یہ ہم نے کیا چُن لیا؟
انسان کی زندگی دراصل انتخابوں کا مجموعہ ہے۔ ہر لمحہ، ہر موڑ پر وہ کچھ نہ کچھ چنتا ہے—کبھی شعور کے ساتھ اور کبھی محض عادت یا ماحول کے دباؤ میں۔ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے کتنا چُنا، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے کیا چُنا؟ اور کیوں چُنا؟آج کا انسان سہولت کو حکمت، مقبولیت کو حق، اور وقتی فائدے کو دائمی کامیابی سمجھ بیٹھا ہے۔ ہم نے وہ راستے اختیار کیے جو ہموار تو تھے، مگر سیدھے نہیں تھے؛ جو روشن دکھائی دیتے تھے، مگر روشنی مستعار تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اعمال کی روح کمزور پڑ گئی اور نیت کی گہرائی سطحی ہو کر رہ گئی۔
شریعتِ اسلام ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر انتخاب نیت، طریقے اور انجام—تینوں کے اعتبار سے پرکھا جائے۔ نیکی وہی معتبر ہے جو خلوصِ دل سے، درست طریقے پر اور درست مقصد کے لیے کی جائے۔ لیکن ہم نے نیکی کو بھی نمائش کا ذریعہ بنا لیا۔ جو عمل خاموشی میں اللہ کے ہاں وزن رکھتا تھا، ہم نے اسے شور میں لا کر ہلکا کر دیا۔
یہ دور سوال نہیں کرتا کہ عمل کتنا درست ہے، بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ وہ کتنا نمایاں ہے۔ ہم نے اپنے ضمیر سے کم اور لوگوں کی رائے سے زیادہ مشورہ لینا شروع کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ دل مطمئن نہیں، عبادت میں لذت نہیں، اور تعلقات میں اخلاص نہیں رہا۔
اصل المیہ یہ نہیں کہ زمانہ بدل گیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے بدلتے زمانے کو بغیر سوچے سمجھے قبول کر لیا۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر نیا راستہ ترقی نہیں ہوتا، اور ہر پرانا اصول فرسودہ نہیں ہوتا۔ دین ہمیں رکنے، سوچنے اور پھر چننے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔
اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے انتخابوں کا محاسبہ کریں۔ یہ دیکھیں کہ ہم نے جو چُنا، وہ ہماری آخرت کے لیے کتنا سودمند ہے، اور ہمارے ضمیر کے لیے کتنا بوجھل۔ کیونکہ آخرکار سوال یہی ہوگا:
یہ ہم نے کیا چُن لیا؟
— اور اس سوال کا جواب ہم کو صرف الفاظ سے نہیں، اعمال سے دینا ہوگا👍🏻
🌷۔۔۔فضہ صباحت۔۔۔🌷