معاشرے میں بے نمازی کا بڑھتا رجحان: اسباب، اثرات اور عملی حل
الْحَمْدُ لِلَّهِ وَكَفَى وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى ، أَمَّا بَعْدُ! فاعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم ﴿فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ﴾صدق الله العظيم.
ربّ کریم کا بے انتہا کرم اور احسان ہے کہ اس نے ہم لوگوں کو ایمان سے مشرف فرمایا اور نماز جیسی عظیم الشان اور بے مثال عبادت اپنے بندوں کے لیے مشروع فرمائی جو مومنوں کی معراج اور اس کی غیر معمولی پرواز ہے۔
نماز کی اہمیت اور فضیلت
اسلام میں نماز کی جو اہمیت، عظمت اور فضیلت ہے، اس کو زبان و قلم بیان کرنے سے قاصر ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی بھی عبادت نماز سے زیادہ محبوب اور پیاری نہیں۔ ایمان کے بعد تمام اعمال میں اہم اور مقدم نماز ہے، نماز ایک طرف اسلام کا ایک عظیم الشان فریضہ ہے، تو دوسری طرف وہ اللہ تعالیٰ سے قریب و نزدیک ہونے ہونے کا بہترین ذریعہ اور اس کے الطاف و عنایات کے حاصل کرنے کا سب سے بڑا عمل ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ﴾ (البقرة:۱۵۳)
اے مسلمانو ! (اللہ کی) مدد حاصل کرو صبر اور نماز کے ذریعہ۔
خصوصیت نماز و امتیاز
حضرت شاہ ولی اللہ ؒ اپنی شہرۂ آفاق کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں:
"نماز اپنی عظمت شان اور مقتضائے عقل و فطرت ہونے کے لحاظ سے تمام عبادات میں خاص امتیاز رکھتی ہے اور خدا شناس و خدا پرست انسانوں میں سب سے زیادہ معروف و مشہور اور نفس کے ترکیه و تربیت کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہے، اسی لیے شریعت نے اس کے فضائل ، اس کے لیے اوقات کی تحدید و تعیین اور اس کے شرائط وارکان ، آداب ونوافل اور رخصتوں کے بیان کا جتنا اہتمام کیا ہے اتنا کسی دوسری عبادت کے لیے نہیں کیا۔ اور انہی خصوصیات وامتیازات کی وجہ سے نماز کو دین کا عظیم ترین شعار اور امتیازی نشان قرار دیا گیا ہے"۔﴿معارف الحدیث:٣/ ۷۵﴾
ہائے افسوس ہماری بدبختی !!!
کتنی بڑی بدقسمتی اور دل سوز محرومی ہے کہ نماز کے متعلق رسولِ اکرم ﷺ کے بے شمار تربیتی، حکیمانہ اور ترغیبی ارشادات کے باوجود امتِ مسلمہ کی ایک بڑی تعداد آج اس عظیم عبادت سے غافل اور لاپروا نظر آتی ہے۔ وہ نماز کو ترک کر کے خود کو اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کے خصوصی فضل اور اس کی عنایات سے محروم کر رہی ہے، اور نادانی میں اپنی دنیا ہی نہیں بلکہ اپنی آخرت کو بھی خسارے میں ڈال رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم ڈھا رہے ہیں۔
وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ۔
بے نمازی شخص کو نماز کی دعوت دینے کے چندبہترین طریقے :
1- بے نمازی کو یاد دہانی کروائیں کہ نماز فرض ہے اور شہادتین کے بعد اسلام کا سب سے بڑا رکن نماز ہے۔
2- نماز کے فضائل ذکر کریں -مثلاً: نماز اللہ تعالی کی طرف سے بندوں پر فرض کردہ سب سے اعلی ترین عبادت ہے، قرب الہی کا سب سے بہترین ذریعہ ہے، دینی امور میں سب سے پہلے نماز کا ہی حساب لیا جائے گا وغیرہ- کیونکہ فضائل ذکر کرنے سے انسان کا دل موم ہو جاتا ہے۔
3- بے نمازی کے متعلق آنے والی سخت وعیدیں انہیں سنائیں اور ایسے شخص کے کافر اور مرتد ہونے کے متعلق علمائے کرام کا اختلاف ذکر کریں، نیز یہ بھی بتلائیں کہ اسلام بے نمازی کو لوگوں میں آزادانہ زندگی کی اجازت نہیں دیتا؛ کیونکہ بے نمازی کے متعلق واجب یہ ہے کہ اسے نماز کی دعوت دی جائے اور اگر وہ بے نماز ہی رہے تو وہ امام احمد اور ان کے ہم موقف سلف صالحین کے ہاں مرتد ہے اور اسے قتل کر دیا جائے گا، جبکہ امام شافعی اور امام مالک کے ہاں اس کی سزا قتل ہی ہے لیکن بطور حد اسے قتل کیا جائے گا، جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے موقف کے مطابق اسے جیل میں ڈال دیا جائے گا، چنانچہ بے نمازی کی آزادانہ زندگی کا کوئی بھی اہل علم قائل نہیں ہے، لہذا بے نمازی کو کہا جائے گا کہ : کیا آپ یہ پسند کرتے ہیں کہ اہل علم آپ کے کفر، قتل اور قید کرنے کے متعلق مختلف آراء رکھیں؟
4- بے نمازی کو اللہ تعالی سے ملاقات ، موت اور قبر یاد کروائیں، بے نمازی کے برے انجام اور عذاب قبر میں اس کے ساتھ جو کچھ ہونے والا ہے یہ بھی بتلائیں۔
مصادر:
(١) قرآن کریم
(٢)الہدایۃ(مصنف: امام برہان الدین مرغینانی صاحبؒ)
(٣) حجۃ اللہ البالغہ (مصنف: محدث دہلوی حضرت شاہ ولی اللہ صاحب ؒ)
(۴) معارف الحدیث (مصنف: حضرت مولانا منظور نعمانی صاحبؒ)
(٥)اسلامی خطبات (مصنف: حضرت مولانا و مفتی محمد اسلم صاحب حفظہ اللہ ورعاہ)
از قلم: محمد احمد اسلمی مدھوبنی بہار