نماز دین اسلام کا ستون اور بندے کا اپنے رب سے سب سے مضبوط تعلق ہے قران کریم اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نماز کی فرضیت اور اہمیت بار بار بیان کی گئی ہے لیکن افسوس کی آج کے معاشرے میں ایک واضح اور تشویش ناک رجحان یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ لوگ بلا عذر نماز ترک کر رہے ہیں اور جماعت کی اہمیت سے غافل ہوتے جا رہے ہیں مسجدیں جو کبھی آباد اور ایمان افروز ہوتی تھی اب کئی جگہ ویرانی کا منظر پیش کر رہی ہیں یہ صورتحال نہ صرف دینی بلکہ معاشرتی اعتبار سے بھی ایک سنگین مسئلہ ہے
لوگ نماز اور جماعت سے دور کیوں ہو رہے ہیں؟
نماز سے دوری کی سب سے بڑی وجہ ایمان کی کمزوری اور آخرت سے غفلت ہے جب انسان کے دل سے اللہ کی عظمت کم ہو جائے تو سب سے پہلے عبادات متاثر ہوتی ہیں
اس کے علاوہ چند اہم اسباب یہ ہیں
دنیا پرستی اور مصروفیات: کاروبار موبائل سوشل میڈیا اور تفریح نے انسان کو اس قدر مشغول کر دیا
ہے نماز بوجھ محسوس ہونے لگی ہے
دینی تربیت کی کمی: گھروں میں بچوں کو بچپن سے نماز کا عادی نہیں بنایا جاتا جس کا نتیجہ جوانی میں بے نمازی کی صورت میں نکلتا ہے
نماز کی اہمیت سے ناواقفیت: بہت سے لوگ نماز کے فضائل اور ترک نماز کے نقصانات سے لاعلم ہیں
اجتماعی ماحول کی خرابی: جب ارد گرد کا معاشرہ نماز کا اہتمام نہ کرے تو فرد بھی سستی کا شکار ہو جاتا ہے
قران کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے
پھر ان کے بعد ایسے آئے جنہوں نے نماز ضائع کر دی اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے (سورہ مریم :٥٩ )
٢. نماز چھوڑنے کی دنیاوی ودینی نقصانات
نماز ترک کرنے کے نقصانات فرد اور معاشرے دونوں پر پڑھتے ہیں
دینی نقصانات
• اللہ سے تعلق کمزور ہو جاتا ہے
• دل سے سکون اور نور ایمان ختم ہو جاتا ہے
• اخرت میں سخت پکڑ کا اندیشہ ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
ادمی اور کفر و شرک کے درمیان فرق نماز کا چھوڑنا ہے (صحیح مسلم)
دنیاوی نقصانات: بے نمازی کے اخلاق میں بگاڑ آ جاتاہے
• بے چینی اضطراب اور ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے
• معاشرے میں بدعنوانی بے حیائی اور جرائم میں اضافہ ہوتا ہے
قران کہتا ہے
بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے
( سورہ عنکبوت:٤٥)
جب نماز ہی چھوڑ دی جائے تو برائیوں کا دروازہ خود بخود کھل جاتا ہے
٣. بے نمازی کے بڑھتے رجحان کا عملی حل
اس مسئلے کا حل صرف وعظ تک محدود نہیں بلکہ عملی اور اجتماعی کوشش کا تقاضا کرتا ہے
١. ایمان اور آخرت کی فکر بیدار کرنا: لوگوں کو نماز کو محض رسم نہیں بلکہ نجات کا ذریعہ سمجھانا ہوگا خطبات دروس اور تحریروں میں آخرت کی جواب دہی کو نمایا کیا جائے
٢. گھریلو تربیت پر توجہ والدین خود نماز کا اہتمام کریں اور بچوں کو سات سال کی عمر سے نماز کا عادی بنائیں جیسا کہ حدیث میں ایا ہے (سنن ابو داؤد)
٣.نوجوانوں کو مسجد سے جوڑنا مساجد میں نوجوانوں کے لیے دینی نشستیں اخلاقی تربیت اور مثبت سرگرمیاں رکھی جائیں تاکہ مسجد ان کے لیے اجنبیت نہ رہے
٤.نماز باجماعت کی فضیلت اجاگر کرنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جماعت کے ساتھ نماز اکیلے نماز سے 27 درجے افضل ہے (صحیح بخاری) اس فضیلت کو عام کیا جائے
٥. انسانی اور نرمی کا اسلوب ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے محبت حکمت اور خیر خواہی سے لوگوں کو نماز کی طرف بلایا جائے کیونکہ نرمی دلوں کو جوڑتی ہے
بے نمازی کا بڑھتا رجحان صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی کمزوری کے علامت ہے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھر محلے اور معاشرے میں خیر و برکت آئے تو ہمیں نماز کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا مسجد سے رشتہ مضبوط ہوگا تو اللہ سے تعلق مضبوط ہوگا اور یہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا واحد راستہ ہے اللہ تعالی ہمیں خود بھی پابند بنائے اور دوسروں کے لیے ذریعہ ہدایت بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین