معاشرے میں بے نمازی کا بڑھتا روجھان : اسباب ، الثرات اور عملی حل "
<=
اللہ تعالٰی نے اس دنیا میں ہر چیز کا تعلق کسی نہ کسی چیزے جوڑ رکھا ہے۔ جیسے ایک مچھلی کا تعلق پانی سے ایک چھوٹے بچتے کا تعلق اس کی ماں سے طالب علم کا تعلق علم سے ویسے ہی بندے کا تعلق اپنے پرور دگار سے ۔ بندے کا تعلق اپنے پروردیگار سے یہ دنیا کا سب سے خوبصورت تعلق ہے۔ لیکن ہم سب جانتے ہے کہ ہر تعلق کو جوڑے رکھنے کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ بنا ذریعے کے بنا جوڑے رہنے سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے ۔ بلکل اسی طرح ایک بندے کا اپنے رب سے جوڑے رہنے کے لیے سب سے بہترین ذریعہ نماز ہے۔
جیسے دنیاوی عاشق ہوتے ہے جو اپنے محبوب سے ملاقات کہ لیے بہانے دھونڈتے رہتے ہے ۔ طرح طرح کہ بہانے بنے جاتی ہے ایسی طرح اللہ سے ملاقات کا سب سے بہترین ذریعہ نماز ہے جو اللہ سے محبت کرتا ہے ۔ وہ اذان کا انتظار کرتا ہے۔ اور جو دنیا کو اپنی چاہت بنائے ہوئے ہے وہ اذان کو ان سنا کرتے ہے یہاں تک کہ غفلت کا عالم یہ ہوتا ہے کہ اذان سنائی تک نہیں دیتی ۔ اور یہ وہی دور ہے کہ جہاں ہم دنیا کے لیے خدا کو بھول بیٹے ہے ۔ ہم ایسی کو بھول گئے ہے جس نے ہمیں بنایا اور جو ہمیں سب سے بڑھ کر محبت کرتا ہے ۔
ہم سب جانتے ہے کہ نماز ایک بنیادی عبادت ہے اور اس کا مطلب اللہ سے جوڑاؤ ہے۔ لیکن اس دور میں اس نسل میں بے نمازی بڑا سنجیدہ مسلہ کیوں پیدا ہوا آخر اس کی وجہ کیا ہے خاص طور سے ہم دیکھتے ہے کہ Gen.Z میں یہ مسلہ سب سے زیادہ اور عام ہے۔ آخر کیوں ؟
ہمارے معاشرے میں بے نمازی اس لیے عام ہو گئی کیوں کہ آج کہ دور کا مسلمان ایمان کا بڑا کچا ہو گیا ہے۔ آج کل ہر انسان کو اپنی دنیا بنا نا ہے ۔ آخرت کو چھوڑ کر۔ اور اس کا سب سے بڑا ذمہ دار کہیں نہ کہی ہمارے ہاتھوں میں رکھا موبائیل فون ہے بھی ہے social media whatsapp, instagram, snap chat,s اور پاٹا نہیں کیا گیا ۔ اتنی فکر تو نوجوانوں میں اپنا مستقبل بنانے کی نہیں ہے جتنی فکر انسٹا گرام پر اپنے follower بڑھانے کی ہے ۔ جنی فکر اس چیز کی ہے کہ اسنیپ پر اسٹریکٹ نہ ٹوٹ جائے ۔ اور کل WhatsApp پر stutas کیا لگانا ہے اس سے بڑھ کر تو آج کے نوجوانوں میں شاید ہی کوئی فکر ہوں ۔ لیکن اللہ اور اس کے رسول(SAW) کی نظروں میں ہمارا رتبہ کیا ہے اس کا کیا ۔ بڑے افسوس کے ساتھ کہ ہمیں اس چیز کی کوئی فکر نہیں
موبائل کے صرف غلط استعمال ہے یہ بات میں نہیں مانتی۔ اس کے بہت سارے استعمال ہے جو بہت فائدے بخش ہے۔ سوشل میڈیہ کو ہمیں حق کی خاطر آواز اٹھانے کا ذریعہ بنانا چاہیے نہ کہ غفلت کی وجہ ہمیں اس نقصان دینے والی چیز کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ علم حاصل کرنے کا ذریعہ بنانا چاہے
لیکن ہم اس کے فتنے سے تب ہی بچ سکتے ہے جب ہمارا ایمان کا مل ہوں ... جب ہم صحیح غلط میں فرق جانتے ہوں ۔ جب ہمارا نظریہ یہ ہوں کے ہم موبائل جیسے فتنے کو حق کی خاطر آواز اٹھانے کا ذریعہ بنائے کیوں کی ہمارا نظریہ ہی بتاتا ہے کہ ہمیں نظر آنے والا نظارہ کیا ہونگا ۔
