انتخاب کا معیار!
مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
میں یہ سمجھنے کی کوشش کرتارہا کہ مدین کی لڑکی (حضرت شعیب علیہ السلام کی صاحبزادی)میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کون سا ایسا وصف دیکھا کہ اپنی زندگی کے پورے دس برس اس کے مہر میں صرف کر دیے۔ نہ اس کے حسن و جمال کا ذکر آیا، نہ اس کے لباس کا، نہ اس کے قد و قامت کا، نہ اس کی آواز کی مٹھاس بیان کی گئی… اگر قرآن چاہتا تو یہ سب کچھ بیان کر سکتا تھا، مگر اللہ نے ان سب ظاہری اوصاف کو نظر انداز کر کے صرف ایک بات کو نمایاں کیا:
“فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ”
وہ ان میں سے ایک لڑکی حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی۔
یہ جملہ محض اس کے چلنے کا انداز نہیں بتاتا، بلکہ اس کے پورے باطن کا تعارف کرا دیتا ہے۔ وہ صرف قدم نہیں رکھ رہی تھی، وہ اپنے کردار کو اٹھائے ہوئے چل رہی تھی۔ اس کے قدموں میں جھجک تھی، نگاہوں میں وقار تھا، لہجے میں نرمی تھی اور انداز میں غیر ضروری بے تکلفی نہیں تھی۔ گویا حیا اس کے وجود میں گھلی ہوئی تھی، جیسے وہ لڑکی نہیں بلکہ حیا کی چلتی پھرتی تصویر ہو۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حسن کو نہیں دیکھا، بل کہ کردار کو پہچانا۔ انہوں نے جسمانی خد و خال کو نہیں پرکھا بلکہ روح کی خوبصورتی کو محسوس کیا۔ یہ لڑکی صرف زندگی کی ساتھی بننے کے قابل ہی نہیں بلکہ ایک پاکیزہ گھر بسانے کی اہل ہے۔ دس برس کی محنت، مزدوری اور خدمت ایک چہرے کے بدلے نہیں دی جاتی، ایک کردار کے بدلے دی جاتی ہے۔
یہاں قرآن ہمیں خاموشی سے ایک بہت بڑا سبق دیتا ہے: اصل کشش حیا میں ہے، اصل خوبصورتی وقار میں ہے، اصل دولت کردار میں ہے۔ دنیا ظاہری حسن کو معیار بناتی ہے، مگر اللہ نے معیارِ انتخاب حیا کو بنایا۔ اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ خوبصورت تھی، بلکہ یہ فرمایا کہ وہ باحیا تھی۔ گویا یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ جس میں حیا ہے، اسی میں اصل نسوانیت ہے، اور جس میں حیا نہیں، وہ چاہے جتنا بھی سج سنور لے، اندر سے کھوکھلی ہے۔
مدین کی اس لڑکی کا کردار ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ حیا کمزوری نہیں، طاقت ہے۔ وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئی، بات کی، اپنا پیغام پہنچایا، مگر اپنی حدود کے اندر رہ کر۔ نہ آواز میں بے جا نرمی تھی، نہ انداز میں بے پروائی، نہ نگاہوں میں جرأتِ بے محل۔ اس نے ضرورت بھی پوری کی اور وقار بھی بچا لیا۔ یہی وہ توازن ہے جو قرآن ہمیں سکھاتا ہے: نہ خاموشی کی ایسی دیوار کہ حق بات بھی نہ کہی جا سکے، اور نہ بے باکی کی ایسی آزادی کہ حیا رخصت ہو جائے۔
شاید اسی لیے اللہ نے اس واقعے کو قصہ بنا کر نہیں بلکہ اصول بنا کر بیان کیا۔ تاکہ ہر دور کی لڑکی یہ سمجھے کہ اس کی اصل پہچان اس کے کپڑوں کے رنگ میں نہیں، اس کی چال ڈھال کے انداز میں نہیں، اس کی آواز کی نرمی میں نہیں، بلکہ اس کے دل کی پاکیزگی اور رویّے کی حیا میں ہے۔ اور ہر دور کا مرد یہ سمجھے کہ جس عورت میں حیا ہے، وہی وفا، سکون اور اعتماد کے قابل ہے۔
یوں مدین کی وہ لڑکی تاریخ کا کوئی گمنام کردار نہیں رہی، بلکہ وہ ہر زمانے کی بیٹیوں کے لیے ایک زندہ نمونہ بن گئی۔ اللہ نے اس کا نام نہیں بتایا، اس کا چہرہ نہیں دکھایا، مگر اس کی حیا کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ گویا اللہ یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ نام مٹ جاتے ہیں، چہرے مٹی ہو جاتے ہیں، مگر کردار اگر قرآن میں آ جائے تو قیامت تک زندہ رہتا ہے۔
اور شاید اسی لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مہر میں دس برس دیے… کیونکہ انہوں نے ایک باحیا عورت نہیں بلکہ ایک باحیا نسل کی بنیاد رکھی تھی۔
عورت پھولوں کی طرح نرم و نازک اور خوبصورت ہوتی ہے۔ عورت کی اصل زینت اس کی حیا،سادگی اور دینداری میں ہے۔اگر عورت اپنی عفّت وحیا کی حفاظت کرتی ہے تو اللہ تعالٰی انھیں دنیا و آخرت میں انعامات عطا کرتا ہے۔ دنیا میں انعام اس طور پر کہ گھر،معاشرہ میں عزت وغیرہ ملتی ہے اور آخرت کا انعام اس طور پر کہ جنّت اور اس کی نعمتیں،بہاریں ملتی ہے۔۔۔۔