سکے، آج وہی معصوم بچیاں جو کبھی گھروں کی زینت اور ماں باپ کی آنکھوں کا سکون تھیں، ارتداد کے طوفان میں بہہ کر ایمان اور عزت دونوں سے محروم ہو گئیں ہیں، یہ محض کتابی بات نہیں، بلکہ ہر روز اخبارات اور سوشل میڈیا پر ایسے دل دہلا دینے والے واقعات سامنے آتے ہیں کہ دل کانپ اٹھتا ہے...
یہ حقیقت ہے کہ ہزاروں مسلمان لڑکیاں محبت کے جھوٹے وعدوں، آزادی کے فریب اور دوستی کے جال میں پھنسی ہوئی ہیں, مگر کیا ان کی زندگی واقعی خوشی سے گزر رہی ہے؟
نہیں، بلکہ وہ ایسے ظلم اور ذلت سے دوچار ہو رہی ہیں جس کا تصور بھی رونگٹے کھڑا کر دیتا ہے, ایک رپورٹ میں آیا کہ ایک مسلمان لڑکی جسے شادی کا لالچ دے کر غیر مسلم نوجوان بھگا لے گیا، اس کے ساتھ کئی دن تک اس کے دوستوں نے زبردستی زیادتی کی، پھر وہی شخص جس نے وعدے کیے تھے، اس نے اسے بازار میں بیچ دیا, وہ آج بھی اپنا چہرہ چھپائے، اپنے ماضی پر آنسو بہا رہی ہے, اور یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ بے انتہا مسلم لڑکیاں ہندو لڑکوں کا شکار ہو کر اور اپنی عزت سے کافروں کو کھلا کر آج ایک ایک لقمہ کے لیے روڈوں، چوراہوں، ایئرپورٹ، اسٹیشن، وغیرہ وغیرہ پر دست سوال لمبا کئے ہوئے ہیں اور اپنی قسمت پر رو رہیں ہیں...
ایک مقام پر میں پہنچا اور ایک لڑکی کو دیکھا اور بات چیت کی تو اس نے بیان کیا آج سے دو سال پہلے میں نے اپنے گھر والوں سے لڑ کر ایک ہندو لڑکے کے ساتھ شادی کی چند دن تک اس نے مجھے اپنے گھر والوں سے دور رکھا، ایک کرایہ پر کمرہ لیا، مجھے دلاسہ دیتا رہا، گھر چلیں گے گھر چلیں گے، چند دن بعد کچھ یوں ہوا کے اسکے دوست آنے لگے، اور اس نے مجھے ایک فاحشہ کا بناکر رکھا، اور میرے جسم کی قیمت لینے لگا میں روتی، چلاتی،چیختی،اور اس سے لڑتی،لیکن وہ ظالم میری ایک نہیں سنتا،وہ پیسے لیتا اور پوری پوری رات مجھے رینٹ پر رکھتا،میری عزت کو چکنا چور کیا جاتا، مجھے ظلم و تشدد کا شکار بنایا جاتا، لیکن میرے پاس کوئی اور اوپشن نا تھا،میں بھاگنا چاہتی تو کہاں بھاگ سکتی تھی؟میں دوڑنا چاہتی تو کہاں دوڑ سکتی تھی؟لیکن آخر میں بھی ایک انسان تھی پوری رات زیادتی ہوتی بےہوش ہو جاتی،ہوش میں آتی تو ظالم مارتا، اور کھانا پکانے کا مطالبہ کرتا،اور خنزیر کا گوشت میرے دامن میں لاکر ڈالتا اگر منع کرتی تھی تو مارتا تھا،اور پکاتے ہوئے پلٹی آتی، میں کچھ اور کھانے کو کہتی تو زبردستی مجھے کھلاتا میں جیسے ہی کھاتی فورا پلٹی ہو جاتی، لیکن کب تک برداشت کر سکتی تھی، اور