*ایک بہن کے منہ سے نکلا ہوا جملہ بھائی مرنے کو دل کرتا ہے🥹*
کبھی کبھی ایک جملہ انسان کے وجود کو ہلا دیتا ہے، ایک لفظ دل کو اس طرح چیر دیتا ہے کہ اندر جمع ساری طاقت لمحوں میں بکھر جاتی ہے، اور کبھی کسی کی دبی ہوئی صدا روح میں ایسی اترتی ہے کہ آنکھیں بولنے لگتی ہیں اور زبان خاموش ہو جاتی ہے،ایسے لمحوں میں انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ الفاظ صرف آواز نہیں ہوتے، یہ کسی کی زندگی کا بوجھ بھی اٹھائے ہوتے ہیں، آج مجھے بھی ایک ایسی ہی صدا سنائی دی جو نہ صرف میرے کانوں میں پڑی بلکہ سیدھی میرے دل میں اتر گئی، ایک بہن نے بڑے ادب اور اپنائیت کے ساتھ سلام کیا اور پھر لکھا کہ بھائی میں آپ کی تحریریں پڑھتی ہوں، دل کو سکون ملتا ہے، آپ بہت اچھا لکھتے ہیں، اللہ آپ کو کامیاب کرے، میں نے جواب دیا کہ یہ سب آپ کی دعا ہے آپی، میں تو ابھی ادنی سا طالب علم ہوں،اور علم کی دولت سے ہمکنار ہونا چاہتا ہوں، بس سیکھنے والا ہوں، اللہ حق لکھنے کی توفیق دے، آمین، بات عام جملوں میں چل رہی تھی، لفظ نرم تھے، ماحول پرسکون تھا، مگر اچانک ایک جملہ آیا اور وہ جملہ نہیں تھا بلکہ میرے سینے پر رکھا ہوا ایک وزنی پتھر تھا،جس نے میری چیخ نکال دی، اور معاشرے کی بے حسی پر افسوس ہوا بولیں بھائی: *مرنے کو دل کرتا ہے*
یہ پڑھتے ہی میرے پیروں تلے زمین نکل گئی، آنکھیں خودبخود بھیگ گئیں اور دل یوں بیٹھ گیا جیسے کسی نے مٹھی میں پکڑ کر نچوڑ دیا ہو، ایسے لمحے میں انسان کو سمجھ نہیں آتی کہ پہلے کیا کرے، لفظ ڈھونڈے یا اپنے آنسو سنبھالے، میں نے فوراً لکھا کہ اللہ کے لیے ایسا نہ کہیے، زندگی اللہ کی امانت ہے، یہ وقت آزمائش کا ہے، صبر کیجیے، امید رکھیے، اللہ بہترین کارساز ہے اور وہ ہر تنگی کے بعد آسانی کا در کھولتا ہے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے *﴿اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا﴾* وہ ہر بات کے جواب میں جی جی لکھتی رہیں۔
مگر اس ایک لفظ کے پیچھے جو خاموشی تھی وہ چیخ سے زیادہ بلند تھی، ایک ایسی چیخ جو لفظوں میں نہیں ڈھلتی بلکہ سیدھی دل کو چیر دیتی ہے، مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ صرف بات نہیں کر رہی، وہ مدد مانگ رہی ہے، مگر ایسے انداز میں کہ شاید خود بھی شرمندہ ہو رہی ہو،
پھر انہوں نے اپنا درد کھولا، اور وہ درد کوئی معمولی شکوہ نہیں تھا بلکہ ایک پوری زندگی کا نوحہ تھا، انہوں نے لکھا کہ بھائی میں چوبیس سال کی ہو چکی ہوں، ہم تین بہنیں تھیں، دو کی شادی ہو گئی،اور وہ کمزوری کے عالم میں ہو گئی تھی جس کی وجہ سے میری اپپیاں آج بھی اپنے شوہروں کے تعنے سنتی ہیں، اور والدین سے ذکر کرکے روتی ہیں،اور بہت افسوس ہوتا اپنی غربت پر،دل خون کے آنسو روتا ہے، انکی داستان سن کر لیکن کر کیا سکتے ہیں، غریب ہیں، ان کے دردوں کا مدافع صرف صبر جیسے الفاظ سے کر سکتے ہیں، اور کوئی صورت نہیں۔
