آزادی سے آئین تک: ہندوستانی جمہوریت اور مسلم قیادت! 

✒️حافظ شیخ اسلم الہند 

ہندوستان کی جمہوری جدوجہد محض سیاسی آزادی کی داستان نہیں بلکہ ایک فکری اور تہذیبی سفر ہے جس کی بنیاد اس دور میں رکھی گئی جب یہ سرزمین نوآبادیاتی غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی، اس تاریخی جدوجہد میں مسلمانوں کا کردار نہ صرف نمایاں بلکہ فیصلہ کن رہا، خصوصاً اس وقت جب برصغیر میں قومیت کے تصور پر شدید فکری کشمکش جاری تھی، مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے نے دو قومی نظریے کے بجائے متحدہ قومیت کا پرچم بلند کیا اور ایک ایسے ہندوستان کا خواب دیکھا جہاں مذہب کی بنیاد پر تفریق کے بجائے شہری برابری کو اصولِ حیات تسلیم کیا جائے، دارالعلوم دیوبند اور دیگر دینی و فکری مراکز سے وابستہ علمائے کرام نے 1857ء کی جنگِ آزادی سے ہی انگریز سامراج کے خلاف فکری اور عملی محاذ قائم کر دیا تھا اور ان کی جدوجہد کا مرکز یہ تصور تھا کہ آزادی کے بعد ہندوستان ایک ایسا ملک ہو جہاں تمام مذاہب کے ماننے والے مساوی حقوق کے ساتھ زندگی گزار سکیں، تحریکِ خلافت اور عدم تعاون کے دوران مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی نے مہاتما گاندھی کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ہندو مسلم اتحاد کی وہ عملی مثال پیش کی جس نے انگریزی اقتدار کی بنیادیں ہلا دیں اور عام ہندوستانی کے دل میں یہ شعور بیدار کیا کہ جمہوریت دراصل عوامی طاقت کا نام ہے، آزادی کے قریب آتے ہی جب 1946ء میں دستور ساز اسمبلی قائم ہوئی تو مسلم اکابرین نے اس میں نہایت بصیرت کے ساتھ شرکت کی تاکہ آنے والی ریاست میں اقلیتوں کے حقوق محض وعدہ نہ رہیں بلکہ آئینی ضمانت بن جائیں، مولانا ابوالکلام آزاد جنہیں آزاد ہندوستان کا پہلا وزیر تعلیم ہونے کا اعزاز حاصل ہوا، ایک ہمہ جہت مفکر اور سیکولر جمہوریت کے مضبوط وکیل تھے، انہوں نے تقسیمِ ہند کی شدید مخالفت کی اور ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی جمہوری روح اس کے تنوع میں مضمر ہے، بیگم اعزاز رسول جو دستور ساز اسمبلی کی واحد مسلم خاتون رکن تھیں، انہوں نے نہ صرف خواتین کی سیاسی شرکت بلکہ جمہوری عمل میں ان کے مساوی کردار کے لیے مضبوط آواز اٹھائی، اسی طرح رفیع احمد قدوائی اور ڈاکٹر ذاکر حسین جیسے رہنماؤں نے انتظامی اور تعلیمی میدان میں جمہوریت کی جڑیں اس قدر مضبوط کیں کہ نوآزاد ریاست ایک مستحکم آئینی ڈھانچے کی حامل بن سکی، آئین سازی کے عمل میں مسلم دانشوروں کی کاوشوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیکولرزم اور مساوات جیسے بنیادی اصول دستور کا حصہ بنے، ریاست کے غیر مذہبی کردار کو واضح کیا گیا، ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل، اس کی تبلیغ اور مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی اور لسانی و مذہبی اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے کا آئینی حق دیا گیا، 1947ء کے پرآشوب حالات اور تقسیم کے المیے کے باوجود کروڑوں مسلمانوں کا ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ دراصل اس جمہوری نظام پر ان کے اعتماد کا عملی اظہار تھا، پہلے عام انتخابات 1951-52 سے لے کر آج تک مسلم برادری کی مسلسل اور فعال انتخابی شرکت اس حقیقت کی گواہ ہے کہ وہ ملک کے سیاسی استحکام اور جمہوری تسلسل کو ناگزیر سمجھتے ہیں، ڈاکٹر ذاکر حسین، فخر الدین علی احمد اور ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام جیسے صدور کا ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک پہنچنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہندوستانی جمہوریت میں قابلیت، کردار اور خدمت کو اصل معیار تسلیم کیا گیا، یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہندوستان کی جمہوریت کی عمارت جس فکری خمیر سے تیار ہوئی ہے اس میں مسلمانوں کے خون، پسینے اور فکری قربانیوں کی آمیزش شامل ہے، ریشمی رومال تحریک سے لے کر آئین کی تشکیل تک مسلمانوں نے بارہا ثابت کیا کہ وہ ایک ایسے ہندوستان کے خواہاں ہیں جہاں عدل، آزادی اور برابری محض نعرہ نہیں بلکہ زندہ حقیقت ہوں، اور آج بھی ہندوستانی جمہوریت کو متحرک، بامعنی اور زندہ رکھنے میں مسلم برادری کا سیاسی، سماجی اور عدالتی کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