بھوک کو روک سکتی تھی آخر کار مجھے وہ بھی کھانا پڑا، جب ظلم کی انتہا ہو گئی اور برداشت سے باہر ہو گیا، میں نے اس کے گھر سے بھاگنے کا ارادہ کیا اور کمرے سے نکل کر باہر آ گئی تو ظالم نے مجھے ایک مقام پر پکڑ لیا،اور میری چوٹی پکڑ کر گھسیٹتا ہوا کمرے میں لایا مجھے مارا لائٹ کے کیبل(Wear) سے اور پھر وہی زیادتی میرے ساتھ کرانے لگا اب مجھے کمرے میں بند کر کر چلا جاتا،اور دو بجے تین بجے رات کو شراب پیکر آتا اور ساتھ میں دوست لاتا، مجھے سوتی ہوئی کو مارتا اٹھاتا اور زیادتی کرانے کا مطالبہ کرتا...😭
کچھ دن بعد ظالم نے مجھے بیچ دیا اور وہاں بھی زیادتی،اور ہم جنسی کا نشانہ بنایا گیا خدارا جو اس نے وہاں کی بات بتائی میں بیان نہیں کر سکتا،خدا کے لیے مجھے معاف کردیں، باقی سب کچھ آپ لوگ جانتے ہیں 😭 اور اس طرح کے بےشمار واقعات ہمارے منہ پر ایک زبردست تھپڑ رسید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں...
میں اپنی بہنوں سے عرض کرنا چاہوں گا کیا آپ اسکے ساتھ رہنا چاہتی ہو جسے کھانے، پینے،نہانے،سونے،زندگی گزارنے کا بھی نہیں پتا،جو پتھروں کو معبود مانتے ہوں، جو خنزیر کھاتے ہوں، کبھی غور تو کرو خنزیر کو اللہ نے غلاظت کھانے کے لیے پیدا کیا ہے، جسکی تخلیق غلاظت کے لیے ہوئی ہو اور جو اس غلاظت کھانے والے کو بھی کھا جائے کیا اسکی غلاظت کا اندازہ لگایا جا سکتا، مجھے حیرت ہے ایسے لڑکیوں پر وہ ایسے لڑکوں کو پسند کرتی ہیں، خدارا سنبھل جائیں اگر آپکو تجویز بھی کرنا ہے تو کوئی مسلمان لڑکا کر لو کچھ بھی صحیح لیکن تمہارے ایمان کا تو شریک ہوگا،تمہیں گھر والوں سے ہی تو دور کر دیگا لیکن خدارا اللہ سے تو دور نا کرے گا تمہیں بتوں کی عبادت، اور خنزیر کے کھانے پر تو مجبور نا کرے گا، تم سے کفریہ کلمات کا مطالبہ تو نا کرے گا، خدا کے لیے میری بہنوں سنبھل جاؤ، اور تمہارے والدین سے بہتر، تمہارے بھائی،سے بہتر، اس دنیا میں تمہارے لیے کوئی نہیں سوچ سکتا...
سوچو: وہ لڑکیاں جو کبھی اپنے گھروں میں شہزادیوں کی طرح رہتی تھیں، جب ایمان چھوڑ بیٹھیں تو ان کی عزت، ان کا سکون، ان کی آزادی سب کچھ چھین لیا گیا، کچھ لڑکیاں ایسی بھی ہیں جو آج عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا رہی ہیں کہ ہمیں واپس اسلام میں لوٹنے دو، مگر سماج انہیں قبول نہیں کرتا، وہ اپنی جان پر کھیل کر یہ صدا لگا رہی ہیں کہ اسلام چھوڑنے کے بعد ہمارے ساتھ کیا ہوا، مگر ہماری قوم پھر بھی خوابِ غفلت میں سو رہی ہے...
