نحمده و نصلى على رسوله الكريم
!!اما بعد
:فقد قال الله تعالى في كلامه الخالد
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِم خَاشِعُوْنَ
:و قال النبي ﷺ
الصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّيْنِ فَمَنْ اَقَامَهَا اَقَامَ الدِّيْنَ وَ مَنْ هَدَمَهَا هَدَمَ الدِّينَ
صدق الله و رسوله
آج کے اس مضمون نویسی کے مقابلہ میں جس عنوان پر اپنی گذارشات سپرد قرطاس کرنے کا موقع ملا ہے وہ موضوع وقت کی اہم ضرورت اور فکر ہے
بے نمازی کا بڑھتا رجحان
(اسباب ، اثرات ، عملی حل)
!!عزیزان گرامی
نماز مذہب اسلام کی بُنیاد ہے، جس پر اسلام کی عمارت قائم ہے ، اگر یہ بنیاد کمزور ہو جائے یا ڈگمگا جاۓ تو اسلام کی بقاء مُمکِن نہیں ۔
: جیسا کہ فرمان رسول اللہ ﷺہے
الصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّينِ
اسی طرح نماز مذہب اسلام کا شعار ہے ، جیسا کہ فرمان رسول اللہﷺ
لِكُلِّ شَيْءٍ عَلَمٌ وَ عَلَمُ الْاِيْمَانِ الصَّلَاةُ
،جس طرح ہر قوم کی ایک علامت ہوتی ہے
،ایک خاص امتیاز ہوتا ہے
،ایک پہچان ہوتی ہے
،اسی طرح اہل اسلام کا بھی ایک طرّہ امتیاز ہے
،منفرد پہچان ہے
اور وہ ہے نماز۔
!!مگر یا للاسف
فی زماننا جس قدر علوم و فنون میں ترقی اور کثرت ہوتی جا رہی ہے اسی قدر دین سے دوری بڑھتی جا رہی ہے ، اسی کی ایک فرع ترك صلاة ہے۔
اور یہ اہل اسلام کے لیے فکر کا محل ہے۔
نماز کے باب میں اس امت کے تین طبقے ہو چکے ہیں؛
۱=الذي لا يصلي كل الصلاة
وہ شخص جو بالکل نماز نہیں پڑھتا ۔
۲=الذي يصلي الصلاة المخصوصة الجمعة، يوم العيدين ، صلاة الجنازة
وہ شخص جو خاص نماز پڑھتا ہو ،
آٹھ کی نماز مراد جمعہ
کھاٹ کی نماز مراد نماز جنازہ
تین سو ساٹھ کی نماز مراد عیدین
۳=الذي يصلي الصلوات غير الخشوع و الخضوع
وہ شخص جو نمازیں پڑھتا ہے ، لیکِن خشوع وخضوع کے ساتھ نہ پڑھتا ہو ۔
رہ گئی رسم اذاں روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے
ایک زندہ اور ترقی یافتہ قوم ہمیشہ اپنی پستی اور تنزلی کے اسباب کی تلاش میں سرگرم رہتے ہیں۔
لہٰذا آئیے ہم بھی قوم مسلم کی باب صلاة میں پستی کے اسباب کی تلاش کرتے ہیں۔
۱:ایمان کی کمزوری
نماز سے دوری کی بنیادی وجہ ایمان کی کمزوری ہے، جب ایمان مضبوط نہیں ہوگا تو نماز کی اہمیت نہیں رہیگی، اور جب اہمیت نہ ہوگی تو عمل کا جذبہ بھی نہیں رہیگا۔
سوال یہ ہے کہ یہ کمزوری کیسے پیدا ہوئی؟
⚫ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنا اور اس پر اصرار کرنا
⚫ خواهشات کا غلام بننا
⚫ فساق، فجار کے ساتھ تعلق رکھنا
⚫ سوشل میڈیا کا کثرت استعمال
ہمارے ایمان پر حملہ ہے۔Indirect گانے ، غلط ویڈیو ، گیم یہ سب
⚫ حرام اور مشتبہ کھانے
⚫ کو اپنانا western cultur
یہ کچھ عوامل ہیں ، جن سے ایمان کمزور ہو جاتا ہے، اور رُوحانیت ختم ہو جاتی ہے ،اور یہی ترك صلاة کا سبب بنتا ہے۔
۲: دین سے دوری
⚫ کا دور ہے۔Aducetion آج کا یہ دور
