*😔Happy Republic Day😔*
*(اے میرے پیارے ملک اللہ تجھے ہمیشہ سلامت رکھے)*
26 جنوری وہ ہے جس دن ہمارے دیس کو محض ایک تاریخ نہیں ملی بلکہ قانون کی صورت میں ایک عہد ملا، ایک ایسا عہد جس میں طاقت کو اصول کا پابند کیا گیا اور اختیار کو ضابطے کی زنجیر پہنائی گئی، 26 جنوری وہ ہے جب ریاست نے یہ وعدہ کیا کہ اب فیصلے خواہش سے نہیں، دستور سے ہوں گے، اور نظم و نسق کا ہر زاویہ ایک طے شدہ اصول کے تابع ہوگا 26 جنوری وہ ہے جس دن ہمارے دیس کو قوانین کی ضد میں قید کیا گیا، مگر یہ قید غلامی کی نہیں بلکہ ذمہ داری کی تھی؛ ایسی قید جو افراتفری کو ترتیب میں ڈھالنے اور طاقت کے بے لگام ہاتھوں کو انصاف کے پیمانے میں تولنے کے لیے تھی۔ چھبیس جنوری وہ ہے جب ہر چیز کو ایک منظم اصول ملا، وہ اصول جو کاغذ پر تو سیاہی سے لکھا گیا، مگر اس کا مقصد دیس واسیوں کی زندگی میں سہولت، تحفظ اور وقار پیدا کرنا تھا، 26 جنوری وہ ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قانون صرف ریاست کا ہتھیار نہیں بلکہ عوام کی ڈھال بھی ہونا چاہیے، اور دستور محض ایک کتاب نہیں بلکہ قوم کا اخلاقی عہدنامہ ہے، یہ دن جشن کا بھی ہے اور احتساب کا بھی کہ ہم نے ان اصولوں کو کتنا جیا، کتنا سمجھا، اور کتنا نبھایا۔
اے ملک تیری عزت، تیری رفعت، تیرا وقار ہمارے لیے واقعی بہت قیمتی ہے، ہم نے اس مٹی کو معزز کہا ہے، اس پر قربانیاں دی ہیں، اس کے لیے خون بہایا ہے، مگر آج سچ یہ ہے کہ ہماری نس نس کو زخمی کر دیا گیا ہے، کوئی نس ایسی نہیں جو زخمی نہ ہو، کوئی سانس ایسی نہیں جس میں کرب شامل نہ ہو، ہم جیتے بھی ہیں تو سوالوں کے ساتھ اور جیتے ہیں تو خوف کے سائے میں۔
*کبھی ہماری ٹوپی پر حملہ ہوتا ہے* جس ٹوپی کو ہمارے بزرگوں نے عزت کی علامت سمجھا تھا، آج وہ سڑکوں پر کھینچ کر اتاری جاتی ہے، اس پر ہنسا جاتا ہے، اسے نفرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے، اور ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ سب معمول ہے، یہ سب آزادیٔ اظہار ہے *کبھی ہماری داڑھی پر وار کیا جاتا ہے* داڑھی جو عبادت، وقار اور پہچان تھی، اسے جرم بنا دیا جاتا ہے، اسے زبردستی کاٹا جاتا ہے، اس کی توہین کی جاتی ہے، یہاں تک کہ ایک ستر سالہ بوڑھے کی داڑھی کاٹ کر اسے اس ظلم کے ساتھ موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے، اور معاشرہ خاموش رہتا ہے۔*کبھی ہمارے کپڑوں کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں* ہمیں ہجوم کے بیچ برہنہ کیا جاتا ہے، ہماری غیرت کو کچلا جاتا ہے، ہماری تذلیل کو تماشا بنا دیا جاتا ہے، اور پھر کہا جاتا ہے کہ ہم نے خود ماحول خراب کیا تھا،*کبھی ہمارے وجود کو مجروح کیا جاتا ہے* غیر قانونی نعروں کی بھینٹ ہمیں چڑھایا جاتا ہے، ہمیں گھسیٹ گھسیٹ کر مارا جاتا ہے، ہمارے جسموں پر لاٹھیاں ٹوٹتی ہیں، اور ہمارے خون سے سڑکوں پر ہولی کھیلی جاتی ہے، مگر قاتلوں کے چہرے دھندلا دیے جاتے ہیں۔