اللہ اکبر: رونا آتا ہے دل پھٹ جاتا ہے ایسا لگتا ہے کے روح جسم سے نکل جائے گی خدارا میں اور مجھ جیسے بہت سے مسلمان بھائی اپنے درد کو بیان نہیں کر سکتے لیکن کیا کر سکتے ہیں، افسوس کے علاوہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے اور اپنی نادانی بے وقوفی اور حماقت پر رونے کے علاوہ کچھ بھی نہیں...
اس گناہ کو عروج دینے والے والدین، بھائی،خاندان سب اس میں شامل ہیں،کیا لڑکیوں کو پڑھانا ہی سب کچھ ہے، آخر یہ آپکی بیٹی، بہن،بھتیجی،نے یہ قدم اٹھایا کیوں؟ کیا تمہاری آنکھوں پر پٹی بندھی ہے، تمہیں نظر نہیں آتا وہ اکیلی کالج،یونیورسٹی، اسکول،میں جا کر کیا کرتی ہے، کیا تمہاری آنکھیں پھوٹ گئی ہیں کہ تمہیں نظر نہیں آتا کہ صبح میں جلدی کیوں نہیں اٹھتی،تمہیں نظر نہیں آتا وہ اسکول کی چھٹی کے بعد گھر دیر سے کیوں آتی ہے،تمہیں نظر نہیں آتا وہ تم سے الگ رہنے کا مطالبہ کیوں کرتی ہے،تمہیں نظر نہیں آتا کہ وہ وقتا فوقتا کھانے سے کیوں منع کرتی ہے،خدا کے لیے ہوش کے ناخن لیں، اور اپنی بچیوں کی حفاظت کریں، خدارا قوم مسلم تو وہ ہے جس نے جنگ کے میدان میں عورت حفاظت کو کہا ہے،تم کونسی خوش فہمی میں جی رہے ہو، تمہیں اسکی رفاقتیں،عناتیں، اور منفرد رہنے کا مطالبہ نظر نہیں آتا، ظالموں اگر کفالت نہیں کر سکتے تو دو کسی ایسے انسان کو جو اچھے سے تربیت کر سکے،چھوڑوں انکا پیچھا اور دست برداری کا اعلان کرو اللہ رب العزت ان کا بہترین کارساز ہے, تم نے اللہ احد کا نعرہ لگانے والی بیٹی کو کسی کافر کے گھر میں جانا گوارا کر لیا،
اور کہاں ہیں وہ ظالم لڑکے جو محبت محبت کی رٹ لگائےپھرتے تمہیں شرم حیا نہیں تمہاری ملت کی بیٹی کیوں کسی کافر کی شریک حیات بنی اب ڈوب کے مرجاو اور بھاڑ میں جائے تمہاری یہ محبت،،،،،،،خدارا درد بیان نہیں کیا جاتا....
مجھے وہ حدیث پاک یاد آتی ہے جو اللہ کے نبی ﷺ نے صحابہ سے کہا تھا،فرمایا تھا صحابہ کسی غیر مسلم کو مسلم کرنے سے بہتر ہے کسی مسلمان کو مرتد ہونے سے روکنا،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ایسا کیوں؟ آپنے فرمایا کوئی کافر اسلام کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا کے مرتد پہچائے گا...
کیا اب تمہیں ارتداد نظر نہیں آتا ,اب مذہب اسلام پر اٹھتی ہوئی انگلیاں نظر نہیں آتی، اب آئے دن مذہب اسلام پر ہونے والے حملے نظر نہیں آتے....
اے مسلمانو: یہ سب صرف ان لڑکیوں کا قصور نہیں، یہ ہماری اجتماعی غفلت ہے، ہم نے اپنی بیٹیوں کو صرف موبائل اور جدید تعلیم دی، مگر انہیں قرآن اور سیرت کی روشنی نہ دی، ہم نے ان کے سوالات کو دبایا، مگر جواب نہ دیا، ہم نے انہیں محبت اور اعتماد نہ دیا، تو وہ محبت باہر ڈھونڈنے لگیں، اور جب انہوں نے محبت باہر ڈھونڈی تو ان کے ایمان، ان کی عزت، ان کی جان سب لٹ گئے....
