انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے 
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

مسلمانوں کی زندگی کو جب تاریخ کے اوراق میں دیکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم عزت و عظمت، شان و شوکت، دبدبہ دحشمت کے تنہا مالک اور اجارہ دار ہیں، لیکن جب ان اوراق سے نظر ہٹا کر موجودہ حالات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے تو ہم انتہائی ذلت و خواری، افلاس و ناداری میں مبتلا نظر آتے ہیں، نہ زور وقوت ہے، نہ زرو دولت ہے، نہ باہمی اخوت والفت۔ نہ عادات اچھی، نہ اخلاق اچھے، نہ اعمال اچھے نہ کردار اچھے۔ ہر برائی ہم میں موجود اور ہر بھلائی سے کوسوں دور۔ اغیار ہماری اس زبوں حالی پر خوش ہیں اور ہمارا مضحکہ اڑایا جاتا ہے۔ اس پر بس نہیں بلکہ خود ہمارے جگر گوشے نئی تہذیب کے دلدادہ نوجوان، اسلام کے مقدس اصولوں کا مذاق اڑاتے ہیں، بات بات پر تنقیدی نظر ڈالتے ہیں۔
آج جب کہ حالت بد سے بدتر ہو چکی اور آنے والا زمانہ ما سبق ( گذرے) سے بھی زیادہ پر خطر اور تاریک نظر آ رہا ہے، ہمارا خاموش بیٹھنا اور عملی جدو جہد نہ کرنا ایک نا قابل تلافی جرم ہے لیکن اس سے پہلے کہ کوئی عملی قدم اٹھا ئیں ، ضروری ہے کہ ان اسباب بر غور کریں جن کے باعث ہم اس ذلت وخواری کے عذاب میں مبتلا کئے گئے ہیں ۔جب حالات حاضرہ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ واضح ہے کہ مسلمانوں کی یہ حالت کا سبب اپنے رب سے دوری ہے۔آج ہم مسلمان تو ہے لیکن بس نام کے۔اسلام کے پانچ ارکان تو ہمیں یاد ہیں لیکن ان پر عمل کرنا اور ان کے قوانین کا خیال رکھتے ہوئے ان ارکان کی تکمیل کرنا ہم بھول چکے ہیں ۔
اسلام کا خیمہ پانچ ستونوں پر قائم ہوتا ہے پس کلمہ شہادت خیمہ کی درمیانی لکڑی کی طرح ہے
چاروں طرف کے کونوں میں کوئی سی لکڑی نہ ہو تو خیمہ قائم تو ہو جائے گا لیکن جو نسے کونے کی لکڑی نہیں ہوگی وہ جانب ناقص اور سگری ہوئی ہوگی۔ اس پاک ارشاد کے بعد اب ہم لوگوں کو اپنی حالت پر خود ہی غور کر لینا۔اسلام کے یہ پانچوں ارکان نہایت اہم ہیں، حتی کہ اسلام کی بنیاد انہی کو قرار دیا گیا ہے اور ایک مسلمان کے لئے بحیثیت مسلمان ہونے کے ان سب کا اہتمام نہایت ضروری ہے، مگر ایمان کے بعد سب سے اہم چیز نماز ہے۔مگر افسوس آج اسی اہم رکن کا انتہائی فقدان نظر آرہا ہے۔
 عبداللہ بن سلام یہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم کے گھر والوں پر کسی قسم کی تنگی پیش آئی توان کو نماز کاحکم فرمایا کرتے اور یہ آیت تلاوت فرماتے وَأَمْرُ أَهْلَكَ بِالصَّلوةِ وَاصْطَبِرُ عَلَيْهَا لَا تَسْأَلُكَ رِزْقًا ( ۱۳۴۰) اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرتے رہئے اور خود بھی اس کا اہتمام کیجئے ، ہم آپ سے روزی کموانا نہیں چاہتے ، روزی تو آپ کو ہم دیں گے۔
مگر افسوس ہم کلام اللہ کے ان احکام کو بھلاۓ بیٹھے ہیں آج کل نوجوان نماز آسانی سے ترک کر دیتے ہیں اور اس بات کا افسوس ہی نہیں ہوتا جبکہ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ آدمی اور شرک میں صرف نماز کا فرق ہے۔ہمیں اس کے اسباب پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کل بے نمازیوں کی تعداد میں کثرت سے اضافے کی بڑی وجہ گھر کا ماحول ہے۔بچے کا پہلا مدرسہ ماں کی گود ہوتی ہے لیکن آجکل کی ماؤوں میں تربیت کا واضح فقدان نظر آرہا ہے کیا وجہ ہے کےمسلمانوں کی تاریخ محمد بن قاسم ،طارق بن زیاد جیسے شیروں سے بھری پڑی ہے کیونکہ انکے پیچھے عظیم ماؤں کی تربیت تھی۔جب گھر کے بڑے ہی دین کی پابندی کا اہتمام نہیں کرے گے تو کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ انکی نسلیں دین دار بنیں گی؟