*کبھی دہلی کی مسجد پر حملہ ہوتا ہے* جہاں عبادت گاہ کی حرمت پامال کی جاتی ہے، تالے لگتے ہیں، توڑ پھوڑ ہوتی ہے، اشتعال انگیز نعرے لگتے ہیں، پولیس موجود ہوتی ہے مگر خاموش رہتی ہے، اور انصاف کہیں نظر نہیں آتا *کبھی بلند شہر کی جامع مسجد نشانہ بنتی ہے* جہاں نماز کے وقت حملہ کیا جاتا ہے، منبر کو پامال کیا جاتا ہے، مسجد کو سیاست کا میدان بنایا جاتا ہے، اور پھر الزام بھی مسلمانوں ہی کے سر ڈال دیا جاتا ہے کہ فساد انہوں نے کیا۔کبھی سنبھل کی جامع مسجد پر حملہ ہوتا ہے* جہاں مسجد کے تقدس کو روند دیا جاتا ہے، عبادت کو جرم بنا دیا جاتا ہے، نمازیوں کو مجرم بنا دیا جاتا ہے، اور حملہ آور دندناتے پھرتے ہیں،اور حد تو اس وقت ہو جاتی ہے جب نہ جانے کتنے زخمی گولیوں کی بچھار میں ہو جاتے ہیں، اور گولی چلانے والے کوئی عام نہیں بلکہ خود وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں، قانون کی وہ پوتر کتاب پڑھائی جاتی ہے *لیکن پھر بھی مسلم بچوں کی جان بے دردی سے لے لی جاتی ہے* نہ ان کے قصور کا ذکر ہوتا ہے، نہ قاتلوں کے نام سامنے آتے ہیں، بس چند خبریں چلتی ہیں اور پھر سب کچھ دفن ہو جاتا ہے، جیسے یہ جانیں کوئی معنی ہی نہ رکھتی ہوں۔*کبھی مرادآباد میں پچیس دن کا کرفیو لگتا ہے اکیاون لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے* گلیاں سونی ہو جاتی ہیں، گھروں میں ماتم رہتا ہے، مگر سرکاری کاغذوں میں سب کچھ معمول کی کارروائی بن جاتا ہے *کبھی ایک غریب مسلمان کی جھوپڑی صرف اس لیے توڑ دی جاتی ہے کہ وہ مسلمان ہے* اس کی چھت اس کے بچوں کے سروں سے چھین لی جاتی ہے، بلڈوزر انصاف بن جاتا ہے، اور ظلم کو قانونی کارروائی کا نام دے دیا جاتا ہے۔*کبھی دہلی کے تاریخی مقبروں پر حملہ ہوتا ہے، ہماری تاریخ کو مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے، ہمارے ورثے کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ یہ سب ترقی کے نام پر ہو رہا ہے،کبھی اسلام کو ختم کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں، کبھی اذان پر پابندی کے مطالبے ہوتے ہیں، کبھی مدارس پر قدغن لگائی جاتی ہے، وہ مدارس جہاں علم، اخلاق اور انسانیت سکھائی جاتی ہے، انہیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور دہشت سے جوڑ دیا جاتا ہے، کبھی بابری مسجد کی شہادت ہوتی ہے، اور پھر برسوں بعد بھی زخم ہرے رہتے ہیں، انصاف کی امید دلائی جاتی ہے مگر روح کو کبھی سکون نہیں ملتا**کبھی ایک بائیس سالہ نوجوان(تبریز انصاری) کو مار مار کر لہولہان کر دیا جاتا ہے،اور اس سے مذہبی نعرے لگوانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے،بالآخر اسکی جان لے لی جاتی ہے،اس کی ماں کی چیخیں خبر نہیں بنتیں، اس کا باپ صرف ایک عدد رہ جاتا ہے، کبھی انیس سالہ مسلم بیٹی(عائشہ) کو بازاروں میں درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اس کی عزت لوٹی جاتی ہے، اور پھر سوال بھی اسی سے کیے جاتے ہیں*کبھی لو ٹریپ کے نام پر ہمارے وجود کو بدنام کیا جاتا ہے، ہماری نسلوں کو سازش کے تحت مجرم بنایا جاتا ہے، کبھی نو سالہ مسلم بچی(فاطمہ) کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے، کبھی پندرہ سالہ لڑکی(رقیہ) کو موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے، مگر شناخت بدلتےہی حساسیت ختم ہو جاتی ہے*
