شبِ معراج اور امت مسلمہ کا بدلتا ہوا قبلہ
18 جنوری، 2026
شبِ معراج اور امتِ مسلمہ کا بدلتا ہوا قبلہ
اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کو جن عظیم نعمتوں سے نوازا ہے، ان میں شبِ معراج ایک منفرد اور بے مثال مقام رکھتی ہے۔ یہ رات صرف رسولِ اکرم ﷺ کے عظیم معجزے کی یاد نہیں بلکہ پوری امت کے لیے پیغام، ذمہ داری اور محاسبے کی رات ہے۔ شبِ معراج ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ اسلام کا رشتہ محض دعوؤں سے نہیں بلکہ اطاعت، عبادت اور عملی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ اسی رات امتِ محمدیہ ﷺ کو نماز جیسا عظیم فریضہ عطا ہوا۔وہ نماز جو بندے کو رب سے جوڑتی ہے، جو ایمان کی علامت اور دین کی بنیاد ہے۔ مگر آج نہایت دکھ اور افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ امتِ مسلمہ، بالخصوص نوجوان نسل، اس عظیم تحفے سے غفلت برت رہی ہے۔ ہمارا قبلہ آہستہ آہستہ بدلتا جا رہا ہے؛ مسجد کی جگہ دنیاوی مشاغل نے لے لی ہے اور سجدے کی جگہ خواہشات نے۔
شبِ معراج ہم سے سوال کرتی ہے کہ جس نماز کے لیے نبی ﷺ کو آسمانوں پر بلایا گیا، کیا ہم نے اسے اپنی زندگی کی ترجیحات سے نکال دیا؟ اگر آج ہم نے اپنے قبلے کی سمت درست نہ کی تو یہ غفلت صرف فرد کی نہیں، پوری امت کے زوال کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب امت کو رک کر سوچنا اور لوٹ کر راستہ درست کرنا ہوگا۔ شبِ معراج کی سب سے بڑی خصوصیت اور امتِ محمدیہ ﷺ کے لیے سب سے عظیم تحفہ نماز ہے۔ یہ کوئی معمولی عبادت نہیں بلکہ وہ واحد فریضہ ہے جو زمین پر نازل نہیں ہوا بلکہ آسمانوں کی بلندیوں میں عطا کیا گیا۔ نبی کریم ﷺ کو بارگاہِ الٰہی میں بلا کر یہ پیغام دیا گیا کہ نماز مومن کی زندگی کا مرکز ہوگی، اس کے ایمان کی علامت ہوگی اور اس کے دین کی بنیاد ہوگی۔
نماز محض چند حرکات و سکنات کا نام نہیں، بلکہ یہ بندے اور رب کے درمیان براہِ راست تعلق کا ذریعہ ہے۔ یہی وہ عبادت ہے جو انسان کو گناہوں سے روکتی ہے، اس کے اخلاق کو سنوارتی ہے، اس کی فکر کو درست کرتی ہے اور اس کے کردار کو مضبوط بناتی ہے۔ قرآنِ کریم میں بار بار نماز قائم کرنے کا حکم اسی لیے دیا گیا کہ نماز کے بغیر ایمان کی حفاظت ممکن نہیں۔ اسلام میں نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلا سوال نماز ہی کے بارے میں ہوگا۔ اگر نماز درست ہوئی تو باقی اعمال کا حساب آسان ہوگا، اور اگر نماز ہی ضائع ہو گئی تو پھر کسی اور نیکی کے قبول ہونے کی امید باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ بزرگانِ دین نے فرمایا کہ نماز دین کا ستون ہے؛ ستون گر جائے تو عمارت خود بخود زمین بوس ہو جاتی ہے۔
نماز اور مومن کا تعلق روح اور جسم جیسا ہے۔ جس طرح روح کے بغیر جسم زندہ نہیں رہ سکتا، اسی طرح نماز کے بغیر ایمان زندہ نہیں رہ سکتا۔ کوئی شخص خود کو مسلمان کہے مگر نماز کو ترک کرے تو اس کا یہ دعویٰ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے شبِ معراج ہمیں شدت کے ساتھ یاد دلاتی ہے۔ لہٰذا اگر امتِ مسلمہ واقعی معراج کے پیغام کو سمجھنا چاہتی ہے تو سب سے پہلے نماز کو اپنی زندگی میں قائم کرنا ہوگا۔ نماز ہی وہ امانت ہے جس کے ذریعے ہمارا قبلہ درست ہو سکتا ہے، ہمارا ایمان محفوظ رہ سکتا ہے اور ہماری دنیا و آخرت سنور سکتی ہے۔
