معاشرے میں بے نمازی کا بڑھتا ہوا رجحان اسباب اثرات اور حل
ازل کی پہلی ساعت سے لے کر ابد کے آخری لمحے تک یہ پوری کائنات سراپا سجدہ ہے۔ افلاک کی گردش ہو یا ذروں کی خاموش تسبیح، سب ایک ہی مرکزِ بندگی کے گرد محوِ طواف ہیں۔ کہکشائیں بے صد
04 فروری، 2026
ازل کی پہلی ساعت سے لے کر ابد کے آخری لمحے تک یہ پوری کائنات سراپا سجدہ ہے۔ افلاک کی گردش ہو یا ذروں کی خاموش تسبیح، سب ایک ہی مرکزِ بندگی کے گرد محوِ طواف ہیں۔ کہکشائیں بے صدا سر جھکائے ہوئے ہیں، ہوائیں ذکر میں مصروف ہیں اور دریا اطاعت کے نغمے گنگنا رہے ہیں۔ ان سب کے درمیان انسان جسے اشرفُ المخلوقات کا شرف عطا ہوا، اگر کسی وصف سے ممتاز ہے تو وہ معرفتِ الٰہی اور شعوری بندگی ہے۔
نماز چند حرکات و سکنات کا مجموعہ نہیں بلکہ وہ روحانی معراج ہے جہاں بندہ اپنی خودی کو مٹا کر ربِّ کائنات کی کبریائی میں فنا ہو جاتا ہے۔ یہ وہ نورِ جاوداں ہے جو قبر کی تاریکی میں چراغ بنتا ہے اور حشر کی تپش میں سایہ۔ مگر المیہ یہ ہے کہ آج کا انسان، خصوصاً مسلمان، اس چشمۂ حیات سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ اذان کی صدا اب بھی فضاؤں کو معطر کرتی ہے مگر دلوں کے قفل نہیں کھلتے۔ مسجدیں کھلی ہیں مگر صفیں خالی؛ محرابیں قائم ہیں مگر سجدوں کی آہٹ مفقود۔
بقولِ شاعر؎
جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی، تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترے دل کو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں
بے نمازی کے اسباب
نماز سے دوری محض وقتی غفلت نہیں بلکہ ایمان کی جڑوں میں لگی وہ خاموش دیمک ہے جو رفتہ رفتہ فرد، خاندان اور پورے معاشرے کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اس کی سب سے نمایاں وجہ حبِّ دنیا اور مادی جکڑن ہے۔ جب انسان رزق کی دوڑ میں رازق کو بھول جائے تو محنت تو باقی رہتی ہے مگر برکت اٹھ جاتی ہے۔ قرآن کریم صاف لفظوں میں متنبہ کرتا ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ (المنافقون: 9) اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد (نماز) سے غافل نہ کر دیں۔ایمان کی کمزوری بھی بے نمازی کا ایک بنیادی سبب ہے۔ کمزور ایمان سجدے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ جب دل میں آخرت کی جواب دہی، قبر کی تنہائی اور قیامت کی پیشی کا احساس مدھم پڑ جائے تو نماز اختیاری عمل محسوس ہونے لگتی ہے۔ اسی طرح علمِ دین سے ناواقفیت بھی ایک بڑا سبب ہے۔ بہت سے لوگ اس لیے بے نماز نہیں کہ وہ باغی ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ نماز کی حقیقت، اس کی عظمت اور ترک کے انجام سے واقف نہیں۔گناہوں کی کثرت اور دل کا زنگ بھی نماز سے دوری کا باعث بنتا ہے۔ مسلسل نافرمانی دل پر ایسی تہہ جما دیتی ہے کہ نورِ ہدایت اندر اترنے سے رک جاتا ہے، پھر سجدہ بوجھ بن جاتا ہے اور عبادت رسمی حرکت۔ قرآن فرماتا ہے:كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ (المطففین: 14) ہرگز نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے، خاندانی تربیت کی کمی بھی نہایت اہم سبب ہے۔ گھر وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں سجدے کا ذوق پیدا ہوتا ہے۔ جب والدین خود نماز سے غافل ہوں تو اولاد سے شکوہ بے معنی ہو جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ (سنن ابی داؤد) اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہو جائیں۔