اور اب اپنے والدین پر صرف میں بوجھ رہ گئی ہوں، ابو بوڑھے مزدور ہیں، میل میں روز بھاری بوجھ اٹھاتے ہیں، کندھے جھک گئے ہیں، ہاتھوں کی رگیں ابھر آئی ہیں، سانس پھول جاتی ہے مگر پھر بھی وہ روز نکلتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیٹی جب تک سانس ہے میں تمہیں کما کر کھلاؤں گا، اللہ نے تمہیں میری ذمہ داری بنایا ہے، انہوں نے بتایا کہ ان کے قدم اب لڑکھڑاتے ہیں مگر چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے، ایسی مسکراہٹ جو صرف بیٹی کے لیے ہوتی ہے اور اپنے سارے دکھ اپنے اندر دفن کر لیتی ہے، میں کہتی ہوں ابو آرام کر لیجیے تو وہ ہلکی سی ہنسی دیتے ہیں، مگر اس ہنسی کے پیچھے برسوں کی تھکن، ادھوری نیندیں، بھوک اور ٹوٹتا ہوا وجود چھپا ہوتا ہے، ایک ایسا وجود جو صرف اولاد کی خاطر کھڑا ہے،کبھی یوں دل کرتا ہے کہ اپنے وجود کو ختم کر لوں، اور والدین کے بوجھ کو ہلکا کر دوں، کبھی ماں کی بے بسی دیکھ کر سوچتی ہوں، میری بوڑھی ماں کو کھانا کون کھلائے گا،بھائی یوں سمجھیں وجود کی ہر نس زخم سے چور چور ہے🥹۔
انہوں نے لکھا کہ دو سال سے میرے والدین میرے لیے رشتہ تلاش کر رہے ہیں، جو بھی آتا ہے ہمارے حالات دیکھتا ہے، ہمارے کچے گھر، ہمارے سادہ کپڑے اور ابو کے جھکے ہوئے کندھے دیکھتا ہے، پھر ہنس کر ایک ہی سوال کر کے چلا جاتا ہے کہ *جہیز میں کیا دے دو گے* بھائی، میرے باپ کی یہ حیثیت نہیں کہ وہ کچھ دے سکیں،اور دے بھی کیا سکتے ہیں، ان کا وجود ہی اب باقی نہیں رہا، یہی بہت ہے کہ آج بھی وہ ہمیں کما کر کھلا رہے ہیں، اور ہمیں لقمے مانگنے کے لیے کسی کے در پے نہیں جانے دیتے،کبھی میں اللہ کی بارگاہ میں جاکر خدا سے پوچھتی ہوں اے خدا آخر تو نے خود کشی کو کیوں حلال نہ کیا، جب اتنی مشقت و پریشانی ہمارے وجود پر پڑتی ہے،اور کبھی دل کرتا ہے خدا سے موت مانگ لوں، اور وہ میری دعا کو شرف قبولیت عطا فرمادے،بھائی موت کے علاوہ کوئی اوپشن میرے پاس نہیں رہتا،اور میں کر بھی کیا سکتی ہوں، جب میرے باپ ایک بوڑھے شخص،میری ماں ایک کمزور قبیلے سے تعلق رکھنے والی،جس نے اب تک ہماری پڑھائی لکھائی لوگوں کے گھر محنت و مزدوری کرکے کرائی ہے،اور ہمیں پال کر اتنا بڑا کر دیا ہے،اب انکا وجود بھی اس قابل نہ رہا ہے کہ مزید کچھ کر سکیں،
پھر اس نے روتے ہوئے وہ سوال لکھا جس نے مجھے اندر سے توڑ دیا کہ بھائی کیا *ہم غریب بیٹیاں پوری زندگی اسی درد میں رہیں کہ ہم غریب ہیں، کیا ہمیں بار بار یہی یاد دلایا جائے کہ ہمارے باپ کے پاس جہیز کے پیسے نہیں، کیا میرا قصور یہ ہے کہ میرے ابو نے سونا نہیں بلکہ پسینہ کمایا، کیا میرے خواب صرف اس لیے ٹوٹ جائیں کہ ہمارے گھر میں آسائشیں نہیں، کیا میری قسمت میں یہی لکھ دیا گیا ہے کہ میں صرف اس لیے رد کر دی جاؤں کہ میرا باپ امیر نہیں* یہ سوال نہیں تھے، یہ زخم تھے جو لفظوں کی صورت میں معاشرے کی ناکامی کا ثبوت پیش کر رہے تھے، اور آنسو موبائل پر ٹپک رہے تھے۔
