*ولادتِ غوثِ اعظم اور اقطاب کی پیشگوئیاں*
پانچویں صدی ہجری کی فجر نمودار ہو رہی تھی، بغداد اور اطراف کی فضائیں علم و عرفان سے معمور تھیں، مدارس میں فقہ و تفسیر کی صدائیں تھیں، خانقاہوں میں ذکر و فکر کی محفلیں برپا تھیں، مگر اہلِ دل کے قلوب کسی نورانی جلوے کے منتظر تھے، وہ ہستی جس کی بشارت اولیاءِ کاملین صدیوں پہلے دے چکے تھے.
روحانیت کے آسمان پر یہ بشارتیں یوں چمک رہی تھیں گویا مستقبل کے ایک آفتاب کے آنے کی نوید سنا رہی ہوں.
*حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ*
ایک روز اپنی مجلسِ وعظ میں فرمایا: مجھے عالمِ غیب سے اطلاع دی گئی ہے کہ پانچویں صدی کے وسط میں سید المرسلین ﷺ کی پاک نسل سے ایک بزرگ ظاہر ہوں گے، ان کا نام عبدالقادر ہوگا، لقب محی الدین ہوگا، وہ جیلان میں پیدا ہوں گے اور بغداد میں قیام فرمائیں گے۔ انہیں حکمِ الٰہی ہوگا کہ اعلان کریں, قدمی ھٰذہ علیٰ رقبۃ کل ولی اللہ'، اور تمام اولیاء ان کے تابع ہوں گے.
(سیرت غوث الثقلین، ص ۵۷؛ بہجۃ الأسرار، ص۱۴)
*حضرت شیخ ابوبکر بن ہوار رحمۃ اللہ علیہ*
آپ نے اپنے مریدوں سے فرمایا:
عنقریب عراق کی سرزمین پر ایک عجمی ولی ظاہر ہوگا جو اللہ کے نزدیک بھی بلند مرتبہ ہوگا اور مخلوق میں بھی، اس کا نام عبدالقادر ہوگا، وہ بغداد میں قیام کرے گا اور ولایت کا تاجدار ہوگا.
(بہجۃ الأسرار، ص ۱۴)
*حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ*
آپ نے فرمایا: میری امت میں ایک شخص پیدا ہوگا جسے عبدالقادر کہا جائے گا، وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے گا، اس کے ہاتھ پر کثرت سے خلقِ خدا ہدایت پائے گی، اور اس کے زمانے کے اولیاء اس کے تابع ہوں گے.
(نزھۃ الخاطر الفاتر، ج ۲، ص ۱۷۴؛ قلائد الجواہر، ص ۲۲)
*حضرت سید احمد رفاعی رحمۃ اللہ علیہ*
آپ نے فرمایا: اولیاء کی زمین خشک ہو گئی ہے، اب چشمۂ ولایت عبدالقادر کے قدموں سے پھوٹے گا, وہ ہمارے بعد روحانیت کے امام ہوں گے.
(طبقات الکبریٰ للشعرانی، ج ۱، ص ۱۴۵؛ قلائد الجواہر، ص ۲۴)
*حضرت ابوالحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ*
آپ نے اپنے ایک مرید سے فرمایا:
ایک زمانہ آنے والا ہے جب جیلان سے ایک بزرگ ظاہر ہوں گے، جو ولایت کے سلطان ہوں گے۔ ان کے قدم اولیاء کی گردنوں پر ہوں گے اور ان کا نام عبدالقادر ہوگا.
(تذکرۃ الأولیاء، ذکرِ خرقانی؛ بہجۃ الأسرار، ص ۱۵)
*حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ*
آپ نے فرمایا: قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ میری امت میں ایک شخص پیدا فرمائے گا جس کے ہاتھ پر کثرت سے لوگ ولایت کے درجہ کو پہنچیں گے، اس کا نام عبدالقادر ہوگا، اور وہ لوگوں کے مردہ دلوں کو زندہ کرے گا.
(قلائد الجواہر، ص ۳؛ بہجۃ الأسرار، ص ۱۵)
*حضرت ابوسعید مخزومی رحمۃ اللہ علیہ*
آپ اپنے مریدوں سے فرمایا کرتے تھے
ایک نورانی فرزندِ سادات جیلان میں ظاہر ہوگا، اس کی زبان سے اللہ تعالیٰ کے اسرار ظاہر ہوں گے، اور بغداد اس کے علم و کرامت سے جگمگا اٹھے گا.(سیرت غوث الثقلین، ص ۶۰؛ بہجۃ الأسرار، ص ۱۶)
*حضرت شیخ ابوالفتح واسطی رحمۃ اللہ علیہ*
میں دیکھتا ہوں کہ مشرق کی طرف سے ایک مردِ کامل ظاہر ہوگا، جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی معرفت عطا کرے گا، اس کا نام عبدالقادر ہوگا.(قلائد الجواہر، ص ۴؛ طبقات الشعرانی، ج ۱، ص ۱۴۶)
*حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ*
آپ نے فرمایا: میرے بعد ایک بزرگ آئیں گے جو لوگوں کو ظاہراً و باطناً سنتِ مصطفیٰ ﷺ پر قائم کریں گے۔ وہ عبدالقادر ہوں گے اور اولیاء میں غوث کے لقب سے مشہور ہوں گے.
(نزھۃ الخاطر الفاتر، ج ۲، ص ۱۷۵؛ بہجۃ الأسرار، ص ۱۸)
*حضرت شیخ سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ*
آپ نے فرمایا: میرے بعد اولیاء کی جماعت میں سے ایک بزرگ ظاہر ہوں گے، جن کے کمالات آفتاب کی طرح روشن ہوں گے۔ وہ عبدالقادر ہوں گے، اور ان کی زبان سے اللہ تعالیٰ اپنے اسرار بیان فرمائے گا.
(تذکرۃ الأولیاء، ذکر سری سقطی؛ قلائد الجواہر، ص ۵)
یہ تمام بشارتیں مختلف ادوار میں صادق و عارف اولیاء کے زبانِ مبارک سے صادر ہوئیں, گویا اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے کے ایک قطب سے غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نورِ ولایت کی خبر دلوا دی تاکہ دنیا جان لے کہ ولایتِ کبریٰ کا تاج جس سر پر رکھنا تھا، وہ عبدالقادر جیلانی ہی کا سر ہے.
یوں صدیوں کے فاصلوں سے گزر کر رمضان المبارک 470ھ کی وہ صبح طلوع ہوئی جب وہ معزز ہستی جلوہ گر ہوا جس کی بشارت آسمانِ ولایت کے سب ستارے صدیوں سے دے رہے تھے.
یہ فقط چند اولیاء کے اقوال ہیں اور بہت ہیں ایسے جنہوں نے غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی بشارت دی ہے.
*اور اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ فرماتے*
تجھ سے در در سے سگ سگ سے ہے مجھ کو نسبت
میری گردن میں بھی ہے دور کا ڈورا تیرا
✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️