دیواری مجلہ (قسطِ ہفتم)
24 جنوری، 2026
بزمِ صحافت طلبۂ علاقۂ میوات مظاہر علوم (وقف)سہارن پور کے ماہ نامہ "التبلیغ" کی روداد
(قسطِ ہفتم)
صحافتی اجلاس سے پہلے چند دن
رجب المرجب کی پانچ تاریخ تھی، جمعہ کا دن تھا، مقالات تقریباً جمع ہونے شروع ہو گئے تھے، آغازِ سال سے ہی ایک صحافتی انعامی اجلاس کا خیال باندھے ہوئے تھا، ہر آۓ دن یہ خیال جہاں شدت پکڑتا جا رہا تھا تو وہیں دوسری طرف یہ مشکل اور پریشانی بھی لاحق تھی کہ انعامات کا انتظام کہاں سے اور کیسے ہوگا؟ جب کہ صورتِ حال یہ تھی کہ اس سے چند دن قبل تو میں دل ہی دل میں یہ سوچ رہا تھا کہ شاید یہ انعامی پروگرام کا خواب صرف خواب ہی رہ جائے گا، حقیقت کا جامہ پہنانا اسے نصیب نہیں ہوگا، مگر اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اس خیال کو حقیقت میں تبدیل کرنے کی راہیں نظر سی آنے لگی اور بس دل ہی دل میں روز بہ روز یہ خیال ترقی کرتا چلا گیا، یہاں تک کہ پانچ رجب المرجب بہ روز جمعہ بعدِ نمازِ عشاء میں مفتی ناصر الدین مظاہری دامت برکاتہم العالیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور صحافتی انعامی پروگرام کے مکمل خاکہ سے انہیں مطلع کیا، مفتی صاحب سن کر خوش ہوئے، آسانی کی دعائیں دی، مفید مشوروں سے نوازا، مزید رہنمائی بھی فرمائی۔
دفترِ اہتمام میں درخواست
اگلے روز یعنی ٦/ رجب المرجب بہ روز ہفتہ بعدِ نمازِ ظہر میں نے ناظمِ اعلی مظاہر علوم وقف سہارن پور حضرت مولانا مفتی محمد بدران سعیدی دامت برکاتہم العالیہ کی خدمتِ اقدس میں صحافتی انعام اجلاس سے متعلق ایک درخواست لکھ کر پیش کر دی۔
درخواست کا متن:
مخدومی ومکرمی جناب حضرت ناظم صاحب دامت برکاتہم العالیہ
السلام علیکم ورحمۃ اللّٰه وبرکاته
بعدِ سلامِ مسنون: حضرتِ اقدس کی خدمت میں مؤدبانہ عرض ہے کہ الحمدللہ ہم کو آپ کے کرم و احسان کے طفیل اپنی تحاریر کو نکھارنے اور جداریہ نکالنے کا موقع نصیب ہوا، اس پر ہم طلبۂ میوات آپ کے نہایت احسان مند اور شکر گزار ہیں۔
اب ہم ان تمام دوست واحباب کی حوصلہ افزائی کے لیے جنہوں نے پورے سال مضامین و مقالات لکھے ہیں، ایک مختصر سا انعامی پروگرام آئیندہ جمعرات (١١/ رجب المرجب ١٤٤٧ھ۔ مطابق یکم جنوری ٢٠٢٦ء) کو منعقد کرنا چاہتے ہیں، آں جناب کی کرم فرمائی کے باعث ہمیں یقینِ کامل ہے کہ ہمیں اس کی اجازت دے دی جائے گی۔
فقط والسلام
من جانب: طلبۂ علاقۂ میوات
مظاہر علوم وقف سہارنپور
٦/رجب المرجب ١٤٤٧ھ
درخواست پڑھ کر حضرت ناظم صاحب نے معلوم کیا کہ کس کی نگرانی میں کروگے ؟ تو میں نے کہا کہ جی مفتی ناصر الدین مظاہری کی زیرِ نگرانی اور آپ کی زیرِ سرپرستی، ناظم صاحب نے درخواست پر لکھ دیا "مفتی ناصر الدین صاحب کی نگرانی میں اجازت ہے" اور یوں الحمدللہ صحافتی انعامی اجلاس کا پہلا مرحلہ بخوبی تکمیل کو پہنچ گیا۔
لگے ہاتھ میں نے ناظم صاحب سے یہ بھی کہہ دیا کہ جی اگر آپ کی طرف سے طلبہ کے لیے بطور انعام کچھ کتابیں عنایت ہو جائیں تو آپ کا بہت احسان ہوگا، حضرت ناظم صاحب نے فرمایا: دیکھ لیں گے، دو تین دن پہلے مجھے یاد دلا دینا، میں نے حضرت ناظم صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واپسی کی راہ لی۔
محتاجِ دعا: عبد اللہ یوسف
رجب المرجب ١٤٤٧ھ۔
وسطِ جنوری ٢٠٢٦ء۔