لَوْ أَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُتَصَدِّعًا مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ
(سورۃ الحشر: 21)

اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے جھک جاتا، پھٹ جاتا۔ یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کی ہر آیت کے ذریعے انسان کو بار بار سمجھایا، تنبیہ کی، یاد دلایا:
"اے انسان! ڈر جا، رک جا، باز آ جا، رب سے ڈر، اپنے گناہوں سے توبہ کر، نیکی کی طرف رجوع کر، برے کاموں سے ہاتھ کھینچ لے۔"

اللہ نے صرف نصیحت نہیں کی، بلکہ ساتھ ہی ساتھ دردناک عذاب کا تصور بھی پیش کیا، شاید بندہ سدھر جائے، نیکی کا راستہ اپنا لے۔
مگر انسان ہے کہ سب کچھ جان کر، سن کر، سمجھ کر بھی غفلت میں پڑا رہتا ہے۔ وہ اللہ کی مہربانیوں، اس کی مہلت کو نظر انداز کرتا ہے۔ وہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ شاید کبھی پکڑ نہ ہوگی، شاید وہ بچ جائے گا۔

اللہ رب العزت اپنے بندے کو بار بار موقع دیتا ہے، لمبی مہلت دیتا ہے، شائد یہ اب پلٹ آئے، توبہ کرے، نیکی کی راہ پر گامزن ہو۔
مگر انسان اگر کھلے عام گناہ سے بچتا ہے، تو چھپ کر وہی عمل دہراتا ہے۔
وہ بھول جاتا ہے کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے۔
بندہ چاہے جتنا بھی چھپے، اللہ تو دیکھ رہا ہے۔ اُس کی نگاہ سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔

انسان خود جانتا ہے کہ گناہ میں کوئی سکون نہیں، کوئی راحت نہیں، صرف ذلت ہے، شرمندگی ہے، اور اندھیرا ہے۔
مگر وہ بار بار شیطان کے فریب میں آ کر خود کو اس دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔

یاد رکھو! گناہ صرف ہاتھوں یا زبان سے نہیں ہوتے، خیالات اور نیتوں کے بھی گناہ ہوتے ہیں۔
لہٰذا انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے ظاہر اور باطن کو گناہ سے پاک رکھے۔
اپنے نفس پر قابو پائے، کیونکہ جو نفس کا غلام بن جاتا ہے، وہ شیطان کا شکار بن جاتا ہے۔

شیطان نفس کو ہی بہکاتا ہے، اس کی راہنمائی کرتا ہے۔
اس لیے سب سے پہلی اور اہم جنگ نفس سے ہے۔
اللہ سے ہر پل، ہر لمحہ، ہر سانس میں یہ دعا کرتے رہنا چاہیے:


"اے اللہ! ہمیں شیطان کے فریب سے محفوظ فرما، اس کی چالوں سے بچا، اور ہمیں صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھ۔"

آمین، ثم آمین۔

از قلم: بنتِ دانشلَوْ أَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُتَصَدِّعًا مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ
(سورۃ الحشر: 21)

اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے جھک جاتا، پھٹ جاتا۔ یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کی ہر آیت کے ذریعے انسان کو بار بار سمجھایا، تنبیہ کی، یاد دلایا:
"اے انسان! ڈر جا، رک جا، باز آ جا، رب سے ڈر، اپنے گناہوں سے توبہ کر، نیکی کی طرف رجوع کر، برے کاموں سے ہاتھ کھینچ لے۔"

اللہ نے صرف نصیحت نہیں کی، بلکہ ساتھ ہی ساتھ دردناک عذاب کا تصور بھی پیش کیا، شاید بندہ سدھر جائے، نیکی کا راستہ اپنا لے۔
مگر انسان ہے کہ سب کچھ جان کر، سن کر، سمجھ کر بھی غفلت میں پڑا رہتا ہے۔ وہ اللہ کی مہربانیوں، اس کی مہلت کو نظر انداز کرتا ہے۔ وہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ شاید کبھی پکڑ نہ ہوگی، شاید وہ بچ جائے گا۔

اللہ رب العزت اپنے بندے کو بار بار موقع دیتا ہے، لمبی مہلت دیتا ہے، شائد یہ اب پلٹ آئے، توبہ کرے، نیکی کی راہ پر گامزن ہو۔
مگر انسان اگر کھلے عام گناہ سے بچتا ہے، تو چھپ کر وہی عمل دہراتا ہے۔
وہ بھول جاتا ہے کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے۔
بندہ چاہے جتنا بھی چھپے، اللہ تو دیکھ رہا ہے۔ اُس کی نگاہ سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔

انسان خود جانتا ہے کہ گناہ میں کوئی سکون نہیں، کوئی راحت نہیں، صرف ذلت ہے، شرمندگی ہے، اور اندھیرا ہے۔
مگر وہ بار بار شیطان کے فریب میں آ کر خود کو اس دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔

یاد رکھو! گناہ صرف ہاتھوں یا زبان سے نہیں ہوتے، خیالات اور نیتوں کے بھی گناہ ہوتے ہیں۔
لہٰذا انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے ظاہر اور باطن کو گناہ سے پاک رکھے۔
اپنے نفس پر قابو پائے، کیونکہ جو نفس کا غلام بن جاتا ہے، وہ شیطان کا شکار بن جاتا ہے۔

شیطان نفس کو ہی بہکاتا ہے، اس کی راہنمائی کرتا ہے۔
اس لیے سب سے پہلی اور اہم جنگ نفس سے ہے۔
اللہ سے ہر پل، ہر لمحہ، ہر سانس میں یہ دعا کرتے رہنا چاہیے:

"اے اللہ! ہمیں شیطان کے فریب سے محفوظ فرما، اس کی چالوں سے بچا، اور ہمیں صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھ۔"

آمین، ثم آمین۔

از قلم: بنتِ دانش