★معاشرے میں بے نمازی کا بڑھتا ہوا رجحان
اسباب اثرات اور عملی حل★
یہ امر نہایت قابلِ غور بلکہ قابلِ صد افسوس ہے کہ نماز جیسی عظیم الشان عبادت، جو دینِ اسلام کا ستون اور ایمان کی پہچان ہے، دورِ حاضر میں بڑی بے باکی اور دلیری کے ساتھ ترک کی جا رہی ہے۔ مسئلہ صرف عام مسلمانوں کے نماز سے دور ہونے تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ بعض پڑھے لکھے، باخبر اور حتیٰ کہ اہلِ علم کہلانے والے حضرات بھی اس عظیم عبادت سے غفلت اور لاپرواہی برتتے دکھائی دیتے ہیں۔
امتِ مسلمہ کا ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو سرے سے نماز ادا ہی نہیں کرتا، اور جو نماز پڑھتا بھی ہے تو اکثر کی نمازوں میں وہ روحانیت، وہ مٹھاس، وہ لطف اور وہ تاثیر نہیں پائی جاتی جو ایک سچے اور پکے نمازی کی نماز کا خاصہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہماری زندگیوں میں نماز جیسی بنیادی عبادت کے موجود ہونے کے باوجود وہ سکون، اطمینان اور قلبی راحت نظر نہیں آتی جو نماز کا فطری نتیجہ ہونی چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ نمازی ہو کر پریشان حال رہنا ممکن ہی نہیں، بشرطیکہ نماز حقیقی نماز ہو۔ احادیثِ مبارکہ کی کتابیں اس بات سے بھری پڑی ہیں کہ جب بھی رسولِ اکرم ﷺ کو کوئی معمولی سی بھی پریشانی لاحق ہوتی، آپ فوراً نماز کی طرف متوجہ ہو جاتے اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی اسی کی تعلیم و تلقین فرماتے۔
زندگی کے مسائل ہوں یا آخرت کی فکریں، ان سب کا حل نماز میں موجود ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ نماز صحابۂ کرام، تابعین اور تبع تابعین جیسی ہو۔ ایسی نماز جو دل کی گہرائیوں سے ادا کی جائے، جو محض رسمی عمل نہ ہو، جو ٹائم پاس یا دکھاوے کی نذر نہ ہو، بلکہ دل جوئی اور دل لگی والی نماز ہو۔
بے نمازی انسان کی مثال ایسے بیمار شخص کی سی ہے جو بظاہر صحت مند لوگوں میں رہتا ہے، مگر اس کی بیماری دوسروں کو بھی متاثر کر دیتی ہے۔ بے نمازی خود بھی بڑے خسارے میں ہے اور معاشرے کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
قرآنِ کریم نے بے نمازی کا نقشہ نہایت واضح اور دو ٹوک انداز میں کھینچا ہے:
مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ
ترجمہ:
تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا؟
وہ کہیں گے: ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے۔
یہ آیت اس بات کی صریح دلیل ہے کہ ترکِ نماز انسان کو جہنم تک پہنچانے والا عمل ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا بربادی ہو سکتی ہے؟
اسی طرح قرآنِ مجید میں ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ
ترجمہ:
بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔
جب نماز زندگی سے نکل جاتی ہے تو انسان برائیوں میں بے باک ہو جاتا ہے، پھر وہ رفتہ رفتہ انسانیت کے دائرے سے نکل کر درندہ صفت جانوروں کی صف میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں حد درجہ گھٹیا اور شرمناک حرکات یا تو سرے سے غیر ایمان لوگ کرتے ہیں، یا وہ لوگ جو نماز سے کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔
احادیثِ نبویہ کی روشنی میں بھی بے نمازی انسان کی کوئی خاص وقعت نہیں۔ رسولِ اللہ ﷺ نے فرمایا:
بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ
(صحیح مسلم)
ترجمہ:
آدمی اور شرک و کفر کے درمیان فرق نماز ہے، جو نماز چھوڑ دے وہ کفر کے بہت قریب پہنچ جاتا ہے۔
ان نصوص سے واضح ہوتا ہے کہ بے نمازی ہونا کس قدر سنگین اور خطرناک معاملہ ہے۔ بے نمازی کے بے شمار نقصانات ہیں، مثلاً:
اللہ تعالیٰ سے تعلق کمزور ہو جاتا ہے
دل سخت اور روح مردہ ہو جاتی ہے
