*اسکول کے دور کے امتحانات کی روداد* 

🪶 محمد علی سبحانی 

ہر سال کی طرح اس سال بھی میری نظریں رزلٹ بورڈ پر تھیں۔ بچوں کا شور، اساتذہ کی مصروفیت، اور والد صاحب حسبِ روایت ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ لیے کھڑے، یقین تو تھا کہ بیٹا اللہ کے فضل سے اچھے نمبرات تو لاتاہی ہے۔ کبھی پہلی پوزیشن آ جاتی تھی، کبھی چند نمبروں سے دوسری یا تیسری پر رک جانا قسمت میں ہوتا تھا۔اسلۓ مٹھائی کا ڈبہ پہلے ہی لے آتے تھے۔ اس بار بھی وہی ہوا، دوسری پوزیشن! چہرے پر سب کی خوشی تھی مگر میرے دل میں وہی پرانی سوچ: “کاش اس دن کھیلنے کے بجائے ایک باب اور پڑھ لیتا!”

نتیجہ ملنے کے بعد چھٹیاں شروع ہو گئیں، اور میں نے خود سے وعدہ کیا کہ "اگلی بار ایسا نہیں ہوگا"۔ چھٹیاں مزے سے گزریں، کبھی کھیل، کبھی سیر، کبھی سو کر وقت ضائع کرنا۔ پھر وہ دن آ گیا جب اسکول دوبارہ کھلے۔ پہلے دن ہی دل میں ارادہ کیا کہ اب کی بار روز کا سبق روز پڑھوں گا، کوئی کام کل پر نہیں چھوڑوں گا۔

شروع کے چند دن تو میں واقعی بہت پُرجوش تھا، کتابیں وقت پر کھولتا، نوٹس بناتا، خود پر اعتماد بھی ہونے لگا کہ روز کا کام روزانہ پورا کر رہا ہوں۔
پھر آہستہ آہستہ وہی پرانی عادت جاگ اٹھی۔ کبھی دوست بلاتے، کبھی تھوڑا آرام کرنے کا بہانہ، اور پھر وہی بہادر جملہ: “کل سے پکا شروع کروں گا!” وہ کل آتے آتے اگلے مہینے میں بدل گئی۔

پھر ایک دن اچانک اعلان ہوا: “امتحان اگلے ماہ سے شروع ہو رہے ہیں!”
ابھی تو وقت ہے، اس جملے نے ایک ماہ بھی گزار دیا، صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا۔ 
سارے وعدے، سارے ارادے اور ساری خود اعتمادی ایک دم ہوا میں اڑ گئی۔ اب یاد کرنے بیٹھا تو دماغ جیسے مکمل خالی۔ جو یاد کیا تھا وہ یاد نہ ہو، اور جو نہیں پڑھا تھا وہ سوال خوابوں میں نظر آنے لگا۔

امتحان سے ایک رات پہلے کا حال یہ تھا کہ کتاب کھلی تھی، آنکھیں بند تھیں، اور دل میں یہ سوچ: “یا اللہ، جو نہیں پڑھا وہ بھی یاد کرا دے!
جو یاد کیا ہے وہ ہی پرچہ میں آجاۓ۔”
امی ابو کمرے سے آواز دیتے، “اب یاد آیا پڑھنا؟ جب وقت تھا تو کھیل رہے تھے، اب جاگتے رہو پوری رات!”

امتحان کے دن اسکول پہنچا تو دل کی دھڑکن اتنی تیز کہ لگتا تھا جیسے پورا اسکول سن رہا ہو۔ ہاتھ میں کتاب، ہونٹوں پر دعا، اور دماغ میں وہی خوف۔ پرچہ ملا تو بسملہ پڑھ کر پرچہ کھولا تو اسمیں کچھ سوالات وہ بھی تھے جو یہ سوچ کر چھوڈ دۓ تھے کہ شاید یہ نہیں آۓ گا۔ بس ابھی سے پوزیشن جاتی ہوی نظر آنے لگتی۔

پھر وہی حال، وہی دعائیں، اور وہی انجام، پرچہ ختم، دعا ختم، اور ارادہ دوبارہ نیا: “اگلی بار سے تو پکا فرسٹ آنا ہے!”
اگلے سال پھر رزلٹ بورڈ کے سامنے وہی منظر، والد صاحب کے ہاتھ میں وہی مٹھائی، اور میں وہی پرانی مسکراہٹ کے ساتھ سوچتا ہوا:
“یہ کہانی تو ہر سال کی ہے۔ بس نمبر بدل جاتے ہیں!”