*کبھی ہماری شریعت پر حملے ہوتے ہیں، جبکہ یہی آئین مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، کبھی وقف کی زمینوں کے خلاف مقدمے قائم کیے جاتے ہیں، کبھی ہمارے علماء کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے، کبھی ہماری بہنوں کے حجاب پر پابندی لگتی ہے، کبھی ہمارے بھائیوں کو نماز پڑھتے ہوئے ٹھوکریں ماری جاتی ہیں، کبھی ہماری مسجدوں کے سامنے تلواریں لے کر گھوما جاتا ہے، اور کبھی ہنگامہ پولیس کرے اور گرفتار مسلم نوجوانوں کو کر لیا جاتا ہے، *اور حد تو اس وقت ہو جاتی ہے جب ایک مسلم بچی کے چہرے سے نقاب کو ہٹانے کے لیے ہاتھ وہ بڑھاتا ہے جو خود ایک ذمےدار ہے اور افسوس اس چیز پر کہ لوگ پھر بھی اسکی تائید کرتےہوئےنظر آتے ہیں*
*میں پوچھنا چاہوں گا اے آئین ہند کے وہ معزز دن جس دن ہمارا آئین ہمیں عطا کیا گیا تھا کیا تو ان تمام مظالم کی اجازت دیتا ہے،تب آئین ہند کا ہر صفحہ منع کرتا ہوا نظر آتا ہے، پھر مجھے بتائیں ہم کس منہ سے آئین ہند پر خوشی منائیں جب آئین ہند کی بے حرمتی کی جاتی ہے،ہم کس منہ سے اس اتنے پوتر دن کو منائیں؟ وہ دن جو آئین، انصاف اور ہر مذہب کی ذمہ داری کا دن کہلاتا ہے، اس قانون کو ہم کیا منہ دکھائیں جو آج بھی کاغذوں میں پوتر ہے مگر جسے چلانے والوں کا ایمان کلی طور پر ختم ہو چکا ہے*
یہ ملک سیکولر کہلاتا ہے، مگر اس کے حال اتنے برے ہو چکے ہیں کہ بیان کرتے ہوئے زبان کانپتی ہے، ہم آئین کے خلاف نہیں، ہم وطن کے خلاف نہیں، ہم صرف اس ظلم کے خلاف ہیں جو آئین اور وطن کے نام پر کیا جا رہا ہے،اگر یہ سب دیکھ کر بھی 26 جنوری جشن ہے،تو یہ بھی یاد رہے کہ یہ دن ہمارے لیے اب ایک سوال کا متقاضی ہے،اور یہ سوال اب خاموش نہیں رہے گا،بلکہ ہر موڑ پر بولے گا آئین ہند سے ہمیں وہ تمام عبارات چاہیے جن کے ذریعے ہمارے اوپر ظلم کیا گیا ہے،اگر وہ موجود ہیں تب ہم سزاوار ہیں، اور اگر موجود نہیں،اور یقینا اس میں موجود نہیں، پھر ہمیں ہر اس انسان سے جواب چاہیے جس کے ذریعے یہ تمام ظلم کے پہاڑ ہم پر توڑے گئے ہیں، اور میں ثابت کر سکتا ہوں، آئین ہند کے تحت یہ تمام ہم پر ظلم ہیں ظلم ہیں ظلم ہیں آئین ہند ان تمام کی اجازت نہیں دیتا ۔
لیکن ہم پھر بھی کہتے ہیں:
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اسکی یہ گلستاں ہمارا
گودی میں کھیلتی ہیں جس کی ہزاروں ندیاں
گلشن ہے جس کے دم سے ہم سایہ آسماں کا
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوساں ہمارا
اقبال کوئی مرہم اپنا نہیں جہاں میں
معلوم کیا کسی کو درد نشاں ہمارا۔
Time: 11:59m 59second
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*