دلِ مومن کی زندگی اور اس کی بقا کا راز اس کی پاکیزگی اور تزکیہ میں پوشیدہ ہے۔ جب دل صاف اور زندہ ہو تو عبادت میں لذت پیدا ہوتی ہے، اور جب دل غفلت کا شکار ہو جائے تو اعمال محض صورت بن کر رہ جاتے ہیں۔ عبادات میں کوئی عبادت نماز جیسی نہیں جو دل کی صفائی، اس کی تربیت اور اس کے نکھار کا یہ درجہ رکھتی ہو۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نماز میں بندہ جس طرح اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور جس قربِ خاص کو محسوس کرتا ہے، وہ کیفیت دوسری عبادات میں اس شان کے ساتھ نصیب نہیں ہوتی۔ نماز گویا بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک زندہ ملاقات ہے، جس میں دل کو سیرابی اور روح کو تازگی ملتی ہے۔
ابنِ خزیمہ میں حضرت ابو عبداللہ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہؓ کے ساتھ نماز ادا فرمائی، پھر ان کے ایک حلقے میں تشریف فرما ہوئے۔ اسی دوران ایک شخص آیا اور نماز پڑھنے لگا، مگر وہ رکوع اور سجدے نہایت جلدی جلدی ادا کر رہا تھا، گویا زمین کو ٹھونگیں مار رہا ہو۔ یہ منظر دیکھ کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص رکوع اور سجدے اس طرح جلدی میں کرتا ہے، اس کی مثال اس بھوکے انسان کی سی ہے جو بس ایک یا دو کھجوریں کھا لے۔ بھلا اس سے کیا طاقت حاصل ہو سکتی ہے؟”
یہ مثال نہایت بلیغ اور گہری ہے، کیونکہ جس طرح جسم کو بھوک لگتی ہے، اسی طرح دل بھی بھوک محسوس کرتا ہے۔ اور دل کی اصل غذا عبادت ہے۔ جو شخص رکوع و سجود میں ٹھہراؤ اور خشوع اختیار نہیں کرتا، وہ دل کو اس کی پوری غذا نہیں دے پاتا، نتیجتاً دل کمزور پڑ جاتا ہے، بیمار ہو جاتا ہے، پھر اس پر روحانی امراض غالب آ جاتے ہیں، اور کبھی تو دل کی زندگی ہی ختم ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس انجام سے محفوظ رکھے۔
جس طرح روزے کا مقصد نفس کی پاکیزگی ہے، زکوٰۃ کا مقصد مال کی صفائی ہے، اور حج کا حاصل گناہوں کی معافی ہے، اسی طرح نماز کا سب سے بڑا حاصل اللہ کی طرف مکمل توجہ اور اس سے قربت کا شعور ہے۔
اور مومن کو اللہ کی طرف متوجہ ہونے کی پہلی لذت اسی لمحے ملتی ہے جب وہ تکبیرِ تحریمہ کہتا ہے اور دنیا کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔
سنن ابنِ ماجہ میں حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے شبث بن ربعی کو نماز کے دوران اپنے سامنے تھوکتے دیکھا تو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا: اے شبث! اپنے سامنے مت تھوکو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ پھر نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد نقل فرمایا:
“جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف اپنی خاص توجہ فرماتے ہیں، یہاں تک کہ بندہ خود توجہ ہٹا
لے یا کوئی ناپسندیدہ حرکت کر بیٹھے۔”