بسم اللہ الرحمن الرحیم 
یہ کس کی صدا ہے کہ سنتے ہی دل کانپ اٹھتا ہے ؟
   مضمون (72)
یہ کوئی عام صدا نہیں جو کانوں سے ٹکرا کر گزر جائے، یہ وہ آواز ہے جو جب گونجتی ہے تو انسان کے یقین، اس کے دعووں اور اس کے انجام-سب کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتی ہے۔ یہ صدا نہ وقت کی قید میں ہے اور نہ جگہ کی محتاج؛ یہ صدا اس دن بھی گونجی تھی جب آدمؑ کو زمین پر اتارا گیا، اور آج بھی ہر اس دل میں گونج رہی ہے جو زندہ ہے یا زندہ ہونے کا دعویدار ہے۔
یہ وہ صدا ہے جو انسان سے پوچھتی ہے:
کیا تم واقعی ایمان والے ہو یا محض نام کے؟
کیا تم نے اسلام کو نظامِ حیات بنایا ہے یا رسمِ عبادت؟
یہ آواز نہ خوشامد کرتی ہے، نہ رعایت دیتی ہے؛ یہ صدا سیدھی بات کرتی ہے، دوٹوک فیصلہ سناتی ہے اور انسان کو اس کے انجام سے بے نقاب کر دیتی ہے۔ یہی وہ صدا ہے جو ضمیر کو بیدار کرتی ہے، منافقت کو چیرتی ہے، اور ایمان کے کھوکھلے دعووں کو زمین پر دے مارتی ہے۔
یہ مضمون اسی صدا کی بازگشت ہے-
وہ صدا جو سنتے ہی دل کانپ اٹھتا ہے،
اور جسے سن کر بھی اگر انسان نہ جاگے،
تو پھر اس کی غفلت کا کوئی عذر باقی نہیں رہتا۔
آج کا سب سے بڑا فکری بحران یہ ہے کہ ایمان کو زبان کا اقرار اور اسلام کو سماجی شناخت سمجھ لیا گیا ہے۔ قرآن کریم اس خوش فہمی کو بے نقاب کرتے ہوئے فرماتا ہے:
﴿قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا﴾
(الحجرات: 14)
یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ ایمان محض لفظ نہیں بلکہ دل میں اترنے والی حقیقت اور عمل میں ڈھلنے والا عہد ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں اکثر لوگ ٹھوکر کھاتے ہیں۔ صدا یہی ہے کہ اسلام کو ماننا کافی نہیں، اس پر پورا پورا اترنا لازم ہے۔
ایمان کے بعد آزمائش: ناگزیر حقیقت
یہ صدا انسان کو یاد دلاتی ہے کہ ایمان سہولت کا نہیں، امتحان کا راستہ ہے:
﴿أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ﴾
(العنکبوت: 2)
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ 
. دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت. 
(ترمذي/كتاب الزهد 2324) 
یہاں ایمان کی قیمت واضح ہو جاتی ہے۔ ایمان کردار مانگتا ہے، قربانی مانگتا ہے اور خواہشات کی قربانی چاہتا ہے۔
ایمان کوئی احسان نہیں
یہ صدا غرور کو توڑتی ہے اور اعلان کرتی ہے:
﴿إِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنكُمْ﴾
(الزمر: 7)
انسان ایمان لا کر کسی پر احسان نہیں کرتا بلکہ خود اپنی نجات کا راستہ چنتا ہے۔ دین صرف کوئی ذاتی پسند نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔
اسلام کو ٹکڑوں میں بانٹ دینا سب سے بڑی فکری خیانت ہے۔ قرآن حکم دیتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً﴾
(البقرۃ: 208)
یہ آیت اعلان ہے کہ اسلام عبادات، اخلاق، معاملات اور اجتماعی زندگی - سب کا مجموعہ ہے۔ یہاں سہولت کے مطابق انتخاب کی کوئی گنجائش نہیں۔
یومِ حساب: فیصلہ کن دن ہے. 
یہ صدا ہمیں اس دن کی یاد دہانی کراتی ہے جس دن کوئی سہارا باقی نہیں رہے گا (يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ﴾
(الشعراء: 88)
اور (الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰ أَفْوَاهِهِمْ) 
(یٰس: 65)
یہ وہ دن ہوگا جب انسان کے اپنے اعضاء اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ کوئی پردہ باقی نہیں رہے گا۔
دین رسم نہیں، احتساب ہے
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:الْكَيْسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ تَعَالَى»
.عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور آخرت کے لیے عمل کرے”
(ترمذی ن185)
یہ حدیث اس صدا کی عملی تفسیر ہے۔ ایمان کا اصل امتحان عمل ہے، نہ کہ دعویٰ۔
اختیار بھی ہے، انجام بھی
قرآن کہتا ہے:
﴿فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ﴾
(الکہف: 29)
مگر ساتھ ہی خبردار کرتا ہے:
﴿إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ﴾
(البروج: 12)
یہ صدا انصاف بھی ہے اور انتباہ بھی۔
آخرکار یہ صدا انسان کو کسی تیسرے راستے پر نہیں چھوڑتی۔ یہ واضح کر دیتی ہے کہ ایمان یا تو مکمل اطاعت کا نام ہے، یا پھر کھلا انکار۔ یہاں آدھا سچ، آدھی وفاداری اور آدھا اسلام نہیں چلتا۔
قرآن نے فیصلہ سنا دیا ﴿فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۝ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ (الزلزال: 7–8)
یہ وہ میزان ہے جہاں کوئی تعلق، کوئی لقب، کوئی فریب کام نہیں آئے گا۔
وہ دن انسان کو اس کی اصل حیثیت دکھا دے گا. 
نہ زبان بولے گی، نہ تاویل چلے گی، نہ پردہ باقی رہے گا۔
یہ صدا آج بھی پکار رہی ہے:
جاگو، سنبھلو اور لوٹ آؤ!
کیونکہ جو اس آواز کو سن کر بدل گیا، وہی کامیاب ہے،
اور جو اسے سن کر بھی غافل رہا-
وہ خود اپنی ناکامی کا معمار ہے۔
یہ کس کی صدا ہے؟
یہ ربِ کائنات کی صدا ہے. جو ایمان کو عمل مانگتی ہے، اور عمل کے بغیر کسی دعوے کو درجۂ قبولیتِ کاملہ تک پہنچنے نہیں دیتی۔
    بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com