وہی اگر ہم دوسرے مسئلہ پر بات کرے تو یہ کہنا غلط نہیں ہونگا کہ اس کی دوسری سب سے بڑی وجہ گھر کا ماحول ہے والدین کی لاپرواہی بہت بادی وجہ ہے ۔ جب کہ ہمارا مذہب سیکھاتا ہے کہ بچھا اگر نو سال کا ہونے پر نماز چھوڑتا ہے تو ماں باپ کو چاہے کہ بچے کو مار کر نماز پڑھائے ۔ لیکن ہمارے گھر کا ماحول ایسا کہا رہا ۔ میں یہ چیز سے اتفاق نہیں رکھتی کے اگر والدین نمازی ہو تو بچے بے نمازی ہو سکتے ہیں کیونکی بچہ وہی سیکھتا ہے جو وہ بچپن میں دیکھتا ہے بچے ہم دیکھتے ہے کے گھر کے بڑوں کو نماز پادھتا دیکھ بچھے خود اپنی چھوٹی سی جائے نماز لیکر آتے ہے اور بڑوں کو دیکھ کر نماز بڑھنے لگ جاتے ہے ۔ ہم سب ہمیشہ سے سنتے آرہے ہے کہ بچے کا پہلا مدرسہ اس کی ماں کی گو د ہے۔ اگر ایک ماں نمازی ہے ۔ اس ماں میں صحابیاں والی صفت ہے تو اس ماں کا بچہ بے نمازی تو نہیں ہوں سکتا ہے.
ہمارے معاشرے میں آج کی ماں باپ جوب والے ہے انھیں خود وقت نہیں کے وہ نماز پڑھے پھر بچے کو سکھانے کا تو سوال ہی غلط ہے ۔
آج کل ہر نوجوان اپنی زندگی کو اچھا بنانے کے لیے نوکری کرتا ہے ۔ جس سے ایسے ایک اچھی تنخواہ ملے اور مستقبل روشن کر سکے ۔ جوب میں آفس جانے کا وقت ہوتا ہے 10 بجے اور شام 5.6 بچے تک وہ کام کرتا رہتا ہے ۔ لیکن اس بیچ کیا ہوتا ہے ؟ اس بیج ظہر ہوتی ہے اس بیچ عصر ہوتی ہے ۔ اور مغرب تو ایسے راستے میں گھر پہنچنے تک ہوں جاتی ہے۔ اور دن بھر کی تھکن عشاء کہا پڑھنے دیتی ہے۔ اور چار نمازوں کی گافلت فجر نہیں پڑھنے دیتی ۔ لیکن کیا ایسی زندگی میں برکت ہے ؟ اور اگر مان بھی لیجے کے ہم اس سے دنیا کما لینکے لیکن آخرت کا کیا ؟ مناسب ہے ؟ کرے خود سے سوال !!!
بے نمازی کا تیسرا سبب، ہمارے معاشرے کے اپنائی ہوئی غیروں کی تہذیب کو کہیں سکتے ہے جو کہ بلکل غلط نہ ہونگا ہم اپنی شادیوں کو گیرو کی تہذیب کے حساب سے مناتے ہے۔ جیسا گائر کرتے ہے ہلدی کے لیے پیلا لباس مہندی کے لیے ہر ا لباس ہم birthday مناتے ہے جو مغربی تہذیب ہے۔ ہم شادیوں کی سالگرہ منا رہے ہے ۔ اور پاٹا نہیں کیا کیا۔ سچ کہو تو ہم نے غیروں کی تہذیب کو گود لے لیا ہے اور اب اس کو پال پوس کر بڑا کر رہے ہے ۔ جس کی وجہ سے خود کی تہذیب کو پرایا کیا جا رہا ہے ہماری نسل نماز کے قوائدتو نہیں جنتی۔ لیکن ویلنٹائن ڈے نیال سال جیسے دنوں سے بخوبی واقف ہے۔ سنبھل جائے اور سنبھال لیے اس سے پہلے کے آنے والی نسلوں کے لیے نماز صرف ایک تصویر بن جائے ۔ ایک عبادت نہ راہے ۔ وہ صرف اپنے بزورگو سے انکی باریے میئے سنیے
بے نمازی کی وجہ تو ہم نے جان لی لیکن اس کے کتنے نقصانات ہے یہ ہم تصوّر بھی نہیں کر سکتے ۔ اس کے دینی نقصانات کے ساتھ ساتھ دنیاوی نقصانات بھی ہے ۔