یہ الفاظ میرے دل میں خنجر بن کر اتر گئے، میں خاموش ہو گیا مگر اندر سے بکھر گیا، یہ لڑکی قصوروار نہیں، قصوروار ہمارا معاشرہ ہے، یہ سماج قاتل ہے، ہم اس باپ کی غیرت کے قاتل ہیں، اس بیٹی کے خوابوں کے قاتل ہیں، اور اس نکاح کی سادگی کے قاتل ہیں جسے ہم نے دکھاوے اور جھوٹی شان میں دفن کر دیا ہے، جو زبان سے کہتے ہیں کہ ہم جہیز نہیں مانگتے وہ دراصل کسی مزدور کے پسینے کا آخری قطرہ اور کسی باپ کے خون کا ٹکڑا مانگ رہے ہوتے ہیں، اور جو خاموش ہیں وہ بھی شریکِ جرم ہیں، کیونکہ خاموشی ظلم کو دوام دیتی ہے، رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا کہ: *سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو* مگر ہم نے برکت چھوڑ دی اور بوجھ کو گلے لگا
لیا۔
مال و زر کے اسیر لگتے ہو،با خدا بے ضمیر لگتے ہو
مانگتے ہو جہیز شادی میں خاندانی فقیر لگتے ہو۔
آج غریب باپ اپنی بیٹی کی ایک مسکراہٹ کے بدلے اپنی جوانی بیچ رہا ہے اور ہم سب تماشائی ہیں، بظاہر مہذب مگر اندر سے سنگدل، کاش ہم سمجھ جائیں کہ جہیز عزت نہیں بلکہ ذلت ہے اور سادگی کمزوری نہیں بلکہ سنت ہے، اللہ کی قسم جب تک ہم اس ظلم کے خلاف نہیں اٹھیں گے تب تک کتنی بیٹیاں یوں ہی کہتی رہیں گی کہ بھائی مرنے کو دل کرتا ہے، آؤ آج عہد کریں کہ نہ جہیز مانگیں گے، نہ دیں گے اور نکاح کو سادہ، پاکیزہ اور سنت کے مطابق بنائیں گے، اللہ وہ دن لائے جب کسی بیٹی کے آنسو زمین پر گرنے سے پہلے امتِ محمد ﷺ کا کوئی بیٹا اس کے لیے دیوار بن جائے،اور کہے میری بہن تو اگر غریب ہے تو کیا ہوا، مجھے اللہ کے نبی کی حدیث یاد ہے،اللہ کے نبی نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے کہا تھا: اے صحابہ اگر مالدار ہونا چاہتے ہو تو شادی کرو،اور اس کا ہاتھ تھام کر زمانے کو بتائے، ہر اور عورت اعلی مقام پا سکتی ہے مگر جب اس کا ہاتھ وہ انسان پکڑ لے جو حقیقت میں اسلام کا داعی ہے،اور تاریخ کے بے انتہا اوراق شاہد ہیں اس بات پر کہ: ایک غریب بیٹی نے ایسا گھر چلایا کہ کئی نسلوں کو اس سے ضیا ملی،اور بحمدہ تعالی و تقدس ہماری بہنوں میں آج بھی استطاعت ہے کہ وہ کسی بھی گھر کو جنت بنا سکتی ہیں، مگر شوہر مرد ہو عورت نہیں۔
اللہ کریم ہمیں سوچنے سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق بخشے،اور ہماری غریب بہنوں اور سب بہنوں کے لیے بہتر سے بہتر رشتے مہیا فرمائے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*