یاد رکھو: ایک لڑکی کے ایمان سے نکلنے کا مطلب صرف ایک فرد کی بربادی نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کی تباہی ہے، جو لڑکی دین چھوڑ کر غیر مسلم بن جاتی ہے، اس کی آنے والی اولادیں بھی غیر مسلم ہو جاتی ہیں، یہ وہ جرم ہے جس کا حساب صرف ان بچیوں سے نہیں، ہم سب سے بھی لیا جائے گا...
اب وقت ہے کہ ہم بیدار ہوں، اپنی بچیوں کو دین کے دلائل کے ساتھ سمجھائیں، ان کی تربیت کریں، ان کے سوالات سنیں، انہیں اعتماد اور محبت دیں, ورنہ کل قیامت کے دن جب یہی بیٹیاں ہم سے پوچھیں گی کہ آپ نے ہمیں بچایا کیوں نہیں، تو ہمارے پاس کوئی جواب نہ ہوگا...
اگر آج ہم نے اپنی بچیوں کو سنبھالا نہیں، تو کل یہ فتنہ اور پھیل جائے گا، اور پھر رونا، چیخنا اور الزام دینا سب بے کار ہوگا، یہ سوچنے کا وقت ہے، ورنہ پچھتاوے کا وقت قریب ہے، ابھی بھی سمجھنے کا موقع ہے خدارا اپنی بچیوں کو دین پڑھاؤ، اسلام سکھاؤ، قرآن و حدیث سے رو شناس کراؤ، اور اسلام کے آئین سے روشناس کراؤ، یہی ہماری فلاح بہبود ہے،اللہ کریم عمل کی توفیق بخشے،آمین یارب العالمین....
*ایک اہم مشورہ جو ہماری بچیوں کے لیے بہتر ہے*
جب ہم کسی اسکول کالج یونیورسٹی میں اپنی بچی کو پڑھاتے ہیں تو وہ نرسری سے لیکر میرے اندازے کے مطابق 10th کلاس تک کچھ بھی نہیں سمجھ پاتی الا ماشاء اللہ، اور جنکی تعلیم یہی تک ہوتی ہے انکے پاس نا دین رہنے پاتا ہے نا دنیا اسلیے کے دسویں کلاس تک پڑھنے والی بچی کسی منصب پر فائز نہیں ہو سکتی،اور اگر دس سال تک اسی بچی کے لیے مدارس اسلامیہ میں پیسا خرچ کیا جائے تو وہ کچھ بھی نا صحیح اللہ تعالی وحدانیت ،محمد ﷺ رسالت،اور قرآن و حدیث کو کافی حد تک سمجھ سکتی ہے تو خدارا اپنی بچیوں کو دین کی تعلیم دیں،وہ روزہ، نماز، حج زکاۃ، والدین کے حقوق،شوہر کے حقوق، گھر چلانے کے طرق، اور بہت سی چیزیں عموما سیکھ جائےگیں،جو آپکے لیے بھی ذخیرہ ہوگی،اور اسکی آخرت بھی بہتر ہو جائے گی,اور اگر اسکول بھی پڑھے تو کوئی حرج کی بات نہیں بلکے سونے پر سہاگے کے مقابل ہے،اپنی بچیوں کو دیندار بھی بنائیں، اور ممکن ہو سکے تو دنیادار بھی،اور اسکے لیے پرائیویٹ سسٹم بھی ایویلول ہے،وہاں داخلہ کرائیں اور صرف پیپر کے لیے بھیجیں اور دینی تعلیم سے بلکل بہرہ ور کر دیں، انشاءاللہ العزیز وہ دن دور نہیں پھر قوم مسلم عروجیت کی طرف چڑھتی ہوئی نظر آئے گی،
اللہ کریم ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے،
آمین یارب العالمین بجاہ النبی الکریم صلی علیہ وسلم....
✍️ متعلم الجامعۃ الاشرفیہ ✍️