آج ہم سب دیکھ رہے ہے کہ ہماری قوم کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہے۔ مان لیتے ہے کے غیروں کی سازشیں ہے لیکن کاہی تو ہم چوک رہے ہے ۔ وجہ ہے نماز کا نہ پڑھنا ۔ کہی اگر مسجد شہید ہو جائے تو ہمیں بہت افسوس ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم ہی مسجدوں کو ویران کرتے ہے تو ہم کیوں افسوس نہیں کرتے ؟ افسوس کا مقام تو یہ بھی ہے ۔ یہ کہنا غلط نہیں ہے کے مسجدیں اس لیے شہید ہو رہی ہے کیوں کی ہم انہیں آباد کرنے میں نا کام ہے ۔ اللہ اپنے بسے بسائے آباد گھر کو کبھی لوٹنے نہیں دیتا ۔ بے نمازی کا اس سے بڑا نقصان کیا ہو سکتا ہے کے ہمارا ایمان کمزور ہو جائے ۔
ہم صحابہ کے اور غازیوں کے اللہ والوں کے قصے سنتے اور پڑھتے ہے کے وہ کتنے بہادر تھے دین کی خاطر کسی طرح لڑا کرتے تھے حتی کے شہید ہو جایا کرتے تھے ۔ لیکن آج کا مسلمان کمزور ہین ہماری نوجوان قوم میں بےنمازی ہے ، اسی لیے ہماری نوجوان نسل کمزور ہے۔ کیونکہ جن میں سجدے میں سر جھکانے کی صفت نہیں ان میں دین کی خاطر سر کاٹانے کا ہنرکہا سے آئیگا۔
Depression
یہ ہمار Demotivation anxiety معاشرے میں پائے جانے والے ہر پانچ میں سے 4 فرد کا مسئلہ ہے۔ کوئی ایک جگہ focus نہیں کر پاتے ۔ اور ان ہی مسئلوں سے الجھ کر سکون کی تلاش بھی انہیں تھکا دیتی ہے ۔ اور یہاں سے وہ over
thinking کا شکار ہو جاتے ہیں
۔
اور اس چیز سے غافل ہے کے دلوں کا سکون اللہ کو یاد کرنے میں ہے جو کے خود اللہ قرآن میں کہتے رہا ہے۔ لیکن جو پانچ وقت نماز نہ پڑھ سکے اُنیس قرآن کے بارے علم کیسے ہو سکتا ہے ۔ ہم دیکھتے ہے کے آج کی نسل میں خود اعتمادی نہیں ہے۔ یہ بے نمازی کے اثرات ہے۔
آج کے دور میں ہم دیکھ سکتے ہے کے ہمارے جو بڑے بزرگ ہے وہ صبح فجر کے لیے بلا ناگا جاتے ہے۔ اور وہ اپنی زندگیوں میں کامیاب بھی ہے کیونکی ان کی صبح جلدی ہوتی ہے۔ اور نماز کی برکت سے ان کے دن بھر کے کام بن جایا کرتے ہے۔ وہ اپنے بڑوں کی بہت عزت کیا کرتے ہیں۔ کیونکہ انہیں یہ تربیت ملی ہے ۔ آج کا جوان جس کی رات بھی دیر سے ہوتی ہے اور صبح بھی آدھا دن گزرنے کے بعد ... اور بڑوں کا احترام بھی کہا باقی رہا ہے۔ بہت ہی Cool انداز میں کہا جاتا ہے کے دادا جی اپنی پرانی سوچ اپنے پاس رکھے زمانہ بدل گیا ہے ۔
اس دور میں اتنی بیہائی ہے کے ہمارے ایمان کو کھانے کے لیے کافی ہے ۔ ہم حدیسو میں پڑھتے ہے کے نماز بے حیائی کو روکتی ہے۔ اور جب نماز ہی نہ پڑھی جائے تو بے حیائی کا عام ہوتا تو لازم ہے ۔ جن عورتوں پر پردہ فرض کیا گیا ہے وہ جسم کی نمائش کرنی ہے چھوٹے کپڑے پہنے کو آزادی سمجھتی ہے ۔ ہے نمازیوں کے اثرات یہاں تک ہو گئے ہے کے کسی غیر محرم کو دیکھنا اس سے بات کرنا تعلق رکھنا گناہ نہیں سمجھا جاتا ۔ اور یہی چیز دیمک بن کر دھیرے دھیرے ہمارے ایمان کو کھا جاتی ہے ہمیں خود پتا نہیں چلتا ۔ جس امت کے شانوں پر ہمارے نبی(SAw) دین کی دعوت کی ذمہ داری چھوڑ کر گئے ہے وہ شانے آج بھار اٹھانے کے قابل نہیں ۔
