26 جنوری وہ دن ہے جب ہندوستان کے افق پر آئین کی شمع روشن ہوئی، اور اس کی لو نے ہر گلی، ہر بستی اور ہر دل تک یہ پیغام پہنچایا کہ اب اس ملک کی باگ ڈور کسی فرد، طبقے یا طاقت کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ قانون، انصاف اور اجتماعی شعور کے سپرد ہے۔ یہ دن محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں، بلکہ عہدِ نو کی وہ صبح ہے جس میں شہری ہونے کا مفہوم تحریر ہوا۔مسلمانانِ ہند کے لیے یہ دن آئین کی اس چھتری کی علامت ہے، جس کے سائے میں مذہبی شناخت بھی محفوظ ہے اور شہری وقار بھی۔ آئین اس قافلے کی مانند ہے جو تنوع کے ریگستان میں وحدت کی سمت رواں دواں ہے، اور مسلمان اس قافلے کے مسافر بھی ہیں اور امین بھی۔ یہاں عبادت گاہیں بھی محفوظ ہیں، ضمیر کی آواز بھی آزاد ہے، اور امید کے چراغ بھی روشن۔
     یہ حقیقت نگاہوں سے اوجھل نہیں رہنی چاہیے کہ آزادی کی صبح مسلمانوں کے لہو سے بھی وضو کر کے طلوع ہوئی تھی۔ اس ملک کی تاریخ میں وہ سطریں آج بھی محفوظ ہیں جہاں علما کی مسندیں قید خانوں میں بدلیں، اور سولیوں پر بھی وطن کی وفا کے نغمے گونجتے رہے۔ 26 جنوری دراصل انہی قربانیوں کی آئینی توثیق ہے۔یومِ جمہوریہ ہمیں یہ یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ حقوق وہ پھول ہیں جو فرائض کے کانٹوں میں کھلتے ہیں۔ آئین کی کتاب صرف الماری کی زینت نہیں، بلکہ یہ وہ آئینہ ہے جس میں قوم اپنا چہرہ دیکھتی ہے۔ مسلمان اگر اس آئین کو محض تحفظ کی ڈھال سمجھیں اور ذمہ داری کی امانت نہ مانیں، تو یہ توازن بگڑنے لگتا ہے۔
     آج جب فضا میں سوالات کے بادل اور اندیشوں کی دھند ہے، تو 26 جنوری امید کی وہ کرن ہے جو بتاتی ہے کہ اس ملک کی بنیادیں پتھر نہیں، اصول ہیں؛ اور اصول وقت کے طوفانوں میں بھی اپنی جگہ قائم رکھتے ہیں۔ اختلاف کی لہریں آئیں یا تعصب کی آندھیاں، آئین کا چراغ اگر ہاتھ میں ہو تو راستہ روشن رہتا ہے۔مسلمانوں کے لیے یہ دن اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ وہ اپنے کردار، تعلیم، اخلاق اور سماجی خدمت سے یہ ثابت کریں کہ مذہبی وفاداری اور قومی ذمہ داری ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ مسجد کی اذان اور آئین کی پاسداری، دونوں مل کر اس ملک کی فضا کو متوازن رکھتے ہیں۔آخرکار، 26 جنوری ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہندوستان کا مستقبل نعروں سے نہیں، کردار سے لکھا جائے گا؛ شور سے نہیں، شعور سے سنورے گا۔ مسلمان اگر آئین کی شمع کو اپنے طرزِ عمل سے جلائے رکھیں، تو یہ روشنی صرف ان کے لیے نہیں، پورے وطن کے لیے رہنما بن سکتی ہے۔

آئین زندہ رہے تو جمہوریت سانس لیتی ہے،
اور جمہوریت زندہ رہے تو ہندوستان۔