السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الحمد اللہ وکفی وسلم علی عبادہ الذین اصطفی
!!اما بعد
:قال اللہ تعالیٰ
إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ
ترجمہ: بے شک نماز بے حیایٔ اور بری باتوں سے روکتی ہے ۔
دین اسلام کی بنیاد پانچ ستونوں پر ہے
" بنی الاسلام علی خمس"
نماز دینِ اسلام کا دوسرا اہم رکن ہے اور ایمان لانے کے بعد سب سے اہم عمل نماز ہے۔ قیامت کے دن سب سے پہلے اسی کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ نماز بندے کا خدا سے رابطے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے ۔
١-مسلۂ: لوگ نماز اور جماعت سے دور کیوں ہو رہے ہیں ؟اصل وجہ کیا ہے؟
آج کے دور میں لوگوں کی نماز سے دوری بہت بڑھ گئی ہے ۔ اس کی کافی ساری وجوہات ہیں جن میں دنیاوی مصروفیات اور ترجیحات ، دینی علم کی کمی ، سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کا غلبہ، نفسانی سستی اور غفلت ، مساجد کے ماحول سے دوری، ماحول اور صحبت کا اثر اور ایمان میں کمزوری ہے۔
آج کے دور میں لوگ اپنے دنیاوی مصروفیات میں اتنے مشغول ہو گئے ہیں کہ ان کے پاس نماز کا وقت نہیں ہوتا ہے ۔
ان سے نماز کا کہہ دو تو ان کے الفاظ ہوتے ہیں: "ہماری لاںٔف بہت بزی ہے ،ہمارا شیڈیول بہت ٹائیٹ ہے نماز کا وقت نہیں ملتا ، ہمیں تو مرنے کی بھی فرصت نہیں ہے "۔
دین سے دوری اس قدر بڑھ گئی ہے کہ لوگوں کو حقوق اللہ کا علم بھی نہیں ۔ نہ نماز کی اہمیت کا علم ہے نہ ہی دیگر احکام خداوندی کا ۔
:نماز کی اہمیت
قرآن مجید میں سات سو سے زائد مقامات پر نماز قائم کرنے کا حکم آیا ہے۔ باری تعالیٰ نے بار بار ارشاد فرمایا ہے: اقیم الصلاۃ اقیم الصلاۃ
٢-اثرات: نماز چھوڑنے کے دنیاوی و دینی نقصانات
ایمان اور شرک کے درمیان سب سے بڑا فرق نماز
صحيح مسلم میں ہے:
عن أبي سفيان، قال: سمعت جابرا رضي الله عنه يقول: سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول: «إن بين الرجل و بين الشرك و الكفر ترك الصلاة
(كتاب الإيمان،باب بيان إطلاق اسم الكفر على من ترك الصلاة،١٦/١،ط: دار الطباعة العامرة)
ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ : نماز کا چھوڑنا بندہ مؤمن اور شرک و کفر کے درمیان (کی دیوار کو ڈھا دیتا) ہے۔ (مظاہر حق )
نماز کو چھوڑنے والا دین کو ڈھا دینے والا ہے
عن عمر رضي اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الصّلاة عَمُودُ الدین
(رواہ أبو نعیم في الحلیة)
اس حدیث شریف میں نماز کو دین کا ستون قرار دیا گیا ہے، گویا نماز کو قائم رکھنے والا اپنے دین کو قائم رکھنے والا ہے، اور نماز کو چھوڑدینے والا اپنے دین کو ڈھادینے والا ہے۔
اور ایک حدیث شریف میں ہے
من ترک الصلاة لقي اللہ وہو علیہ غضبان (رواہ الطبراني)
ترجمہ ؛
یعنی جو شخص نماز چھوڑدے، وہ اللہ تعالیٰ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے سخت ناراض ہوں گے۔ اس طرح کی ایک دو نہیں بے شمار حدیثیں ہیں، جن میں نماز چھوڑنے پر سخت سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، بلکہ نماز میں سستی کرنے پر بھی طرح طرح کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ اور جس چیز پر وعید وارد ہو، یا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہوتی ہو، وہ گناہ کا کام ہوتا ہے۔
