🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ


زندگی ایک رواں دواں سفر ہے، جو کبھی ہموار راہوں سے گزرتی ہے اور کبھی ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں قدم تھم جاتے ہیں، حوصلے لرزنے لگتے ہیں اور خواب بکھر کر رہ جاتے ہیں۔

انسان اپنی پوری قوت کے باوجود جب حالات کے سامنے بے بس محسوس کرتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے وقت بھی ٹھہر گیا ہو، سانسیں بوجھل ہوں اور زندگی کی رفتار رک سی گئی ہو۔

مگر یہی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ وہ رُک کر بھی ختم نہیں ہوتی کچھ دیر بعد وہ پھر چل پڑتی ہے۔

زندگی کے رکنے کا مفہوم ہمیشہ ناکامی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ ٹھہراؤ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاموش پیغام ہوتا ہے، جو انسان کو خود احتسابی، غور و فکر اور ازسرِنو تیاری کا موقع عطا کرتا ہے۔

یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسان اپنی ذات کے آئینے میں جھانکتا ہے

اپنی کمزوریوں کو پہچانتا ہے اور اپنی ترجیحات کو ازسرِنو ترتیب دیتا ہے۔

جو لوگ اس وقفے کو مایوسی کی نذر کر دیتے ہیں، وہ حقیقتاً رُک جاتے ہیں؛ اور جو اسے سبق بنا لیتے ہیں، ان کے لیے یہی ٹھہراؤ نئی رفتار کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔

زندگی میں رکاوٹیں ہر ایک کے حصے میں آتی ہیں کسی کے خواب ٹوٹتے ہیں،

کسی کے اپنے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں،

کسی کے ارادے حالات کی چکی میں پس جاتے ہیں۔

مگر تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ ان لمحوں میں صبر، دعا اور امید کا دامن تھامے رکھتے ہیں، ان کے لیے اندھیری رات کے بعد سویرا ضرور طلوع ہوتا ہے۔

زندگی کا حسن اسی تسلسل میں ہے کہ وہ دکھ کے بعد مسکراہٹ اور زخم کے بعد شفا عطا کرتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ زندگی دوبارہ چلنے کے لیے شور نہیں مچاتی۔ وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتی ہے۔

کبھی کسی دعا کے اثر سے،

کبھی کسی نیک مشورے سے،

کبھی کسی اپنے کے ایک جملے سے

اور کبھی دل میں اچانک جاگ اٹھنے والی امید سے۔

انسان اگر ذرا سا یقین کر لے، خود کو سنبھال لے اور اللہ پر بھروسا کر لے تو رُکی ہوئی راہیں بھی خودبخود کھلنے لگتی ہیں۔

زندگی کا رک جانا انجام نہیں، بلکہ ایک وقفہ ہے۔

ایک مہلت ہے خود کو مضبوط بنانے کی، اپنے رب کی طرف پلٹنے کی اور نئے عزم کے ساتھ دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کی۔

جو شخص ہمت نہیں ہارتا، جو مایوسی کو شکست دیتا ہے، اس کے لیے زندگی کبھی جامد نہیں رہتی۔

وہ پھر چل پڑتی ہے نئے سبق، نئی روشنی اور نئی امید کے ساتھ۔

واقعی، زندگی پھر چل پڑتی ہے۔