اللہ تعالی نے انسان کو جن نعمتوں سے سرفراز فرمایا ہے ان میں سے ایک عظیم نعمت زبان ہے اس پر ہم اللہ رب العزت کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے زبان قلوب و اذہان کی ترجمان ہے یہ مرہم بھی ہے اور خنجر بھی اسکا صحیح استعمال حصول ثواب کا ذریعہ اور کامیابی کا سبب ہے،اور غلط استعمال جیسے جھوٹ بولنا کسی کی عیب جوئ کرنا غیبت کرنا کسی کی دل آزاری کرنا وغیرہ ہماری دنیا اور آخرت دونوں تباہ و برباد کر سکتے ہیں زبان کا فساد ہی تمام تر برائیوں کی جڑ ہے اس سے بہتر ہے کہ انسان خاموش ہی رہے کیونکہ خاموشی بھی نجات کا باعث ہے یہی وجہ ہے کہ احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم میں زبان کی اصلاح کو ضروری قرار دیا گیا ہے زبان کی اہمیت کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بڑی اہمیت کا حامل ہے
سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
*مَنْ کَانَا یُؤمنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَالْیَقُلْ خَیْراً اَوْ لِیَصْمُتْ* 
جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیۓ اچھی بات کرے یا پھر خاموش رہے.
یعنی اللہ تعالی کی عطا کردہ اس نعمت کا استعمال اگر خیر کے کاموں میں کرسکے اور زبان سے اچھی باتیں کہ سکے تو یہ اسکے حق میں بہتر ہے ورنہ خاموشی ہی بہتر ہے
اہل ایمان کی گفتگو برائ سے پاک اور پُر تاثیر ہوا کرتی ہے وہ ہمیشہ فضولیات سے احتراز کرتے ہیں اسی لیۓ وہ مصائب سے بھی محفوظ رہتے ہیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا فضول باتوں کو چھوڑ دینا آدمی کے اسلام کی اچھائ کی دلیل ہے
سیدنا ابو موسیٰ رضی للہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں میں سے کون افضل ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا 
*مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہ وَیَدِہ*
کامل مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں

✍️بنت شہاب💫