بے نمازی کے عبرت ناک اثرات
نماز چھوڑنا محض ایک فریضہ ترک کرنا نہیں بلکہ دین کی بنیادوں کو منہدم کر دینے والا زلزلہ ہے۔ اس کا پہلا اثر ایمانی شناخت کا بحران ہے۔ نماز ایمان کی پہچان ہے اور اس کے بغیر باقی تمام دعوے کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ (صحیح مسلم) آدمی اور شرک و کفر کے درمیان فرق نماز چھوڑنا ہے۔دوسرا اثر دین کی بنیاد کا خاتمہ ہے۔ نماز دین کا ستون ہے، اور جب ستون گر جائے تو عمارت باقی نہیں رہتی۔ تیسرا اثر معاشرتی بے حیائی اور اخلاقی زوال ہے۔ جب نماز کا نور معاشرے سے اٹھ جاتا ہے تو فحاشی، ظلم اور ناانصافی عام ہو جاتی ہے۔ قرآن اعلان کرتا ہے:إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ (العنکبوت: 45)۔ بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔چوتھا اثر رزق کی بے برکتی اور قلبی تنگی ہے۔ اللہ کی یاد سے اعراض صرف معاشی تنگی نہیں بلکہ دل کی گھٹن بھی پیدا کرتا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا (طہ: 124) اور جو میری یاد سے منہ موڑے گا، اس کے لیے تنگ زندگی ہے۔
اصلاحِ احوال اور نویدِ سحر کا لائحۂ عمل
یہ مرض نعروں سے نہیں بلکہ مسلسل عمل، منظم دعوت اور فکری بیداری سے ختم ہوگا۔ سب سے پہلے معیارِ نماز کی درستگی ضروری ہے۔ نماز کو زندہ کرنے کے لیے اسے سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ادا کرنا ہوگا۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي (صحیح بخاری) نماز اس طرح پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔اس کے لیے مساجد میں اصلاحی اور تربیتی نشستیں منعقد کی جائیں۔ دوسرا قدم دعوتِ صلوٰۃ ہے۔ نماز ذاتی عبادت ضرور ہے مگر اس کی دعوت اجتماعی ذمہ داری ہے۔ قرآن فرماتا ہے:وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا (طہ: 132) ترجمہ: اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہو۔تیسرا قدم بچوں اور بڑوں کے لیے منظم دینی نظام کا قیام ہے۔ بچوں کو مکاتب سے جوڑا جائے اور بڑوں کے لیے دینی اجتماعات اور اصلاحی مجالس قائم کی جائیں۔ چوتھا قدم تعلیمی اداروں میں فکری محنت ہے تاکہ نئی نسل شعوری نمازی بنے۔ پانچواں قدم سوشل میڈیا اور جدید ذرائع کے ذریعے عالمگیر تحریک کا آغاز ہے، علماء کے بیانات پر مشتمل مخصوص چینلز قائم کیے جائیں اور مختلف زبانوں میں دعوتی پیغامات عام کیے جائیں۔ آخری اور فیصلہ کن قدم ذہن سازی ہے کہ اگر ہم سو فیصد نمازی بن گئے تو عزت، قیادت اور غلبہ ہمارا مقدر بن جائے گا۔
پیغامِ سحر
یاد رکھیے! ہماری عزت، ہماری بقا اور ہمارا غلبہ سجدوں کی آباد کاری میں مضمر ہے۔ جس دن ہماری پیشانیاں پھر سے ربِّ کائنات کے حضور جھک گئیں، اسی دن امتِ مسلمہ کا کھویا ہوا وقار واپس آ جائے گا۔
بقولِ شاعر؎
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
آئیے عہد کریں کہ ہم خود بھی نماز کے محافظ بنیں گے اور دوسروں کو بھی اس نور کی طرف بلائیں گے۔