بقول شاعر 

رہبر منزل کہیں تو راہ بھولا ہے
ورنہ یوں قافلے کے قافلے گم نہیں ہوتے

کام کی اہمیت اور ضرورت کو بیان کیا ہے وہ ہماری تنبیہ اور بیداری کے لئے کافی ہیں۔

ہمارے اس قدر اہم فریضہ سے غافل ہونے کی چند دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم نے اس فریضہ کو علماء کے ساتھ خاص کر لیا،حالانکہ خطابات قرآنی عام ہیں جو امت محمدیہ کے ہر ہر فرد کے لیے ہیں۔
فریضہ تبلیغ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو علماء کے ساتھ خاص کر لینا اور پھر ان کے بھروسہ پر اس اہم کام کو چھوڑ دینا ہماری سخت نادانی ہے۔ علماء کا کام راہ حق بتلانا اور سیدھا راستہ دکھلانا ہے، پھر اس کے مطابق عمل کرانا اور مخلوق خدا کو اس پر چلانا یہ دوسرے لوگوں کا کام ہے۔ اس کی جانب اس حدیث شریف میں تنبیہ کی گئی ہے:

الَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ

خبر دارا بیشک تم سب کے سب نگہبان ہو رَعِيَّتِهِ، فَالًا مِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعِ اور تم سب اپنی رعیت کے بارے میں
عَلَيْهِمْ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالرَّجُلُ
سوال کئے جاؤ گے۔ پس بادشاہ لوگوں پر
رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ
نگہبان ہے، وہ اپنی رعیت کے بارے میں
عَنْهُمْ، وَالْمَرَاةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ،

سوال کیا جاوے گا اور مرد اپنے گھر والوں
وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلكم
پر نگہبان ہے اور اس سے اُن کے بارے
میں سوال کیا جاوے گا اور عورت اپنے
مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ. (بخاری ومسلم)
خاوند کے گھر اور اولاد پر نگہبان ہے اور وہ اور اولاد کے بارے میں سوال کی جاوے گی اور
غلام اپنے مالک کے مال پر نگہبان ہے، اس سے اس کے بارے میں سوال کیا جاوے گا۔ پس تم سب نگہبان ہو اور تم سب سے اپنی رعیت کے بارے میں سوال کیا جاوے گا۔
لہذا اس مرض کی ذمہداری ماں پر بہت زیادہ عائد ہوتی ہے۔مائیں بچوں کو عربی بھیج کر سوچتی ہیں کہ انکی زمہ داری ختم ہوگئی پھر چاہے بچہ نماز پڑھے یا نا پڑھے۔ یہی بچے بڑے ہوکر نماز آسانی سے ترک کر دیتے ہیں کیونکہ انکے بڑوں میں بھی نماز کا اہتمام نہیں کیا جاتا تھا۔چوتھی اہم وجہ سوشل میڈیا کا بے جا استعمال، موبائل ہاتھ میں ہو تو اذان کا بھی اندازہ نہیں ہوتا اور سستی میں وقت نکل جاتا احساس تک نہیں ہوتا ۔موبائیل پر پھیلی فحاشی نے دلوں کو سخت اور دین سے وحشت ڈال دی ہیں اب نماز اگر پڑھ بھی لیں تو دل نہیں لگتا، خشوع مفقود۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" جو جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑ تا ہے، اس کا نام جہنم کےاس دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ داخل ہوگا۔( فیضان نماز، ص 425)

