🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ

خاموشی محض لفظوں کی غیر موجودگی کا نام نہیں، یہ ایک شعوری کیفیت ہے، ایک ایسا انتخاب جو انسان اکثر بے آواز مگر پورے شعور کے ساتھ کرتا ہے۔

جہاں ہر زبان بولنے پر تُلی ہو، وہاں خاموش رہنا خود کو سنبھال لینے کا ہنر بن جاتا ہے۔

خاموشی کمزوری نہیں، شعور کی وہ منزل ہے جہاں انسان بولنے کے بجائے خود کو تھام لیتا ہے۔

ہر بات کہہ دینا آسان ہے، مگر ہر بات کہنے کا وقت اور مقام پہچاننا دانائی ہے۔

اسی دانائی کا نام اکثر خاموشی بن جاتا ہے ایک ایسا فیصلہ جو زبان نہیں، بصیرت کرتی ہے۔

کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جہاں الفاظ معنی کھو دیتے ہیں۔ نہ وضاحت مسئلہ حل کرتی ہے، نہ دلیل دل بدلتی ہے۔ تب خاموش رہ جانا نفس کی تربیت بن جاتا ہے، اور انسان شور سے بچ کر اپنے اندر کی آواز سن لیتا ہے۔

یہ خاموشی شکست نہیں، بلکہ اپنے وقار کو محفوظ رکھنے کی کوشش ہوتی ہے۔

خاموشی کبھی برداشت کا لباس اوڑھ لیتی ہے اور کبھی حکمت کی چادر۔ جو شخص ہر موقع پر بولتا نہیں، وہ ہر بات سمجھتا ہے۔

وہ جانتا ہے کہ کچھ جواب وقت پر چھوڑ دینا ہی بہتر ہوتا ہے، کہ ہر سچ ہر کان کے لیے نہیں، اور ہر دلیل ہر مجلس کے لیے نہیں۔

یوں خاموشی، ضبطِ نفس کی صورت اختیار کر لیتی ہے ایسا ضبط جو انسان کو ٹوٹنے سے بچا لیتا ہے۔

لیکن خاموشی کا انتخاب ہمیشہ سہل نہیں ہوتا۔ یہ فیصلہ اکثر اندر ہی اندر بہت کچھ سہنے کے بعد لیا جاتا ہے۔

آنکھوں میں ٹھہرے سوال، دل میں رکے شکوے، اور لبوں پر آ کر لوٹ جانے والے لفظ یہ سب خاموشی کی قیمت ہوتے ہیں۔

پھر بھی انسان خاموش رہتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ شور بڑھانے سے زخم بھرنے کے بجائے گہرے ہو جاتے ہیں۔

خاموشی کبھی صبر کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اور کبھی حکمت کی۔

جو شخص خاموش رہنے کا ہنر جانتا ہے، وہ جانتا ہے کہ ہر اختلاف جنگ نہیں ہوتا اور ہر خاموشی ہار نہیں۔

بعض اوقات نہ بولنا ہی سب سے مؤثر جواب ہوتا ہے ایسا جواب جو دلوں پر بوجھ نہیں بنتا۔

یوں خاموش رہ جانا بھی ایک فیصلہ ہے؛ ایسا فیصلہ جو انسان کو بے مقصد گفتگو سے بچاتا ہے، رشتوں کو ٹوٹنے سے روکتا ہے، اور دل کو سکون عطا کرتا ہے۔

یہ فیصلہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب الفاظ فائدہ نہ دیں، تو خاموشی ہی سب سے بلیغ کلام ہوتی ہے۔