روز قیامت بے نمازی کا حشر
:مسند أحمد میں ہے
عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه: ذكر الصلاة يوما فقال: من حافظ عليها كانت له نورا و برهانا و نجاة يوم القيامة، و من لم يحافظ عليها لم يكن له نور و لا برهان و لا نجاة و كان يوم القيامة مع قارون و فرعون و هامان و أبي بن خلف
(مسند عبد الله بن عمرو بن العاص - رضي الله عنهما،١٤١/١١،ط: مؤسسة الرسالة)
ترجمہ:حضرت عبد اللہ ابن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز کا ذکر کیا (یعنی نماز کی فضیلت و اہمیت کو بیان کرنے کا ارادہ فرمایا) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو شخص نماز پر محافظت کرتا ہے (یعنی ہمیشہ پابندی سے پڑھتا ہے) تو اس کے لیے یہ نماز ایمان کے نور (کی زیادتی کا سبب) اور ایمان کے کمال کی واضح دلیل ہوگی، نیز قیامت کے روز مغفرت کا ذریعہ بنے گی، اور جو شخص نماز پر محافظت نہیں کرتا تو اس کے لیے نہ (ایمان کے) نور (کی زیادتی کا سبب بنے گی،) نہ (کمال ایمان کی) دلیل اور نہ (قیامت کے روز) مغفرت کا ذریعہ بنے گی، بلکہ ایسا شخص قیامت کے روز قارون، فرعون، ہامان اور ابی ابن خلف کے ساتھ (عذاب میں مبتلا) ہوگا۔
قرآن کی روشنی میں بے نمازی کا انجام
چنانچہ قیامت کے دن جب بے نمازی سے پوچھا جائے گا
مَا سَلَـكَكُمۡ فِىۡ سَقَرَ (سورہ المدثر آیت نمبر42)
ترجمہ ؛
تم لوگوں کو کس چیز نے جہنم میں ڈالا
تو وہ کہیں گے
لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡن ( سورہ المدثر آیت نمبر43)
ترجمہ ؛
ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے
نماز چھوڑنے کے چند نمایاں دنیاوی نقصانات درج ذیل ہیں
رزق سے برکت کا اٹھ جانا: نماز چھوڑنے والے کے رزق اور کمائی سے برکت ختم ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ کثرتِ مال کے باوجود بے سکونی کا شکار رہتا ہے۔
چہرے کی رونق کا ختم ہونا: حدیث مبارکہ کے مفہوم کے مطابق، نماز نہ پڑھنے والے کے چہرے سے صالحین کی نورانیت اور رونق چھین لی جاتی ہے۔
دعا کی قبولیت میں رکاوٹ: نماز ترک کرنے والے کی دعاؤں میں وہ اثر نہیں رہتا اور اس کی دعائیں اللہ کے ہاں شرفِ قبولیت پانے سے محروم رہ سکتی ہیں۔
ذہنی اور قلبی بے سکونی: اللہ کے ذکر (نماز) سے دوری انسان کو قلبی اضطراب اور ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیتی ہے، کیونکہ دلوں کا سکون اللہ کی یاد میں ہی ہے۔
عمر کی برکت کا خاتمہ: نماز چھوڑنے والے کی زندگی اور وقت سے برکت اٹھا لی جاتی ہے، جس سے وہ اپنے وقت کا صحیح استعمال نہیں کر پاتا۔
لوگوں کے دلوں میں مقام کا ختم ہونا: جو شخص اللہ کے حقوق ضائع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں سے اس کی محبت اور ہیبت کم کر دیتا ہے۔
نماز کا چھوڑنا ایسا گناہ ہے جس کے بارے میں اںٔمہ اربعہ میں سے امام الاعظم نعمان بن ثابت ابو حنیفہ رحمہ اللہ ، امام مالک رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ " نماز چھوڑنے والا کافر تو نہیں ہوتا البتہ کفر کے قریب پہنچ جاتا ہے لیکن امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول ہے کہ" جس نے فرض نماز جان بوجھ کر چھوڑ دی وہ کافر ہے ۔