بے نمازی کے اسباب و اثرات پر تو ہم نے بات کرلی ہے۔ لیکن اس کا عملی حل کیا ہو سکتا ہے۔ یہ سوچنا بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ کیونکی اس بیماری کو ہم اتنا نہیں بڑھنے دیے سکتے کے یہ ایک دن ہمارے ایمان کا جنازہ نکال دین۔
جیسئےایک چھوٹا سا پودہ ہوتا ہے جیسے ہم بچپن سے پال پوس کر بڑا کرتے ہے اس کی غیر ضروری تہینیو کو کٹے ہے اس کو تھوڑا باندھتے ہے تا کے اس کی ڈالی۔ دوسروں کو تکلیف نہ دیے۔ اور وہ ایک بہترین درخت بنتا ہے ۔ اسی طرح ہر والدین کو چاہیے کے بچوں کے اندر اخلاقیت نماز کا جذبہ اور اللہ اور رسول اللہ کی محبت کو اپنے بچوں کے دلوں میں بچپن سے دال تاکہ بڑا ہونے کے باد وہ ایک نمایاں کردار والی شخصیت بننے اپنے بچوں کو سلمان اور شاہ رخ کا fen نہ بنائے بلکہ ان کا رول ماڈل ہمارے نبی(SAw) کو بنائے خالد بن ولیدکو بنائے ہمارے صحابہ کو بنائے۔
وہیں اگر ہم دوسرے عملی حل کی بات کرے تو مجھے لگتا ہے ہمیں ہمارا اسکولی نظام درست کر کے بہتر بنانا چاہئے ۔ کیونکی اس تیز رفتاری والے دور میں ہر ماں باپ چاہتے ہے کے اس کے بچے کو قابل بنانے کے لیے ایک بہترین ادارہ ملے۔ لیکن ہمارا اسکولی نظام اس کو پورا کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ اس لیے والدین اپنے بچوں کا داخلہ غیروں کی اسکول میں کرا دیتے ہے۔ اور یہیں سے وہ بچوں اپنی ثقافت اور مذہب سے دور ہونے کی پہلی سر قدم پر ہوتا ہے۔ وہ کرسمس دیوالی نیا سال جیسی چیزو کو ماننے لگتا ہے۔ جب ہمارے بچے سیکھنے کی عمر میں مغرب کے تہوار اور مغربی تہذیب سیکھنے لگ رہے ہے ۔ تو بے نمازی کا بدھنا کوئی ہیران کرنے والی بات نہیں ہونگی ۔
یہ ذمہ داری صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے ۔ ہمیں چاہئے کے اسکول مدرسہ ، اور کالج میں نماز کی اہمیت کو واضح طور پر سمجھانا چاہئے ۔ اور ہمارے معاشرے میں جگہ جگہ وقت بر وقت بے نمازی کے بڑھ روجھان کو لے کر پروگرام اور اجلاس قائم کرنے جائیے۔ رسالوں میں مضمون شائع کرنے چاہئے۔ اور آج کی نسل سوشل میڈ یہ والی ہے تو ہمیں نماز کے فائدے اور بے نمازی کے نقصانات پر سوشل میڈیا پر کونٹینٹ پڑھا دینا چاہئے۔ مدرسوں میں بچوں کو پانچ وقت کی نماز پڑھنے پر انعامات دینا چاہئے تاکہ ان کے اندر جذبہ اور شوخ پیدا ہوں ۔ اگر بندہ 40 دن تک نماز ھیں تو وہ اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ اور ہمیں یہ قدم بچپن ہی سے اٹھانا ہونگا کیونکی بچپن کی عادت جوانی کا شوخ بنتا ہے ۔ نوجوان بچوں کو جماعت میں نکیلے۔ ٹاکے وہ اللہ کے راستے میں وقت گزار اور اس کی عظمت کو سمجھے ۔ انہیں الله والوں کی صحبت میں رکھے تا کے وہ دین سیکھے اور صحیح غلط کی
سمجھ ان کے اندر پیدا ہوئی ہوں ۔
آخر میں بس تہیئے دل سے صدائے قلم کا شکریہ ادا ۔ کرتی ہوں کے مجھے موقعہ دیا کے میں اپنے دلکی بات کو سب تک پہنچا سکو۔ اور
اپنے سبھی بھائی بہنوں سے درخواست کرتی ہو کے خود کو پہنچانوں ہمیں امت کی حفاظت کے لیے چنا ہے ۔ ہمیں اللہ اور اس کے رسول(SAW) کا پسندیدہ بنتا ہے ۔ ہمیں غازی بنتا ہے ہمیں نمازی بننا ہے۔