"کیا تکفیر ہی دین کی خدمت ہے؟ (علمائے بریلوی سے سوال)"
بسم اللہ الرحمن الرحیم. مضمون (76)
(امت کو توڑنے نہیں، جوڑنے کی پکار)
اللہ تعالیٰ نے اس امت کو جس نعمتِ عظمیٰ سے سرفراز فرمایا وہ ایمان، اخوت اور وحدت ہے، مگر افسوس! آج ہم اسی نعمت کو اپنے ہاتھوں سے خاک میں ملا رہے ہیں۔ مسلک، فرقہ اور جماعت کے نام پر ایسی خلیج پیدا ہو چکی ہے کہ بھائی بھائی کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے، سلام دینے سے پہلے عقیدہ پوچھا جاتا ہے، اور ایمان کی سند چند افراد کے ہاتھ میں دے دی گئی ہے۔
قرآن ہمیں صاف اعلان کرتا ہے:
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔
(آل عمران: 103)
اور ایک اور جگہ حکم دیا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
(سورۃ البقرہ: 208)
مگر عملی صورت حال یہ ہے کہ ہم نے اللہ کی رسی چھوڑ کر اپنے اپنے مسلک کی رسیاں تھام لی ہیں، اور ہر ایک دوسرے کو کھینچ رہا ہے — نتیجہ یہ کہ پوری امت درمیان سے پھٹ رہی ہے۔
یہ تحریر کسی خاص مسلک کو نیچا دکھانے کے لیے نہیں، بلکہ ایک دردمند سوال ہے، خاص طور پر علمائے بریلوی سے - - کیونکہ عملی طور پر سب سے زیادہ تکفیر (کافر قرار دینے) کا فتوٰی انہی کے حلقے سے سننے میں آتا ہے۔
سوال یہ ہے:
اگر دیوبندی، اہلِ حدیث، جماعتِ اسلامی واقعی آپ کے نزدیک کافر ہیں
تو پھر:
آپ ان سے نکاح کیوں کراتے ہیں؟
اپنی بیٹیاں کیوں دیتے ہیں؟
ان کے ساتھ کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا کیوں کرتے ہیں؟
مسجدوں میں جہاں نہیں چلتی آنے دیتے اور جہاں چلتی ہے نہیں آنے دیتے کیوں؟
کیا قرآن کا حکم یاد نہیں رہا، یا پھر شیعوں کی طرح تقیہ اور بے جا مصلحت کا لبادہ اوڑھ لیا گیا ہے؟
قرآن تو صاف اور دو ٹوک اعلان کرتا ہے:
وَلَا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۚ أَتُرِيدُونَ أَنْ تَجْعَلُوا لِلَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا
تم مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست اور سرپرست مت بناؤ، کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کے سامنے اپنے خلاف کھلی دلیل قائم کر دو؟
(سورۃ النساء: 144)
اور نکاح کے باب میں واضح حکم:
وَلَا تُنكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا
مشرکوں سے نکاح مت کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔
(سورۃ البقرہ: 221)
یعنی قرآن کی رو سے اگر کوئی واقعی کافر ہو تو: نہ اس سے نکاح جائز،
نہ اس سے قریبی تعلق،
نہ دوستی،
نہ معاشرت۔
تو پھر یہ دوہرا معیار کیوں؟
زبان سے کافر،
اور عمل سے بھائی؟
یہ طرزِ عمل اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ مسئلہ قرآن کا نہیں،
بلکہ مسلکی مصلحت اور عوام کو قابو میں رکھنے کی کمزور اور ناقص حکمتِ عملی ہے۔
اور نیز فقہ کا متفقہ اصول ہے:
کافر سے نکاح باطل ہے، حرام ہے، زنا کے حکم میں ہے۔
تو پھر یہ کون سا مسلکِ شریعت ہے کہ زبان سے کافر بھی کہتے ہیں ،
اور عمل سے رشتہ بھی جوڑتے ہیں ؟
اگر واقعی کافر ہیں تو یہ نکاح حرام ہے۔
اور اگر نکاح جائز ہے تو پھر کافر کہنا دھوکہ، فتنہ اور بہتان ہے۔
حدیث کی روشنی میں خطرہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
: " إِذَا كَفَّرَ الرَّجُلُ أَخَاهُ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا ".
