ماں
یہ لفظ بظاہر چھوٹا ہے، محض تین حروف پر مشتمل، لیکن اس کے اندر چھپی معنویت اور وسعت سمندر سے کہیں زیادہ ہے۔
لفظ ماں کا مقام ایسا ہے کہ آج تک دنیا میں کوئی بھی اس مرتبے تک نہ پہنچ سکا۔
ایک حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے:
ایک شخص حضور اکرم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! والدین میں سب سے زیادہ خدمت اور حسنِ سلوک کا حق دار کون ہے؟" آپ ﷺ نے فرمایا: ماں۔
اس نے دوبارہ پوچھا: "اس کے بعد کون؟" فرمایا: ماں۔
اس نے تیسری مرتبہ سوال کیا: "پھر کون؟" آپ ﷺ نے فرمایا: ماں۔
چوتھی بار اس نے دریافت کیا: "اس کے بعد کون؟" آپ ﷺ نے فرمایا: باپ۔
سبحان اللہ! دیکھئے کہ ربِ کریم نے ماں کو کس عظیم مقام سے نوازا ہے۔
پوری دنیا کی محبت ایک طرف، اور ماں کا درجہ ایک طرف۔
یہ وہ ماں ہے جس کی آغوش میں بچہ سکون پاتا ہے۔
یہ وہ ماں ہے جس کی دعا عرشِ الٰہی کو ہلا دیتی ہے۔
یہ وہ ماں ہے جو اپنے بچے کے لیے پوری دنیا سے لڑ جاتی ہے۔
یہ وہ ماں ہے جس کا مقام ہر شے پر مقدم ہے۔
اسی ماں کے بارے میں قرآن نے ہمیں حکم دیا کہ:
اپنی آوازیں اس کے سامنے پست رکھو۔
لہجہ نرم رکھو۔
نظریں جھکا کر بات کرو۔
اس کے ساتھ ادب و احترام سے پیش آؤ۔
یہی وہ ماں ہے جس کے قدموں تلے جنت رکھی گئی ہے۔
مگر افسوس! آج کی نئی نسل اسی ماں کے احترام سے غافل ہے۔
اونچی آواز میں بات کرنا، ماں کی باتوں کو نظر انداز کرنا، خدمت میں کوتاہی برتنا۔۔۔ کیا یہ سب قیامت کی نشانیاں نہیں؟
جس ماں کے مقام کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے قرآن و حدیث میں بار بار ذکر فرمایا، آج ہم اسی ماں کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے کہ والدین کے لیے دعا کرتے رہو، یہاں تک کہ ان کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد بھی ان کے لیے مغفرت طلب کرو:
> رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
(اے پروردگار! ان پر رحم فرما، جیسا کہ انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی)
پس لازم ہے کہ:
اگر ماں زندہ ہے تو زندگی کو اس کی خدمت کے لیے وقف کر دو۔
اگر ماں اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہے تو اسے ایصالِ ثواب کرو، قرآن پڑھ کر بخشو، اور کثرت سے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہو۔
ماں حقیقت میں وہ ہستی ہے جس کا حق کبھی ادا نہیں ہو سکتا۔
لیکن آج ہم اسی چیز سے غافل ہے
اللہ ہم سب کو اپنے والدین کی خدمت کرنے کا موقع عطا فرما آمین ثم آمین
از قلم بنت دانش