علوم و فنون آسمان کی بلندی کو چھو رہے ہیں ۔یہ علوم مغربیت اور عیسائیت پر مبنی ہے ۔آج ہمارے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ عصری علوم کی چکا چوند کرنے والی روشنی پر ایسے مر مٹے ہیں کہ دینی تعلیم کا فریضہ یکسر بھلا دیا ،ہے ۔ اب تک تو کچھ وقت مکاتب کے لئے مقرر کے نذر کر دیا گیا ہے ۔tution تھا لیکن رَفتہ رَفتہ وہ اوقات بھی
جب دین سے مکمل لا تعلقی ہو گئی تو نماز سے دوری بھی بڑھنے لگی ،
⚫اسی طرح اہل اللہ کی صحبت سے دوری ، دینی مجالس سے گُریز کرنا،
یہ سب بے نمازی کے بڑھتے رجحان کے اسباب ہیں ۔
۳:نظام الاوقات میں فساد
⚫اللہ تعالی نے پانچ نمازیں الگ الگ وقت میں مقرر کر کے بنی آدم کو نظام الاوقات سے زندگی بسر کرنا سکھلایا ہے ، لیکِن آج ہمارا
اِس طرح تہس نہس ہو گیاTiming sistem
ہے ،کہ
اگر بچہ ہے تو صبح اسکول کی تیاری کے لیے صبح تڑکے اٹھتا ہے ، لیکِن فجر کی پرواہ نہیں ہوتی،
پورا دن اسکول میں گزار کر ظہر بھی فوت ہو جاتی ہے،
میں گزار کر عصر اور مغرب فوت Tution شام
،ہو جاتی ہے
چینل میں گزار T . V.اور Home work عشاء
کر فوت کر دیتا ہے۔
⚫بڑوں کا حال یہ ہے کہ رات دیر تک فضول گپ شپ، یا موبائل میں گزار کر فجر سے غافل ہوکر دیر تک سو رہتے ہیں، باقی پورا دن آفس اور دکانوں پر مشغول رہ کر ظہر ، عصر ، مغرب کا خیال بھی نہیں رہتا، اور عشاء تھکن اتارنے میں چھوٹ جاتی ہے۔
ان سب میں کہیں پر نماز کے لیے وقت کا اخراج نہیں ہوا ،جسکی وجہ سے بے نمازی کی تعداد میں اضافہ ہوتے جاتا رہا ہے۔
!!عزیزان گرامی
ترك صلاة ایک ایسا جرم عظیم ہے جسکے برے اثرات دنیا میں بھی پڑتے ہیں، اور آخرت میں بھی بڑی سزا ہوگی۔
⚫ دنیاوی نقصان
۱= ضیاع ایمان
،نماز چھوڑنے والا گویا ایمان کو ضائع کرتا ہے
کیونکہ قرآن میں نماز کو ایمان سے تعبیر کیا گیا ہے، جسکی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ ، امام ؒبُخاری نے باب باندھا
"باب الصلاة من الايمان"
:اسکے آگے امام موصوف فرماتے ہیں
"و قول الله تعالى و ما كان الله ليضيع ايمانهم"
معلوم ہوا کہ اللہ نے نماز کو ایمان سے تعبیر کیا ہے، لہٰذا تارک صلاة کا ایمان کمزور ہو جاتا ہے، يا بالکل نہیں رہتا۔جیسا کہ حضرت جابؓر ارشاد فرماتے ہیں :
اِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَ بَيْنَ الشِّرْكِ وَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ
۲= شقاوة قلب
ترک صلاة کی وجہ سے بندے کا دل سخت ہو جاتا ہے، جسکی وجہ سے گناہوں پر بے باک اور جري ہو جاتا ہے۔
جیسا کہ فرمان باری ہے؛
اِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهٰي عَنِ الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنْكَر
نماز برائی سے روکتی ہے ۔۔۔اور نماز نہ پڑھنے سے برائی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
۳= سلب اطمینان
ُاَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنّ الْقُلُوْب