جو اپنے بھائی کو کافر کہے، تو ان دونوں میں سے ایک ضرور کافر ہو جاتا ہے۔
( مسلم ترقیم شاملہ. 215)
یعنی تکفیر کوئی کھیل نہیں،
یہ زبان کی لغزش نہیں، ایمان کا جوا ہے۔
اور ایک اور حدیث:
إذا قال الرجل هلك الناس فهو أهلكهم
جو کہے سب لوگ ہلاک ہو گئے، دراصل وہ خود سب سے زیادہ ہلاک ہے۔
(صحیح مسلم ترقیم شاملہ- 6683)
حقیقتِ حال: منافقت یا مصلحت؟
یہ سب کچھ دیکھ کر عوام کے دل میں سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا یہ فتوے واقعی دین کے لیے ہیں؟
یا پھر مسلکی اجارہ داری قائم رکھنے کا ہتھیار؟
کیا یہ تکفیر عقیدے کی حفاظت ہے یا مسند کی سیاست؟
کیونکہ اگر واقعی دوسرے کافر ہوتے تو
شیعہ کی طرح ان سے مکمل قطع تعلق ہوتا،
نہ رشتہ، نہ نکاح، نہ سلام، نہ تعلق۔
مگر یہاں معاملہ الٹا ہے:
فتویٰ بھی کفر کا،
اور معاشرت بھی مسلمانوں والی!
یہ طرزِ عمل اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ:
یہ تکفیر علمی نہیں، نفسیاتی ہے۔
یہ عقیدہ نہیں، اقتدار کی بیماری ہے۔
اس سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ جنہیں آپ کافر کہتے ہیں، درحقیقت آپ نہ انہیں معاشرت سے کاٹ سکتے ہیں، نہ ان سے دینی طور پر الگ ہو سکتے ہیں۔ یہ آپ کے اختیار ہی سے باہر ہے، کیونکہ آپ جن جماعتوں کو کافر قرار دیتے ہیں، انہی کا عقیدہ اہلِ سنت والجماعت کے بنیادی اصولوں پر قائم ہے: وہی کلمہ، وہی قرآن، وہی رسول ﷺ، وہی قبلہ، وہی نماز۔
اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک طرف آپ خود کو اہلِ سنت والجماعت کا واحد نمائندہ قرار دے کر شور مچاتے ہیں، اور دوسری طرف باقی سب کو دائرۂ اسلام سے باہر دھکیل دیتے ہیں، حالانکہ عملاً نہ آپ انہیں غیر مسلم سمجھ کر چھوڑ سکتے ہیں، نہ امت انہیں چھوڑنے کو تیار ہے۔ یہ رویہ دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ یہ تکفیر دینی حقیقت نہیں بلکہ مسلکی نفسیات ہے، جس کا مقصد اصلاح نہیں بلکہ برتری کا احساس ہے۔ایسی باتوں کو ہوا دینے سے مکمل پرہیز کریں، اسی میں ہماری بہت سی مصلحت کا راز پوشیدہ ہے، کیونکہ آج امت پہلے ہی:
سیاسی طور پر کمزور،
معاشی طور پر غلام،
تعلیمی طور پر پسماندہ،
اخلاقی طور پر شکستہ۔
اوپر سے علماء اگر آپس میں ہی
کفر، بدعت، گمراہی کے تیر چلائیں گے
تو نوجوان کہاں جائے گا؟
کس پر اعتماد کرے گا؟
کس اسلام کو سچا مانے گا؟
قرآن ہمیں متنبہ کرتا ہے:
وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ
آپس میں جھگڑو گے تو کمزور ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔
(الانفال: 46)
اور آج واقعی ہماری ہوا اکھڑ چکی ہے۔
اے قوم کے معزز رہنماؤ!
اے منبر و محراب کے امینوں!
خدارا اس آگ سے کھیلنا بند کرو۔
یہ آگ صرف دوسروں کو نہیں جلائے گی،
یہ پورے گھر کو راکھ بنا دے گی۔
تکفیر کے فتوے دین نہیں بچاتے،
یہ امت کو دفن کرتے ہیں۔
یاد رکھو:
اسلام کسی مسلک کا نام نہیں،
اسلام کسی مدرسے کی جاگیر نہیں،
اسلام کسی جماعت کا ٹریڈ مارک نہیں۔
اسلام وہ ہے جو:
کلمہ پڑھنے والے کو مسلمان مانے،
جب تک وہ خود یا کھلی ظاہری عمل سے کفر کا اعلان نہ کرے۔
آخر میں رسول اللہ ﷺ کی وہ عظیم نصیحت یاد رکھنا ہوگا.
الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ،
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(صحیح بخاری. 10)
سوچو!
آج ہماری زبان سے کون محفوظ ہے؟
اور کل قیامت میں ہم کس منہ سے کہیں گے:
یا اللہ! ہم امت کو جوڑنے آئے تھے…
جب کہ حقیقت یہ ہے ہم نے ہی سب سے زیادہ توڑا تھا۔
یہ کھلونا توڑ دو!
یہ امت کو نگل رہا ہے۔
یہ دین نہیں، فتنہ ہے۔
اور فتنہ قتل سے بھی بڑا جرم ہے۔
معاف کیجیے گا، میری یہ تحریر کسی شدّت یا انتہاپسندی کی دعوت نہیں، بلکہ ایمان و اسلام کی بنیاد پر سنجیدگی کے ساتھ متحد ہونے کی دعوت ہے۔ نیز اس تحریر سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com