26 جنوری: یومِ جمہوریہ — قرآن و حدیث کی روشنی میں
26 جنوری، 2026
26 جنوری ہندوستان کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے، جب ملک نے اپنا آئین نافذ کر کے عدل، مساوات اور قانون کی بالادستی کا اعلان کیا۔ اسلام بھی انسان کو ایک ذمہ دار، بااخلاق اور منصف شہری بننے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسی لیے اگر یومِ جمہوریہ کو قرآن و حدیث کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس کے کئی اخلاقی پہلو نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں۔
عدل و انصاف کی اہمیت
اسلام میں عدل کو بنیادی قدر قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ
(النساء: 135)
ترجمہ:
اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، اللہ کے لیے گواہی دیتے ہوئے، اگرچہ وہ خود تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
آئینِ ہند بھی قانون کی نظر میں سب کو برابر قرار دیتا ہے۔ یہ اصول اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ہے کہ کسی کے ساتھ مذہب، نسل یا زبان کی بنیاد پر ناانصافی نہ کی جائے۔
امانت اور ذمہ داری
اسلام میں ہر ذمہ داری کو امانت کہا گیا ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا
(النساء: 58)
ترجمہ:
بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ۔
ایک شہری کی حیثیت سے آئین کی پاسداری، قوانین کی رعایت اور قومی ذمہ داریوں کی ادائیگی بھی امانت ہی کی ایک شکل ہے۔
آزادی اور حدود
اسلام آزادی کو بے لگام نہیں بلکہ اخلاقی حدود کے ساتھ مشروط کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
(صحیح بخاری: 2554)
ترجمہ:
تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔
یومِ جمہوریہ ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ آزادی کے ساتھ جواب دہی بھی لازم ہے۔
امن، رواداری اور انسانی احترام
اسلام امن کا دین ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا:
وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
(البقرہ: 190)
ترجمہ:
زیادتی نہ کرو، بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
ملک میں امن، بھائی چارہ اور باہمی احترام قائم رکھنا ایک مسلمان کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے، خاص طور پر ایک کثیر مذہبی سماج میں۔
وطن کے لیے خیر خواہی
نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ کے لیے دعا فرمائی، جو وطن سے محبت اور خیر خواہی کی دلیل ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وطن کی فلاح کے لیے مثبت کردار ادا کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف نہیں بلکہ اس کے عین مطابق ہے۔
یومِ جمہوریہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہم صرف اپنے حقوق کے طالب نہ بنیں بلکہ اپنے فرائض کو بھی پہچانیں۔ اگر ہم قرآن و حدیث کی بتائی ہوئی اقدار—عدل، دیانت، امانت، صبر اور رواداری—کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ہم نہ صرف اچھے مسلمان بلکہ ذمہ دار اور باکردار ہندوستانی شہری بھی بن سکتے ہیں۔