عرب لڑکی جو طرابیں کی جنگ میں غازیوں کو پانی پلاتی ہوئی شہید ہوئی
فاطمہ: تو ابردے اُمت مرحوم ہے
ذرا ذرا تیرے مشت خاک کا معصوم ہے ka
یہ سعادت حور صحرائی کی تیری قسمت میں تھی غازیان دین کی سقّای تیری قسمت میں تھی
یہ جہاد اللہ کے راستے میں بے تیغ دسپر
ہے جسارت آفزیں شوق شہادت كس قدر
یہ کلی بھی اس گلستان خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خا کستر میں تھی
اپنے صحراء میں بہت اہوا بھی پوشیدہ
بجلیاں برے ہوئے بادل میں بھی خوابیدہ
فاطمہ: گو شبنم افشاں آنکہ تیرے غم میں ہے
نغمہء عشرت بھی اپنے نالہ ماتم میں ہے
رقص تیری خاک کا کتنا نشاط انگیز ہے
ذرّہ ذرّہ زندگی کا سوز سے لبریز ہے
از قلم ✍️
عالیہ نمرہ قریشی