گناہوں پر جرات پیدا ہو جاتی ہے
زندگی سے برکت اٹھ جاتی ہے
آخرت میں سخت عذاب کا اندیشہ لاحق ہو جاتا ہے
سب سے زیادہ غور طلب بات یہ ہے کہ بے نمازی کا انجام بغیر ایمان کے بھی ہو سکتا ہے، جس کا خطرہ ہر لمحہ موجود رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو سچی، پکی اور خشوع و خضوع والی نماز نصیب فرمائے، آمین۔
اب سوال یہ ہے کہ معاشرے میں ترکِ نماز کے اسباب کیا ہیں؟ اہلِ ایمان آخر کیوں نماز جیسی بے مثال عبادت سے دور ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ اسی نماز کو رسولِ مقبول ﷺ نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک فرمایا، اور ہر پریشانی کے وقت اسی کی طرف رجوع فرمایا؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ نہ قوانین کے ذریعے اور نہ ہی محض تقاریر کے زور پر قوم کو نمازی بنایا جا سکا۔ ہمارے آباؤ اجداد نے عمریں وعظ و نصیحت میں گزار دیں، مگر نماز کی کمزوری جوں کی توں رہی۔ دین کے دوسرے شعبوں میں بہتری آئی، مگر نماز کے معاملے میں سستی، کاہلی اور بے پروائی بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام الناس کے دلوں میں نماز کی عظمت بٹھانے کے لیے نیا، مؤثر اور عملی طریقہ اختیار کیا جائے۔ سب سے پہلا اور بنیادی قدم یہ ہے کہ ہم خود، خصوصاً دین دار اور ظاہری مذہبی شناخت رکھنے والے حضرات، اپنی نمازوں کو درست کریں۔ پانچوں وقت کی نماز باجماعت، پابندی، خشوع و خضوع اور دوام کے ساتھ ادا کریں۔ ہماری نماز ایسی ہو کہ دیکھنے والا بے اختیار اس کی طرف کھنچا چلا آئے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمارے دل میں یہ تڑپ ہونی چاہیے کہ ہماری بستی، ہمارا گھر، ہمارا محلہ سب نماز کے پابند بن جائیں۔ ہر ملنے جلنے والے کو حکمت، نرمی اور درد کے ساتھ نماز کی دعوت دی جائے۔
بچوں کے دلوں میں نماز کی محبت پیدا کرنا سب سے اہم فریضہ ہے۔ انہیں نماز کی اہمیت، فضائل اور برکات بتائی جائیں، اور اس کے ترک پر قرآن و حدیث کی وعیدیں سمجھائی جائیں۔ اسی سلسلے میں رسولِ اکرم ﷺ کی نہایت اہم حدیث ہے۔
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:
مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ۔
ترجمہ:
رسولِ اللہ ﷺ نے فرمایا:
اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو (نماز نہ پڑھنے پر) انہیں تنبیہ و تادیب کرو، اور ان کے بستروں کو الگ کر دو۔
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نماز کی تربیت بچپن ہی سے شروع ہونی چاہیے، کیونکہ جو بچہ نماز کا عادی بن جاتا ہے وہ بڑے ہو کر بے نمازی نہیں بنتا۔
اور بچوں کو مسجد لائیں انہیں مسجد آنے سے بالکل نہ روکیں پھر چاہے وہ مسجد میں شرارت کریں چاہے شور مچائیں من چاہے وہ کریں ارے جب ہم انسان ہوکر ایک معصوم سی جان سے بے پنہا محبت کرتے ہیں اسے پیار دیتے ہیں جب وہ کوئی کام خلاف عادت کر لے تو اسے ڈانٹ ڈپٹ نہیں کرتے بلکہ پیار سے سمجھاتے ہیں ۔تو وہ رب جو ستر ماں سے بھی زیادہ اپنے بندے سے پیار کرتا ہے کیا اسے اس ننی جان کی شرارتوں پر ناراضگی ہوگی یہ کیسے ممکن ہے ۔
لہذا بچوں کو کھلی چھوٹ دے دیں مسجد میں آنے کی بس کھبی کبھار بطور تادیب انہیں بڑے پیار سے دھیمے لہجے میں آدابِ بیت اللہ سے آگاہ کردیں یہی کافی ہے ۔
اور آخری بات یہ کہ یہ دور چوں کہ شوشل میڈیائی دور ہے اس وقت ہر بزرگ جوان نو جوان بچے سب کے ہاتھ میں موبائل ہے ۔
تو نیٹ کی دنیا میں بھی نماز کی اہمیت و افادیت زور دیں بڑی بڑی تقریریں کرکے نہیں بلکہ مختصر کلپس بنا کر اور اس کے ترک کرنے پرڈرائیں ،
اللہ تعالیٰ ہمیں خود بھی سچا نمازی بنائے اور ہمارے ذریعے معاشرے میں نماز کو زندہ فرما دے۔
آمین یا رب العالمین؛؛