اس دنیا میں ہر انسان کامیابی اور کامرانی کا خواہاں ہے اور عزت و جلال کا خواہاں ہے اور پھر وہ اپنے مقصد کے حصول اور اپنے مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے؛ جبکہ حقیقی کامیابی اور حقیقی عزت سنت نبوی کی پیروی میں مضمر اور پوشیدہ ہے، یہی وجہ ہے کہ پیارے صحابہ کرام نے خوشی اور تمنا کے ساتھ سنت کی پیروی اور اطاعت رسول کو اپنا نصب العین بنایا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر قسم کی سربلندی و سرفرازی سے نوازا اور مجھے دنیا کی فتح و نصرت سے نوازا۔ لیکن ہمارے دور میں دنیا کے مسلمان ایسے آفات و مصائب پر کھڑے ہیں کہ دنیا کے لیے رسوائی، زمانے کے لیے کھیل اور باہر والوں کے لیے تماشہ بن گئے ہیں۔ وجہ صرف یہ ہے کہ سنت رسول سے رشتہ ٹوٹ گیا ہے اور یہ سچائی بھی اپنی جگہ:۔
(1) مثال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام: 177
زمانہ جوں جوں دور نبوت سے دور ہوتا جا رہا ہے، اسی طرح سنتوں سے بے توقیری اور عدم توجہی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور مسواک کے معاملے میں بھی وہی غفلت کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت اس سنت کو ادا کرنے میں غافل اور لاپرواہ نظر آتی ہے۔ کیونکہ اکثر مسلمان مسواک کی فضیلت، اس کے فوائد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے واقف نہیں ہیں اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے فضائل و فوائد کو جانتے ہوئے بھی اپنے عمل میں سستی اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور محض غفلت اور کاہلی کی وجہ سے اس کا خیال نہیں رکھتے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بعض ایسے محروم اور کم نصیب لوگ ہیں جو مسواک جیسی عظیم ترین سنت کو معمولی اور غیر اہم سمجھتے ہیں اور سنت کو چھوڑنے کی لعنت میں پھنس جاتے ہیں۔ البتہ کسی بھی سنت کو تحقیر اور استخفاف سے چھوڑنا ایمان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے، ایک شخص اسلام سے خارج ہے جو خالق، گھر اور محبوب ہے، جہاں حدیث مبارک میں عیسوی ایلام نے جن چھ لوگوں پر لعنت کی ہے، وہیں سنت کو چھوڑنے والا بھی ہے
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "سِتَّةٌ لَعَنَهُمُ اللَّهُ وَلَعَنَهُمْ
اللّٰهُ وَكُلُّ نَبِيٍّ يُجَابُ: الزَّائِدُ فِي كِتَابِ اللّٰهِ وَالْمُكَذِّبُ بِقَدَرِ اللّٰہ وَالْمُتَسَلِّطُ بِالْجَبَرُوتِ لِيُعِزَّ مَنْ أَذَلَّهُ اللّٰهُ وَيُذِلَّ مَنْ أَعَزَّهُ اللّٰهُ وَالْمُسْتَحِلُّ لِحَرَمِ اللّٰهِ وَالْمُسْتَحِلُّ مِنْ عِتْرَتِي مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَالتَّارِكُ لِسُنَّتِي" (۱)
ہاں! دن دار اور اہل علم میں بھی الا ما شاء اللہ! ایک محدد طبقہ اس مسنون عمل کا پابند ہے، اور اہتمام کرتا ہے۔
وَفِي ذَلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ۔
مشکوۃ المصابیح کتاب الایمان حدیث نمبر ١٠٩
مفتی صادق امین قاسمی