نکاح میں رکاوٹیں: فرد کا مسئلہ یا سماج کی ناکامی
(ایک مثبت فکری مضمون 74)
بسم اللہ الرحمن الرحیم. مضمون (74)
آج کا نوجوان ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے-ایک طرف امیدوں کی دنیا، دوسری طرف مایوسیوں کا ہجوم۔ گھروں میں والدین کی تمنائیں، سماج کی نظریں، اور دل میں بسا ہوا ایک خواب کہ وقت پر عزت کے ساتھ نکاح ہو جائے، ایک پاکیزہ رشتہ بن جائے، زندگی سنور جائے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بہت سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایسے ہیں جن کے لیے رشتے تلاش کیے جاتے ہیں، رشتے مل بھی جاتے ہیں، بات طے ہونے تک پہنچ بھی جاتی ہے، مگر عین وقت پر کچھ دشمن صفت بچولیوں، حسد کرنے والوں، یا غیر ذمہ دار سماجی کرداروں کی وجہ سے یہ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ یہ ٹوٹنا صرف ایک رشتہ کا ٹوٹنا نہیں ہوتا، بلکہ ایک دل، ایک امید اور ایک مستقبل کا بکھر جانا ہوتا ہے۔
کبھی واقعی کچھ گھر ایسے بھی ہوتے ہیں جو رشتہ کے لائق نہیں رہتے، مگر یہ بات بھی یاد رہے کہ یہ کوئی مستقل عذر نہیں، نہ ہی اس کا حل یہ ہے کہ ہر اچھے رشتے کو بھی شک کی نظر سے دیکھا جائے۔ خاص طور پر جب معاملہ کسی لڑکی کا ہو تو خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ سماج کے رویے مزید تلخ اور ظالمانہ ہو جاتے ہیں۔
جب یہ کھیل بار بار دہرایا جاتا ہے تو دیکھتے ہی دیکھتے عمر بڑھتی جاتی ہے۔ لڑکا ہو یا لڑکی، دونوں ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دل میں سوال اٹھتے ہیں:
کیا میرا گھر اتنا کمزور ہے؟
کیا میں واقعی بدصورت ہوں؟
کیا میری کوئی حیثیت نہیں؟
یہ سوال رفتہ رفتہ انسان کو مایوسی کی ایسی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں جہاں سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر انسان خود سے بدگمان، سست، اور ذہنی مریض بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض خوش نصیب صبر کے ساتھ مزید جستجو میں موقوف رہتے ہیں. اور بعض بدقسمت لوگ اپنے دین سے دور ہو جاتے ہیں، یا زندگی سے ہی مایوس ہو کر خودکشی جیسے سنگین قدم اٹھا لیتے ہیں، حالانکہ اسلام میں یہ سخت حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا
“اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر بہت مہربان ہے۔” (النساء: 29)
اب سوال یہ ہے کہ اس تباہی کا ذمہ دار کون ہے؟
کمزور گھرانہ؟
دشمن بچولیہ؟
یا پورا سماج؟
حقیقت یہ ہے کہ اس کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ اگر محلے کے امام، قاضی، صدر، سکریٹری اور سماج کے بااثر افراد خاموش رہیں، اگر وہ ایسے معاملات میں سنجیدگی سے کردار ادا نہ کریں، تو وہ بھی برابر کے شریکِ جرم ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
“تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔” (سنن ابی داؤد 2928)
لہٰذا سماج کے ذمہ داروں پر فرض ہے کہ وہ آگے بڑھ کر ایسے نوجوانوں کے لیے مناسب رشتہ تلاش کریں، اور جن گھروں کا چلن درست نہ ہو، ان کی نرم یا سخت رہبری کریں۔ اگر یہ ذمہ داری ادا نہ کی گئی تو کل دربارِ الٰہی میں جواب دہی سے کوئی بچ نہ پائے گا۔
دشمن بچولیوں کے نام پیغام:
اے وہ لوگو جو حسد، عناد یا ذاتی دشمنی کی بنیاد پر رشتے توڑتے ہو! یاد رکھو، نکاح کوئی کھیل نہیں، یہ ایک مقدس عبادت ہے۔ تمہاری ایک غلط حرکت کسی کی پوری زندگی برباد کر سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ
“تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔” (الحجرات: 10)
حسد نہ تمہارے لیے فائدہ مند ہے نہ کسی اور کے لیے۔ بلکہ یہ تمہارے اپنے دین و دنیا کے لیے خطرناک ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ، فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ.؛
تم لوگ حسد سے بچو، اس لیے کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا لیتا ہے، جیسے آگ ایندھن (لکڑی) کو۔
 (ابوداؤد 4903) 
معاف کرنا، خیرخواہی کرنا، اور اصلاح کی کوشش کرنا ہی اصل عظمت ہے۔
نوجوانوں کے نام آخری پیغام. 
اے میرے نوجوان بھائیو اور بہنو! اگر تمہارے ساتھ ایسا ہو تو ہرگز مایوس نہ ہونا۔ اپنے آپ کو کم تر نہ سمجھنا۔ اپنے گھر کے ماحول کو درست رکھو، اپنے کردار کو مضبوط بناؤ، تاکہ تمہارے دشمن بھی جان لیں کہ تم ایک مضبوط سماجی زنجیر کا حصہ ہو۔ یاد رکھو، دشمن کو موقع تب ہی ملتا ہے جب ہمارا گھر بکھرا ہوا ہو، یا ہم کھلی برائیوں میں مبتلا ہوں. جیسے شراب نوشی، جوا، بداخلاقی اور دیگر منکرات وغیرہ. 
نبی کریم ﷺ نے نکاح کے بارے میں واضح رہنمائی دی . 
تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ؛
عورت سے چار باتوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے… مگر تم دین والی (یا. والا) کو اختیار کرو۔ (صحیح بخاری 5090) 
غریبی کوئی عیب نہیں۔ عیب وہ سوچ ہے جو اپنی حیثیت سے بڑھ کر خواب دیکھتی ہے اور پھر مایوسی کا شکار ہو جاتی ہے۔ اپنی حقیقت کو پہچانو، اپنی سوچ کو درست کرو، تم کبھی دھوکہ نہیں کھاؤ گے۔
لہٰذا اے مسلمانو! جو شخص غریبی کو ذلت یا کمتری سمجھے، اور غریب کے اجڑتے گھر، بگڑتے ماحول اور سسکتے بلکتے نوجوان بچوں کی خبر نہ لے، وہ دراصل ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے سماج کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ایسے لوگ جب ضرورت کے وقت ہاتھ نہ بٹائیں، خاموش تماشائی بنے رہیں، تو پھر یہی زخم بعد میں خبروں کی سرخی بنتے ہیں، اور ہم اجتماعی طور پر مسلمانوں کی ذلت و رسوائی پر اسٹیجوں سے رونا روتے ہیں۔ افسوس! جب وقت تھا کردار ادا کرنے کا، تب ہم نے صرف زبان چلائی - - واہ رے مسلمان، واہ!
الغرض! یہ تحریر کسی کو طعنہ دینے کے لیے نہیں، بلکہ جھنجھوڑنے کے لیے ہے۔ شاید یہ چند سطریں کسی ٹوٹے دل کو سہارا دے دیں، کسی ماں کی آنسوؤں کو روک دیں، کسی باپ کے دل میں ذمہ داری کا احساس جگا دیں، اور کسی نوجوان کو مایوسی سے امید کی طرف لے آئیں۔ اللہ ہم سب کو سمجھنے، سنبھلنے اور سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
  بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com