عصری تعلیم میں انگریزی کو ذریعۂ تعلیم بنانے کا مسئلہ

✍🏻 محمد عادل ارریاوی 
______________________________
محترم قارئین موجودہ دور میں تعلیم کے معیار کو جانچنے کے لیے زبان کو بنیادی پیمانہ بنا لیا گیا ہے اور خصوصاً انگریزی زبان کو کامیاب تعلیم اور ذہنی ترقی کی علامت سمجھا جانے لگا ہے اسی تصور کے تحت عصری تعلیمی اداروں میں بیشتر علوم کی تدریس انگریزی زبان میں کی جا رہی ہے حالانکہ یہ رویہ کئی تعلیمی اور فکری مسائل کو جنم دے رہا ہے زیر نظر مضمون میں اسی غلط فہمی کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس حقیقت کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ علوم کی اصل کامیابی زبان نہیں بلکہ فہم اور ادراک پر منحصر ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں عصری تعلیمی اداروں میں یہ تصور عام ہو چکا ہے کہ تعلیم کی کامیابی اور طالب علم کی ذہنی و علمی نشوونما کا انحصار مکمل طور پر انگریزی زبان پر ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انگریزی اس وقت ایک عالمی زبان کی حیثیت رکھتی ہے اور دنیا بھر میں اسے جو وسعت اور قبولیت حاصل ہے وہ کسی اور زبان کے حصے میں نہیں آئی لیکن اس حقیقت کو بنیاد بنا کر یہ نتیجہ اخذ کر لینا کہ تمام جدید علوم و فنون میں مہارت حاصل کرنے کے لیے بچے کو ابتدا ہی سے ہر مضمون انگریزی زبان میں پڑھانا ناگزیر ہے ہماری نظر میں ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ سائنس ریاضی معاشرتی علوم اسلامیات اور دیگر مضامین کو سمجھنے اور سیکھنے کے لیے نہ تو انگریزی زبان پر مکمل عبور ضروری ہے اور نہ ہی انگریزی جانے بغیر ان علوم کا حصول ناممکن ہے دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک ایسے ہیں جہاں یہ تمام مضامین ان کی قومی اور مادری زبان میں پڑھائے جاتے ہیں اور وہاں اس کے نہایت مثبت اور مؤثر نتائج سامنے آ رہے ہیں
حقیقت یہ ہے کہ جدید تعلیمی نظام میں انگریزی زبان کی اہمیت دیگر مضامین سے بڑھ کر نہیں ہے اس کا تقاضا یہ ہونا چاہیے کہ انگریزی کو بھی سائنس ریاضی اور معاشرتی علوم کی طرح ایک مستقل مضمون کے طور پر پڑھایا جائے نہ کہ تمام علوم کی تعلیم تفہیم اور ترسیل کو اسی زبان کا محتاج بنا دیا جائے جیسا کہ آج کل عام طور پر کیا جا رہا ہے۔ اس طریقۂ کار کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ بچے پر ابتدا ہی سے ایک اجنبی اور غیر مادری زبان سیکھنے کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے اس کے نتیجے میں بچے کی ذہنی توانائیاں اور محنت جو اصل میں دیگر علوم و فنون کو سمجھنے پر صرف ہونی چاہئیں انگریزی زبان کے الفاظ جملوں اور مفاہیم کو سمجھنے میں ضائع ہو جاتی ہیں یوں طالب علم دوسرے مضامین میں وہ مہارت صلاحیت اور گہرائی حاصل نہیں کر پاتا جس کی اسے اشد ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی ابتدائی درجے کے بچے کو یہ بات سمجھانی ہو کہ دو اور دو چار ہوتے ہیں تو جب یہی بات انگریزی میں ٹو پلس ٹو از فور کے ذریعے سکھائی جائے گی تو بچے کو اس سادہ مفہوم کو سمجھنے کے لیے تین اجنبی الفاظ اور ان کے معانی سیکھنے پڑیں گے ٹو پلس اور فور یہ تو ایک نہایت سادہ مثال ہے جیسے جیسے تعلیم کا درجہ بلند ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے یہ دشواریاں مزید بڑھتی چلی جاتی ہیں ہم نے کئی اسکولوں اور اکیڈمیوں کا مشاہدہ کیا ہے بہت سے بچوں کو سائنس اور دیگر مضامین کی کتابوں کے الفاظ محض رٹتے ہوئے دیکھا ہے بچہ مسلسل رٹتے رٹتے تھک جاتا ہے مگر الفاظ اس کے ذہن میں صحیح طور پر محفوظ نہیں ہو پاتے اور اگر یاد ہو بھی جائیں تو زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتے اور اگر کسی حد تک رہ بھی جائیں تو ان کے حقیقی معنی اور مفہوم کی سمجھ اس سے بہت دور ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر سائنس یا کسی اور مضمون کا مفہوم بچے کو اس کی مادری یا قومی زبان میں سادہ اور واضح انداز میں سمجھا دیا جائے تو اگرچہ وہ مخصوص اصطلاحات یاد نہ بھی کر سکے تب بھی اصل مقصد بآسانی حاصل ہو جاتا ہے مزید یہ کہ بچہ اسی مفہوم کو اپنی زبان کے مختلف مترادف الفاظ میں بیان کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر لیتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ عصری علوم کی تعلیم کا معیار مکمل طور پر انگریزی زبان سے وابستہ کر دینا ایک سراسر غلط رویہ ہے اس مسئلے پر سنجیدہ غور و فکر اور نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے اور اس سلسلے میں اہل دانش اور ذمہ دار طبقے کو مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
اے اللہ ربّ العزت ہمیں علم نافع عطا فرما صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق دے اور ہماری کوششوں کو قبول فرما آمین یارب العالمین ۔