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ آج امتِ مسلمہ، بالخصوص نوجوان نسل، ایک شدید غفلت کے دور سے گزر رہی ہے۔ یہ غفلت اچانک پیدا نہیں ہوئی، بلکہ آہستہ آہستہ ہماری زندگیوں میں سرایت کرتی چلی گئی، یہاں تک کہ ہم نے اسے معمول سمجھ لیا۔ آج ہم نماز چھوڑتے ہیں، مگر ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا؛ عبادت سے دور رہتے ہیں، مگر ضمیر ہمیں ملامت نہیں کرتا۔ یہی وہ خطرناک مرحلہ ہے جہاں گناہ گناہ نہیں رہتا بلکہ عادت بن جاتا ہے۔ آج ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دنیا ہماری ترجیح بن چکی ہے اور آخرت ایک مؤخر خیال۔ مال، عہدہ، شہرت، آرام اور عیش و عشرت کے حصول میں ہم نے اپنے اصل مقصد کو فراموش کر دیا ہے۔ مقدس راتیں، جو توبہ، گریہ و زاری اور رجوع الی اللہ کے لیے ہوتی تھیں، آج غفلت، لہو و لعب اور بے مقصد مشاغل میں ضائع ہو رہی ہیں۔ شبِ معراج جیسی عظیم رات بھی ہمارے لیے محض ایک تاریخ یا تعطیل بن کر رہ گئی ہے۔
مسلمانوں کی اس غفلت کا سب سے نمایاں اظہار نماز سے دوری کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ مساجد آباد نہیں، صفیں خالی ہیں، فجر اور عشاء جیسے اوقات میں نمازی ڈھونڈے نہیں ملتے۔ گھروں میں نماز کا ماحول نہیں، والدین خود غفلت میں ہیں اور اولاد کو بھی اسی غفلت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ نہ بچوں کو نماز کی تلقین ہے، نہ نوجوانوں کو احساس، نہ بزرگوں کو فکر۔ اس غفلت میں جدید ذرائع نے مزید اضافہ کر دیا ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا، آن لائن گیمنگ، بے مقصد تفریح اور فحش مواد نے ہماری توجہ، وقت اور فکر سب چھین لی ہے۔ نوجوان راتوں کو جاگتے ہیں، مگر اللہ کے لیے نہیں؛ آنکھیں کھلی رہتی ہیں، مگر سجدے کے لیے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دل سخت ہو چکے ہیں اور روحانی حساسیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم نے دین کو بھی اپنی سہولت کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ جو عبادت آسان لگے، وہ قبول؛ جو نفس پر بھاری پڑے، وہ ترک۔ نماز چونکہ پابندی مانگتی ہے، نظم چاہتی ہے اور نفس کو جھکاتی ہے، اس لیے سب سے پہلے اسی کو چھوڑ دیا گیا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں قبلہ بدلتا ہے مسجد سے بازار کی طرف، سجدے سے خواہش کی طرف، اور رب کی رضا سے نفس کی رضا کی طرف۔ یہ غفلت صرف انفرادی نقصان نہیں بلکہ اجتماعی زوال کا پیش خیمہ ہے۔ جب نماز چھوٹتی ہے تو کردار کمزور ہوتا ہے، جب کردار گرتا ہے تو معاشرہ بکھرتا ہے، اور جب معاشرہ بکھر جاتا ہے تو قوم ذلت کا شکار ہو جاتی ہے۔ شبِ معراج ہمیں اسی زوال سے خبردار کرنے آئی تھی، مگر ہم نے اس کے پیغام کو سنجیدگی سے نہ لیا۔ اگر امتِ مسلمہ نے اب بھی اس غفلت سے بیدار ہونے کی کوشش نہ کی تو یہ دوری مزید گہری ہوتی جائے گی۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ہم خود کو ٹٹولیں، اپنی ترجیحات کا جائزہ لیں اور یہ فیصلہ کریں کہ ہمارا قبلہ واقعی وہی ہے جس کی طرف ہمیں رخ کرنے کا حکم دیا گیا تھا یا نہیں۔
جب امتِ مسلمہ غفلت کے اس مقام تک پہنچ جائے جہاں نماز چھوٹنے لگے، عبادت بے معنی ہو جائے اور مقدس راتیں بھی اصلاح کے بجائے غفلت میں گزرنے لگیں، تو سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نجات کا راستہ کیا ہے؟ کیا واپسی ممکن ہے؟ کیا بگڑا ہوا حال سنور سکتا ہے؟ اس کا جواب نہایت واضح ہے: ہاں، اگر سچی توبہ ہو، ارادہ مضبوط ہو اور قبلۂ زندگی کو درست کر لیا جائے۔ اسلام ہمیں مایوسی کا درس نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ انسان اپنی کوتاہی کو تسلیم کرے، اپنے گناہ پر نادم ہو اور آئندہ کے لیے اپنے آپ کو بدلنے کا پختہ عزم کرے۔ شبِ معراج اسی امید کا پیغام لے کر آتی ہے کہ بندہ چاہے کتنا ہی دور کیوں نہ چلا گیا ہو، ایک سچا سجدہ اسے پھر سے رب کے قریب کر سکتا ہے۔
