پچھلی تحریر میں احادیث مبارکہ کے حوالہ جات اور قرآن مجید کی آیات مبارکہ کے حوالہ جات ذکر کیے٫ 
اب ہم جہاد کے فرض عین اور فرض کفایہ کے بارے میں بات کریں گے ؛
جمہور علماء امت کے نزدیک جہاد ابتدائی لحاظ سے فرض کفایہ ہے ۔اور کچھ صورتوں میں فرض عین ہو جاتا ہے ۔جبکہ سیدنا ابو طلحہ انصاری ٫   سیدنا ابو ایوب انصاری ٫سیدنا مقداد ابن اسود( رضواناللہ تعالیٰ علیہم اجمعین))
اور تابعین میں سے حضرت سعید بن المسیب اور دیگر حضرات کے نزدیک جہاد پر حال ہی میں فرض عین ہے ۔
ان حضرات کا مستدل وہ آیات و نصوص ہیں ۔ جن میں "ترک جہاد پر ؛؛عذاب الیم ؛؛اور" نفاق پر موت" آنے کی وعیدات وارد ہوئی ہیں ۔٫٫٫٫٫ ان نصوص کے پیش نظر یہ حضرات فرماتے ہیں کہ چونکہ عذاب الیم اور نفاق کی موت سے بچنا اور ایمان بچانا ہر مسلمان پر فرض ہے 
اور اس فرض کی تکمیل جہاد ہی کے ذریعے سے ہو سکتی ہے تو جہاد مطلقاً فر ض عین ہے ۔
(الجامع لاحکام القرآن/ ج3/ ص39/ ط٫ رشیدیہ کوئتہ)
(فقہ الجہاد القرضاوی/ ج 1 /ص74/مکتبہ وھبہ٫ قاہرہ)
(المحیط البرہانی/ ج7/ ص 79/ ادارہ القرآن ٫ الجلس الرملی)
(بدائع الصنائع/ ج 4/ ص57/ مکتبہ رشیدیہ)
(المغنی لابن قدامہ الحنبلی/ ج10/ ص 359/ دار الفکر بیروت)
جہاد ابتداء فرض کفایہ ہے ٫ اگر کفار ہم پر لڑائی مسلط نہ کریں 
(
تنویر الابصار شرح ردالمختار)
کفار اگر اپنے علاقے میں ہوں اور مسلمانوں پر حملہ کی نیت سے نہ نکلے ہوں تو جہاد فرض کفایہ ہے 
(
النووی)
فرض کفایہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر جہاد کے لیے اتنے لوگ نکل کھڑے ہوں جو جہاد کے لیے کافی ہوں تو باقی لوگوں سے جہاد کی فرضیت ساقط ہو جاتی ہے 
اگر تمام لوگ چھوڑ دیں ۔اور شرعی عذر بھی نہ ہو تو تمام مسلمان گناہ گار ہوں گے 
فرض عین کا مطلب۔          
جاری ہے ٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