منقول ہے، بروزِ قیامت وہ( یعنی نماز کے معاملے میں سستی کرنے والا) اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر تین سطریں لکھی ہوں گی۔(1)اے اللہ کا حق برباد کرنے والے،  (2) اے اللہ کے غضب کےساتھ مخصوص(3) جس طرح دنیا میں تو نے حق اللہ یعنی اللہ کاحق ضائع کيا، اسی طرح آج تو بھی اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جا۔
نماز نا پڑھنے والے کے لیے کچھ سزائے نقل کی گئی ہیں
اللہ کریم اس کی عمر سے برکت ختم کر دے گا ،اس کے چہرے سے نیک لوگوں کی علامت مٹا دے گا اور وہ
۔۔ ذلیل ہو کر مرے گا
۔بھوکا مرے گا
مرتے وقت اسے اتنی پیاس لگے گی کہ اگر سارے دریاؤں کا پانی بھی پلا دیا جائے تو اس کی پیاس نہ بجھے گی۔

 اگر آج ہم اپنے بگڑے ہوئے معاشرے میں انقلاب لانا چاہتے ہیں تو ایسا صرف نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کےطریق تربیت کو اپنا کر ہی کیا جاسکتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہیے کہ نوجوانوں کو مسجد کی طرف لانے میں گھر کے بڑے کردار ادا کریں خود بھی نماز کی پابندی کریں۔اولاد کو پراثر طریقے سے نصیحت کریں مقصد دستک دینا ہے دروازہ توڑنا نہیں۔ محلے کےامام اس بات کا اہتمام کریں کہ کسی ایک نماز کے بعد مختصر احادیث سنائی جائے جس میں خاص نماز چھوڑنے پر وعید اور ادا کرنے کا انعام ذکر ہو۔
گھر میں ماؤں کو چاہیے کہ بچوں کوانعام(ان کی پسندکا کھانا، انکی پسندیدہ جگہ کا ٹور،انکی پسند کا کھلوناوغیرہ) دے کر نمازیں پڑھنے کی ترغیب دلائی جائے۔علاقے کے زمہ داران مل کر کوئی اس طرح کا مقابلہ منعقد کریں، جس میں چالیس دنوں تک پانچ وقت کی نمازیں باجماعت پڑھنے والے خوش قسمت افراد کو قرعہ اندازی سے انعامات دیئے جائے ۔اب وقت ہیں مساجدوں کو تربیتی مراکز بنانے کا، دینی ایکٹیویٹیس سینٹر بنانے کا،زندگی کے ضروری افعال کی تربیت کا، نئی نسل کے دماغ میں اٹھتے سوالوں کو احادیث و ایمان کی روشنی میں ثبوت و دلائل اور محبت سے حل کرنے کااسی طرح مساجد میں مختلف دینی ایکٹیویٹیس کرائی جائیں،انھیں ذمہداری دی جائے تاکہ مسجد آنے کا ذوق و شوق پیدا ہو۔اساتذہ اسکولوں میں دینی ایکٹیویٹیس اور مباحثہ کروائے۔
گھر کے بڑوں کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی سوشل میڈیا ایکٹویٹی کی جانب کرتے رہیں کیونکہ اصل فتنہ سوشل میڈیا ہیں۔
گھر میں فضائل اعمال کی تعلیم کا معمول بنایا جائے اس سے ایمان تازہ ہوگا جب روز احادیث کان میں داخل ہوگی دل کی سختی کم ہوگی اور ایک نا ایک دن اس چٹان میں دراڑ ضرور پڑے گی۔
اب بھی وقت ہیں ہم باہم اقدامات سے کھوۓ ہوئے نمازیوں کو مسجد لاسکتے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ گھر کے اور مساجد کے ذمہداران واقعی سنجیدگی اور فکر اختیار کرلیں ۔