اس اصلاح کی پہلی اور بنیادی شرط نماز کی پابندی ہے۔ نماز صرف ایک عبادت نہیں بلکہ پورے دینی نظام کی کنجی ہے۔ جب نماز قائم ہوتی ہے تو باقی اعمال خود بخود اپنی جگہ پر آنے لگتے ہیں۔ نماز انسان کو وقت کا پابند بناتی ہے، نظم سکھاتی ہے، نفس کو جھکاتی ہے اور گناہوں سے روکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے نماز کو فحاشی اور برائی سے روکنے والا عمل قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ہم اپنی سوچ، اپنی ترجیحات اور اپنے معمولات کا جائزہ لیں۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہماری زندگی کا مرکز کیا ہے: مسجد یا بازار، سجدہ یا اسکرین، اللہ کی رضا یا نفس کی خواہش؟ جب تک یہ فیصلہ واضح نہ ہوگا، اصلاح محض ایک نعرہ بن کر رہ جائے گی۔ نوجوانوں کو خاص طور پر یہ سمجھانا ہوگا کہ اصل کامیابی ڈگری، دولت یا شہرت میں نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت میں ہے۔
اصلاح کا ایک اہم زاویہ خاندانی ماحول بھی ہے۔ والدین اگر خود نماز کے پابند ہوں گے تو اولاد خود بخود اس راستے پر آئے گی۔ گھروں میں نماز کا اہتمام، دینی گفتگو، اور عبادت کا ماحول پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی طرح مساجد، مدارس اور دینی اجتماعات کو بھی نوجوانوں سے جوڑنے کی سنجیدہ کوشش کرنا ہوگی۔ آخر میں یہ حقیقت ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ نجات کا راستہ کوئی پیچیدہ فلسفہ نہیں بلکہ سادہ، واضح اور آزمودہ ہے: اللہ کی طرف رجوع، رسول ﷺ کی سنت کی پیروی، اور نماز کی پابندی۔ اگر امتِ مسلمہ، خاص طور پر اس کا نوجوان طبقہ، اپنے بدلتے ہوئے قبلے کو دوبارہ درست کر لے تو نہ صرف انفرادی زندگیاں سنور سکتی ہیں بلکہ پوری امت اپنا کھویا ہوا وقار واپس پا سکتی ہے۔ شبِ معراج ہمیں یہی پیغام دیتی ہے کہ واپسی ممکن ہے، مگر شرط یہ ہے کہ ہم سجدے کا راستہ اختیار کریں۔
شبِ معراج ہمیں یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ نماز دین کی بنیاد اور مومن کی پہچان ہے، اس لیے ہمیں نماز کو اپنی زندگی کا مرکز بنانا چاہیے۔ ہمیں سستی، غفلت اور دنیا کی دوڑ میں عبادت کو ترک نہیں کرنا چاہیے۔ مقدس راتوں کو لہو و لعب، بے مقصد تفریح اور گناہوں میں ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ توبہ، دعا اور عبادت میں گزارنا چاہیے۔ ہمیں اپنے قبلہ فکر کو درست کرنا چاہیے؛ مسجد، قرآن اور سنت کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے، نہ کہ خواہشات، اسکرین اور دنیاوی مشاغل کو۔ ہمیں نوجوانوں کو نماز کا عادی بنانا چاہیے، گھروں میں دینی ماحول قائم کرنا چاہیے اور خود عمل کر کے مثال بننا چاہیے۔
ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نماز کے بغیر ایمان کمزور ہو جاتا ہے، اس لیے نماز کو معمولی سمجھنا یا چھوڑ دینا نہیں چاہیے۔ ہمیں ہر اُس چیز سے بچنا چاہیے جو ہمیں نماز اور اللہ کی یاد سے غافل کرے چاہے وہ سوشل میڈیا ہو، بے جا تفریح ہو یا بری صحبت۔ شبِ معراج ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم سچے دل سے توبہ کریں، اللہ کی طرف لوٹ آئیں اور آج ہی یہ فیصلہ کریں کہ ہمارا قبلہ وہی ہوگا جس کی طرف ہمیں جھکنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہی راستہ ہماری نجات، کامیابی اور عزت کی ضمانت ہے۔
تحریر: محمد فداء المصطفٰی قادری
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، ملاپورم، کیرالا
بتاریخ: 18/01/2027
28 رجب المرجب 1447