نماز ایک ذکر ہے، جو اسے غفلت برتتا ہے ، وہ ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے، کے مریض عام ہو چکے ہیں۔depretion جیسا کہ آج
۴= ہلاکت اہل و مال
:نماز کا ضیاع اکثر ۲ وجہوں سے ہوتا ہے
۱: اہل و عیال کی خیر و خبر میں
۲: مال و دولت کمانے کی لالچ میں
:لہٰذا فرمان رسول اللہ ﷺہے
الَّذِیْ تَفُوْتُه صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَاَنَّمَا وُتِرَ اَهْلُه وَ مَالُه
نماز عصر چھوڑنے والا ایسا ہے،جیسے کسی کا سب کچھ لٹ جائے، اہل و عیال اور مال سب کچھ ختم ہو جائے اسے کس قدر نقصان اور رنج ہوگا ۔
اندازہ کریں کہ نمازِ عصر چھوڑنے پر یہ ہلاکت تو جو بندہ پانچوں نمازیں چھوڑتا ہے اسکی ہلاکت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
⚫ اُخروی نقصان
۱=میدان حشر میں رسوائی
اسکا نقشہ قرآن نے اس طرح کھینچا ہے؛
يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ يُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ وَ هُمْ سَالِمُوْنَ
امام سعید بن جبیؒر اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں
وہ لوگ جو نماز کی طرف بلائے جاتے ہیں، لیکن" بغیر عذر کے وہ ادا نہیں کرتے۔"
تارک صلاة کے لیے حشر میں بھی رسوائی ہوگی۔
۲=جہنّم میں داخلہ
فَيْ جَنّٰتٍ يَّتَسَاءَلُوْنَ ، عَنِ الْمُجْرِمِيْنَ، مَا سَلَكَكُمْ فِيْ سَقَرَ ، قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّيْنَ
لہٰذا تارکین صلاة کا ٹھکانہ جہنّم ہی ہے۔
جیسا کہ حدیث پاک کا میں ارشاد ہے؛
مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَمُتَعَمِّدًا كُتِبَ اسْمُه عَلٰي بَابِ النَّارِ مِمَّنْ يَدْخُلُهَا
آئیے ہم اس سنگین مسئلے کہ حل نکالیں ؛
⚫سب سے پہلے اُن تمام راستوں سے گُریز کرنا ہوگا جو ہمارے ایمان پر حملے کرتے ہیں ،
⚫اسی طرح دین و شریعت سے ، قرآن و سنت سے تعلق مضبوط کرنا ہوگا ۔
نماز کے فضائل اور اس کی اہمیت سے واقفیت حاصل کرنی ہوگی ۔
اور یہ سب ذمے داری قوم کے رہنما اور سربراہوں کی ہے کہ وہ ان تارکين صلاة کو اس طرف راغب کریں ۔
⚫مدارس و مکاتب میں صرف نماز کی تعلیم ہی پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ اس پر عمل پیرا ہونے کی عملی کوششیں کی جائیں ۔
اسی طرح ہفتہ وار مجلس منعقد کر کے طلباء کے سربراہوں کی اصلاح کی جائے، تاکہ اُن کے سائے میں پروان چڑھنے والے نونہالان صحیح فضا میں پرورش پائیں ۔
⚫اسی طرح ہر محلے میں اہل علم کی مجلس منعقد ہونے کا نظام ہونا چاہیئے جہاں لوگوں کو وعظ و نصیحت کی جائے ۔
⚫اسلامی اسکول اور ٹیوشن قائم کیے جائیں جہاں دنیاوی علوم تو اعلیٰ معیار پر دیئے جائیں ، لیکِن وہاں پر اسلامی قانون کا لحاظ رکھا جائے ، خاص کر اوقات صلاة کا لحاظ ہو ۔
⚫اسکول اور کالجوں میں بھی ایسی پوزیشن بنائیں کہ مہینہ وار کوئی اہل علم وہاں جا کر دنیاوی ماحول میں سر مست ہوجانے والے نوجوانانِ مسلم تک پیغام دین پہنچائیں ۔
اللهم ..أهدنا الصراط المستقيم
!!آمين
وما توفيقي الا بالله