بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

قال اللہ تعالیٰ :اِنَّ الصَّلٰوۃَ کاَنَتْ عَلَی الْمُؤمِنِی٘نَ کِتَاباً مَّوْقُوْتًا
:عَنْ عُمَرَرضی اللہ عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلْ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلّم
اَلصَّلٰوۃُ عَمُوْدْالدِیْنِ(جامع صغیر)
حضرت عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا نماز دین کا ستون ہے۔
نماز کا اسلام میں اتنا بڑا مقام ہے کہ اللّٰہ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر ارشاد فرمایا اقیمواالصلوۃ اقیمواالصلوۃ نماز قائم کرو نماز قائم کرو 
اور نماز کا یہ مقام ہے کہ یہ اسلام کی بنیاد ہے اسکے بغیر انسان کا ایمان خطرہ میں ہے مگر لوگ اس عظیم الشان عبادت کی قدر بھول بیٹھے ہیں' اس سے دور ہوتے جارہے ہیں مسجدیں خالی پڑی ہیں صرف دو چار نمازی پابندی کرتے نظر آتے ہیں 

اسکی پہلی وجہ یہ ہے کہ لوگ نماز کی عظمت وقدر بھول
 بیٹھے ہیں'لوگ یہ بات بھول گئے ہیں کہ اسلام میں نماز کا درجہ کیا ہے

 نماز پڑھنے کا ثواب کیا ہے اور چھوڑنے کا گنا ہ کیا ہے 


دوسری وجہ یہ ہے کہ گھروں میں دینی ماحول کم ہوچکاہے لوگ دین سے دور ہوتے جارہے ہیں ،امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرنا چھوڑ دئے ہیں ؛مثلًا ایک عورت نماز پڑھتی ہے لیکن اپنے بچوں کو نماز کا حکم نہیں کرتی ؛
بیوی نماز پڑھتی ہے لیکن شوہر کو نماز کیلئے نہیں ابھارتی ۔
بچے مدرسے اور اسکولز سے آتے ہیں تو والدین یہ سوچ کر چھوڑ 
دیتے ہیں کہ"تھک کر آئے ہیں جانے دیں
اسطرح بچپن ہی سے نماز کی عادت نہیں رہتی۔

:تیسری وجہ 
کچھ لوگ نماز تو پڑھ لیتے ہیں لیکن باجماعت نماز کے فضائل سے نا آشنا ہونے کی وجہ سے مسجد نہیں جاتے گھروں میں ہی ادا کرلیتے ہیں یا جماعت ختم ہوجانے کے بعد تاخیر سے مسجد ہی 
!میں پڑھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نماز تو میں نے پڑھ لی ہے نا
اب چاہے جہاں بھی ہو۔
اسطرح لوگ نماز اور مسجدوں سے دور ہوتے جارہے ہیں 

نماز چھوڑنے کے کئی دینی ودنیوی نقصانات ہیں 
:اثرات 
جسطرح نماز پڑھنے کے بے شمار فائدے اور ثواب ہیں اسی طرح نماز چھوڑنے کے کئی نقصانات ہیں 

نماز چھوڑنے کا دینی نقصان یہ ہے 
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلْ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلّم:بَیْنَ الرَّجُلُ وَبَیْنَ الْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلٰوۃِ (رواہ أحمد ومسلم)

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول 
:اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا
نماز چھوڑنا آدمی کو کفر سے ملا دیتا ہے (احمد ومسلم)

:عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعٰوِیَۃَ اَ نَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلّم قَالَ

مَنْ فَاتَتْهُ صَلٰوۃٌ فَکَاَنَّمَا وَتَرَاَھْلُہٗ وَ مَالُہٗ(رواہ أحمد فی مسندہ)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم کا ارشاد ہے کہ جس شخص کی ایک نماز بھی فوت ہو گئی وہ ایسا ہے کہ گویا اسکے گھر کے لوگ اور مال و دولت سب چھین لیا گیا ہو۔

دنیاوی نقصان یہ ہے کہ 

بے نمازی کی عمر میں برکت نہیں رہتی،صلحاء کا نور اسکے چہرے سے ہٹالیا جائے گا ،بے نمازی کی دعا قبول نہیں ہوگی (الحدیث) 
اورحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

 رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کا ارشاد ہے میرا دل چاہتا ہے کہ

 چند جوانوں سے کہوں کہ بہت سا ایندھن اکٹھا کرکے لائیں پھر

 میں ان لوگوں کے پاس جاؤں جو بلا عذر کے گھروں میں نماز پڑھ

 لیتے ہیں اور جاکر انکے گھروں کو جلادوں (رواہ مسلم وابو داؤد)

اسکے علاوہ اور بھی کئی نقصانات ہیں مختصراً یہاں اتنے بیان کیے گۓ ہیں 

:عملی حل

لوگوں کو نماز کی طرف لانے کا طریقہ اور عملی حل یہ ہے کہ ان کو دینی مجالس میں بلاۓ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے پر ابھارے اور انکے سامنے نماز،جماعت کے فضائل و احکام سنائیں کہ اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا" اقیمواالصلوۃ" اور "وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ"وغیرہن اور نماز چھوڑنے کی وعید وعتاب سنائیں 

دوسرا حل: گھر کا ماحول نیک ہو ،عورتوں میں دینی جذبہ پیدا کریں عورت میں دینداری ہوگی تو نسلیں دیندار ہوتی ہیں ،کہا جاتا ہے کہ ایک کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے جیسے حضرت امام بخاری رحمہ اللہ اور بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ اور جنید بغدادی رحمتہ االلہ علیہ کہ ان سب کے پیچھے انکی ماں کا ہاتھ تھا ۔تو اسطرح ایک ماں بچپن سے اپنی اولاد کو نماز کا عادی بناۓاورایک بیوی  اپنے شوہر کو سمجھاۓ،عورت جب کچھ چاہتی ہے تو وہ اپنے شوہر کو سمجھا کر ،منا کر کچھ بھی کروالیتی ہے اسلیۓ اگر بیوی نیک ہو اور وہ اپنے شوہر کو سمجھاتی رہے گی اور دینی اقوال سناتی رہے گی تو آدمی کبھی نہ کبھی سمجھ جاۓگا جیسے کہاوت ہے کہ پانی کا قطرہ اگر برابر پتھر پر ٹپکتا ہی رہے تو پتھر کو بھی سوراخ کردیتا ہے ،تو چاہے مرد کتنا ہی سخت اور ڈھیٹ ہو لیکن بار بار نرمی سے دین کی طرف بلائیں گے تو ان شاء اللہ مان جاۓگا جیسے اللہ کا فرمان ہے:اُدْعُ اِلٰی

 سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِالْحَسَنَۃْ (سورۂ نحل)کہ نرمی سے کہنے سے انسان پر بات اثر کرجاتی ہے ۔

فقط والسلام