نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
"ما يلفظ من قول إلا لديه رقيب عتيد"
الفاظ یہ بڑا ہی انمول اور لا فراموش ذریعہ ہے اپنی باتوں کو کہنے اور دوسروں کی باتوں کو سمجھنے کا الفاظ صرف ایک اواز نہیں ہے یہ رشتوں میں احساس ادب و احترام تہذیب و تمدن حیا اور پیار و الفت کا ایک دلکش اور دلفریب راستہ ہے دلوں میں اترنے اور دلوں سے اترنے کا کبھی کبھی ایک الفاظ انسان کی چال میں جان ڈال دیتا ہے تو کبھی کبھی محض وہی ایک لفظ انسان کی جان لے لیتا ہے۔ 
اج جس معاشرے میں ہم زندگی گزار رہے ہیں وہاں یہ الفاظ غیر معمولی اور لاوقت سمجھا جاتا ہے کسی کی ایک کامیابی اچھے کام مثبت سوچ یا خیال سے انہیں الفاظ کے ذریعہ ہم تعریف کا پلباد دیتے ہیں اور اس شخص کی تعظیم و تکریم کرنے لگتے ہیں اور کہیں اسی کے برعکس ہوتا ہے کسی کی ایک غلطی اور ایک فعل بد یا ایک غلط فیصلے سے ہم انہیں الفاظ کے ذریعہ اس کی ذات کو مجروح کر دیتے ہیں مثلا فلا تو بے حیا ہے وہ تو ایسے کارنامے پہلے بھی انجام دیتا تھا اج کوئی نئی بات تو نہیں ہے اس شخص کی تا عمر کی گئی ساری اچھائیاں کامیابیاں اور اس کے اخلاق شریفانہ اور شفیقانہ فراموش کر دیا جاتا ہے اس سب سے زیادہ کچھ تو نہیں ہوتا بس اس شخص کا رویہ بدل جاتا ہے اگر وہ شخص مذاقیہ اور ہنسنے والے مزاج کا مالک ہوتا ہے تو وہ بالکل ہی سنجیدہ اور خاموش پرست ہو جاتا ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں ایسا کوئی بھی اختیار نہیں کہ ہم کسی کو برا بھلا کہیں اور کسی کی تبدیلی کا سبب بنے یہ بہت ہی قبیح فعل ہے اور ہمیں اس سے منع کیا گیا ہے لہذا ہمیں اپنی زبان کی حفاظت کرنی چاہیے اور ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ ہماری زبان سے کوئی ایسی بات یا پھر لفظ نہ نکلیں جو دوسروں کے لیے تکلیف دہ ہو ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ

 اللہ کو پسند نہ تھی سختی زبان میں

اس واسطے تو دی نہیں ہڈی زبان

میں اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ وہ ہمیں زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین۔