ماں`تیرے فراق نے اپنا آنگن اجنبی کردیا ؛

وہ آنگن جو کبھی تیری دعا، تیری مسکراہٹ اور تیری ممتا کی خوشبو سے مہکتا تھا، آج ویرانی کی تصویر بن چکا ہے۔
والدین کی قدر و منزلت کا حقیقی احساس تب ہوتا ہے، جب وہ ہمیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ جاتے ہیں۔
تب سمجھ آتا ہے کہ زندگی کی اصل دولت کیا تھی، اور ہم کس نعمت کو معمولی سمجھتے رہے۔
پھر وہ شور و شرابا باقی نہیں رہتا،
وہ دھیمی دھیمی، محبت بھری نظروں سے کسی چیز کا مطالبہ کرنے والی ہستی کہیں نظر نہیں آتی۔
پھر نصف شب کو جگا کر پانی مانگنے والی آواز سنائی نہیں دیتی،
نہ ہی چھڑی پکڑانے کی فرمائش باقی رہتی ہے۔
پھر گھر کے کسی کونے سے کھانسی کی آوازیں آنا بند ہو جاتی ہیں،
اور ذکرِ الٰہی میں مصروف لبوں کی سرگوشیاں خاموش ہو جاتی ہیں۔
وہی گھر جو والدین اور اولاد کی ہنسی سے گونجتا تھا،
آج ایک خاموش کھنڈر کا منظر پیش کرتا ہے۔
پہلے یہی ٹوٹا پھوٹا سا مکان ہمیں شاہی محل سے کم نہ لگتا تھا،
اور آج شاندار عمارت بن جانے کے باوجود بھی
وہ کسی قید خانے سے کم محسوس نہیں ہوتی۔
دنیا کی ہر مشکل سے ہار کر جب ماں کی محبت بھری آغوش میں پناہ لیتے،
تو یوں لگتا کہ اب دنیا میں کسی میں دم نہیں
کہ ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھنے کی ہمت کرے۔
ماں کا ایک بول ہمیں پہاڑوں سے ٹکرانے،
آسمان کو چیرنے اور زمین کو پھاڑ دینے کا حوصلہ عطا کرتا تھا۔
ماں کے فراق کے بعد ہم جینے کا سلیقہ ہی بھول گئے۔
کل تک وقت کے بادشاہ تھے،
آج حالات کے غلام بن چکے ہیں۔
سچ ہی کہا ہے کسی نے:
ماں ہی وہ ہستی تھی جو جھوٹ بول کر بھی ہمیں راحت دیتی تھی۔
جب میں انہیں پریشان کرتا تو غصے میں کہتیں:
“آج تمہیں عشائیہ نہیں ملے گا۔”
اور جب میں ان کے کہے کو سچ مان کر بغیر کھائے بستر پر لیٹ جاتا،
تو کچھ ہی دیر بعد
بڑے پیار سے بہترین اور تازہ کھانا لا کر کھلاتیں،
اور ساتھ ہی اپنی بات پر معذرت بھی کرتیں کہ
“اس وقت مجھے ذرا غصہ آ گیا تھا۔”
ہائے! ایسی ہستی دنیا میں کہاں دوبارہ ملتی ہے؟
آج جب دنیا والے کسی بات پر تنبیہ کرتے ہیں،
تو وہ کہہ کر چھوڑ نہیں دیتے،
بلکہ کر کے دکھاتے ہیں،
دوسرا موقع بھی نہیں دیتے۔
تب سمجھ آتا ہے کہ سچی خیر خواہی تو صرف ماں باپ ہی کی ہوتی ہے۔
اے اللہ!
تمام زندہ ماؤں کو سلامتی والی طویل عمر عطا فرما،
اور جو مائیں اس دنیا سے پردہ فرما چکی ہیں
انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام نصیب فرما۔

آمین، ثم آمین۔

(جمال الدین انوری)🖋️