سعودی عرب کے عالم شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ کا فتویٰ تھا کہ :جو شخص نماز نہیں پڑھتا اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے ۔
اسی طرح محبوب العلماء و صلحاء حافظ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ کا اور بہت سے علماء کا فتویٰ تو یہ ہے کہ :جو نماز نہیں پڑھتا اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے۔
اسی طرح انکے خلیفہ و مجاز حضرت جی مفتی عبد الرحمن قاسمی نقشبندی مرادآبادی دامت برکاتہم العالیہ کو ایک مرتبہ فرماتے ہوے سنا ہے کہ : جو شخص نماز نہیں پڑھ رہا خطرہ ہے کہ کہیں آخری وقت میں اس ایمان نہ چھن جائے۔
٣- حل نو جوانوں کو نماز اور مسجد کی طرف کیسے لایا جائے ؟؟
نوجوانوں کو مسجد کی طرف مائل کرنے میں علماء، اساتذہ اور والدین کا کردار کلیدی ہے۔ اس ضمن میں اہم ذمہ داریاں درج ذیل ہیں
خوش اخلاقی اور شفقت: علماء کو چاہیے کہ وہ مسجد آنے والے نوجوانوں کے ساتھ نہایت شفقت اور نرمی سے پیش آئیں۔ ان کی غلطیوں پر ڈانٹنے کے بجائے پیار سے اصلاح کریں تاکہ وہ مسجد سے بدظن نہ ہوں۔
نوجوانوں کے لیے مخصوص پروگرام: مساجد میں صرف نماز ہی نہیں، بلکہ نوجوانوں کے مسائل، جدید چیلنجز اور ذہنی صحت سے متعلق ورکشاپس اور مذاکروں کا اہتمام ہونا چاہیے۔
ذمہ داریاں سونپنا: نوجوانوں کو مسجد کے انتظامات، جیسے اذان، صفوں کی ترتیب یا پروگرامز کی مینیجمنٹ میں شامل کر کے ان میں احساسِ ملکیت (Sense of Ownership) پیدا کیا جائے۔
جدید ذرائع کا استعمال: علماء اپنے بیانات میں ایسے موضوعات لائیں جو نوجوانوں کی زندگی سے متعلق ہوں اور مسجد کی سرگرمیوں کی تشہیر کے لیے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کریں۔
بچپن سے تربیت: بچوں کو سات سال کی عمر سے ہی مسجد لے جانے کی عادت ڈالیں تاکہ وہ وہاں کے ماحول سے مانوس ہو سکیں۔
عملی نمونہ بننا: اگر والدین اور اساتذہ خود مسجد کے پابند ہوں گے، تو بچے بھی ان کی پیروی کریں گے۔ والدین اور اساتذہ کا اپنا کردار سب سے بڑا سبق ہے۔
مسجد کے ساتھ مثبت تعلق: مسجد سے واپسی
پر بچوں کی حوصلہ افزائی کریں اور کبھی کبھار انہیں کوئی تحفہ یا پسندیدہ چیز دلا کر اس سفر کو ان کے لیے خوشگوار بنائیں۔
صبر و تحمل: اگر مسجد میں کسی بڑے کی طرف سے سختی ہو، تو والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کو سمجھائیں اور مسجد سے دور کرنے کے بجائے حکمت سے معاملہ حل کریں۔
دوستانہ ماحول: مسجد کے بارے میں خوف کے بجائے محبت پیدا کریں۔ نوجوانوں کو ڈانٹنے کے بجائے پیار سے مسجد کی اہمیت سمجھائیں۔
نماز کے فوائد پر گفتگو: صرف ثواب ہی نہیں، بلکہ نماز کے نفسیاتی، جسمانی اور سماجی فوائد پر جدید تناظر میں بات کریں تاکہ ان کا ذہن مطمئن ہو۔
مشترکہ ادائیگی: اسکول یا کالج میں ظہر کی نماز کے لیے اساتذہ اور طلبہ کا مل کر کھڑا ہونا ایک مضبوط تعلق پیدا کرتا ہے۔
مسجد کو مرکز بنانا: اساتذہ طلبہ کو ایسی سرگرمیوں کی ترغیب دیں جو مسجد میں منعقد ہوں، تاکہ ان کا مسجد سے مانوس ہونا آسان ہو۔
صحابہ کرام کی زندگیوں کو پڑھیں: نو جوانوں کو اور بچوں کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مبارک زندگیوں کے بارے میں بتانا چاہیے ان کے ایمان کے جزبہ کو ان کی سیرت کو پڑھایا جائے سکھایا جائے ۔
🌹جزاکم اللہ خیرا
🤲والسلام و محتاج دعا