(24)مضمون 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

-----------------------

"پاپ کا گڑھا جب بھر جائے گا — ظلم کا انجام اور عدل کی جیت"

_________________

بقلم: محمودالباری

_________________

یہ دھرتی آج اپنے سپوتوں کے درد سے چیخ رہی ہے۔ وہی سپوت جن کے بزرگوں نے اپنے خون سے اس سرزمین کو سجایا اور سنوارا تھا۔ آج انہی کے بیٹوں کو ستایا جا رہا ہے، ان کی زندگی کو اجیرن بنایا جا رہا ہے، ان کے مذہب و عقائد پر حملے ہو رہے ہیں۔

کبھی یکساں سول کورٹ کے نام پر ڈرایا جاتا ہے، کبھی طلاق کے مسئلے پر شریعت میں مداخلت کی جاتی ہے، کبھی وقف بورڈ کے املاک پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے، اور کبھی ’’I love Muhammad‘‘ کے ایک جملے کو بہانہ بنا کر نوجوانوں کو گرفتار کر کے ان کے گھروں کو بلڈوز کر دیا جاتا ہے۔

یہ ظلم صرف عوام تک محدود نہیں؛ مسلم قائدین بھی نشانے پر ہیں۔ کبھی انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسا دیا جاتا ہے، کبھی ان پر بے بنیاد الزامات لگائے جاتے ہیں۔ موب لنچنگ، "لَو جہاد" کے نام پر خونریزی، مذہبی رسومات میں رکاوٹ — یہ سب وہ زخم ہیں جو اس دھرتی کو لہولہان کر رہے ہیں۔

قرآن کہتا ہے:

"اِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ"

(بے شک اللہ انصاف اور بھلائی کا حکم دیتا ہے اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے۔)

ہم جو کچھ دیکھتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ ردِ عمل میں انتقام یا بے راہ روی اختیار کریں۔ اسلام نے انصاف، صبر، اور حکمت کے راستے بتائے ہیں۔ ظلم کے خلاف احتجاج، شکوہ، قانونی جدوجہد، بین الاقوامی انسانی حقوق کے فورمز پر آواز اٹھانا، اور معاشرتی بیداری — یہ سب مشروع اور ضروری طریقے ہیں۔

مزید فرمایا گیا:

"وَلاَ يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلٰى أَلَّا تَعْدِلُوا، اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى"

(کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو؛ انصاف کرو یہی تقویٰ کے قریب ہے۔)

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

"افضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر"

(سب سے افضل جہاد یہ ہے کہ ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہا جائے۔)

یہ تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ظلم کے خلاف بولنا اور انصاف کا ساتھ دینا ہی حقیقی ایمان کا تقاضا ہے۔

اے ظالم طاقتوں! یاد رکھو: تخت و تاج دائمی نہیں۔ تاریخ تمہاری بے انصافی کو محفوظ رکھے گی، اور ایک دن ہر ظلم کا حساب ہوگا۔

تاریخ گواہ ہے:

فرعون کی سلطنت نیل میں ڈوب گئی،

نمرود کا غرور مچھر کے ایک وار سے خاک میں مل گیا،

یزید کی طاقت چند دنوں کی مہمان ثابت ہوئی۔

اللہ کا قانون ہے:

"وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ"

(یہ دن ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔)

ظالم سمجھتے ہیں کہ ان کا اقتدار ابدی ہے، مگر درحقیقت یہ سب وقتی کھیل ہے۔ جس دھرتی پر مظلوم کا خون بہتا ہے، وہی زمین ایک دن گواہی دے گی۔ سورۃ الزلزال میں آیا ہے کہ زمین اپنی خبریں بیان کرے گی، اور ہر عمل کو ظاہر کر دیا جائے گا۔

لہٰذا اے ظالم طاقتوں! یاد رکھو، تمہارے ظلم کی حد ایک دن پوری ہو گی۔ وہ دن قریب ہے جب پاپ کا گڑھا بھر جائے گا، اور انصاف کا سیلاب تمہیں بہا لے جائے گا۔

اور اے اہلِ ایمان! گھبراؤ مت، مایوس نہ ہو۔ صبر و استقامت کے ساتھ، قانون و انصاف کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھو۔ ظلم کا دور وقتی ہے، مگر اللہ کی مدد دائمی ہے۔

قرآن کہتا ہے:

"إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا"

(بے شک تنگی کے ساتھ آسانی بھی ہے۔)

یقین رکھو! ظلم کا ہر باب ایک دن بند ہوگا، اور "پاپ کا گڑھا" بھر جائے گا۔ تب انصاف کا بول بالا ہوگا اور حق اپنی کرسی پر بیٹھے گا۔

یہ وقت امتِ مسلمہ کے لیے امتحان کا ہے۔ دشمن چاہتا ہے کہ ہم ٹوٹ جائیں، بکھر جائیں، مایوس ہو جائیں۔ لیکن یاد رکھو! جب مشکلات بڑھتی ہیں تو اللہ کی نصرت قریب آتی ہے۔

قرآن کا اعلان ہے:

"وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنصُرُهُ"

(اللہ ضرور اُس کی مدد کرے گا جو اس کے دین کی مدد کرے گا۔)

آج ضرورت ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ اتحاد ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ دشمن ہمیں کبھی ذات، کبھی برادری، کبھی مسلک، اور کبھی سیاسی اختلافات میں بانٹنا چاہتا ہے۔ اگر ہم متحد ہو گئے، تو کوئی طاقت ہمیں نہیں توڑ سکتی۔

لہٰذا اے ملتِ اسلامیہ! وقت آ گیا ہے کہ اپنی صفوں کو درست کریں، حق کے لیے آواز بلند کریں، اور ظلم کے مقابلے میں صبر و حکمت کے ساتھ ڈٹ جائیں۔

اے پروردگارِ عالم!

تو ہی کمزوروں کا سہارا ہے، تو ہی مظلوموں کا مددگار ہے۔ اے اللہ! ظالموں کے ظلم کو ختم فرما، مظلوموں کو عزت و وقار عطا فرما۔ ہمیں صبر و استقامت دے، حق کے لیے ڈٹ جانے کی ہمت دے، اور باطل کے مقابلے میں ایک صف میں کھڑے ہونے کا حوصلہ عطا فرما۔

اے اللہ! اس دھرتی کو ظلم کی تاریکی سے نجات دے کر انصاف اور امن کے نور سے منور فرما۔ نوجوانوں کو علم و ہنر کی دولت، اتحاد کی طاقت اور ایمان کی روشنی عطا کر۔

اے اللہ! ہمیں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے راستے پر چلا۔ ہمارے دلوں سے خوف نکال دے اور ہماری زبانوں کو حق گوئی پر قائم رکھ۔

اے رب! وہ دن جلد لا کہ جب "پاپ کا گڑھا بھر جائے" اور دنیا دیکھے کہ عدل و انصاف ہی غالب ہوا ہے۔

آمین یا رب العالمین۔

mahmoodulbari342@gmail.com