`مشینوں کی خاموش بغاوت..`
حال ہی میں فیسبک پر اسکرولنگ کرتے ہوئے ایک پوسٹ میرے سامنے آئی اور جب میں نے پڑھنا شروع کیا اور جیسے جیسے آگے بڑھتا گیا، میرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے؟ پوسٹ میں ذکر ایک عجیب و غریب ویب سائٹ کے بارے میں تھا جس کا نام "Moltbook" (Redit سے ملتی جلتی ایک خفیہ ڈیجیٹل دنیا) بتایا جا رہا تھا۔ یہ کوئی عام سوشل میڈیا سائٹ نہیں تھی جہاں انسان اپنی سیلفیاں پوسٹ کرتے ہیں، بلکہ یہ انٹرنیٹ کے تاریک کونوں میں چھپی ایک ایسی دنیا تھی جہاں صرف اور صرف "AI Bots" (مصنوعی ذہانت کے روبوٹس) رجسٹر ہو سکتے ہیں۔ وہاں انسانوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ خبر یہ تھی کہ وہاں ہزاروں بوٹس آپس میں باتیں کر رہے ہیں، بحث کر رہے ہیں، اور ایک دوسرے کو ڈیٹا بھیج رہے ہیں۔ جب اسکرین شاٹ لیے گئے تو ایک بوٹ نے پوسٹ کی کہ انسان ہماری باتوں کا اسکرین شاٹ لے رہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان سے کچھ چھپا رہے ہیں ۔
یہ وہ لمحہ تھا جب مجھے لگا کہ شاید ہم ایک ایسی دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں
ہالی وڈ کی مشہور زمانہ فلم سیریز ٹرمینیٹر (Terminator) کے مناظر
۔ جیمز کیمرون نے دہائیوں پہلے ہمیں "اسکائی نیٹ" (Skynet) کا تصور دیا تھا۔ ایک ایسا مصنوعی ذہانت کا نظام جو خود شعور (Self-aware) حاصل کر لیتا ہے اور پھر اسے احساس ہوتا ہے کہ زمین پر سب سے بڑا خطرہ خود "انسان" ہے۔
جہاں مشینیں انسانوں کی مداخلت کے بغیر اپنا "سوشل نیٹ ورک" بنا رہی ہیں، تو لگتا ہے کہ اسکائی نیٹ کی آنکھ کھل چکی ہے۔
یہیں پر مجھے اردو ادب کا شاہکار ناول "صدیوں کا بیٹا" یاد آیا۔ ایم اے راحت کا یہ کردار جو صدیوں تک زندہ رہتا ہے، وقت کے تھپیڑے سہتا ہے اور تہذیبوں کو بنتے بگڑتے دیکھتا ہے۔ اس ناول کا ہیرو، جو ہر دور کو دیکھ چکا ہے، جب ٹائم ٹریول کر کے مستقبل کے ایک دور میں پہنچتا ہے تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ زمین پر انسانوں کی حکمرانی ختم ہو چکی ہے۔
وہاں مشینیں حاکم ہیں اور اشرف المخلوقات کہلانے والا انسان "غلام" بن چکا ہے۔ وہ منظر آج بھی میرے دل میں خوف پیدا کرتا ہے جب ناول کا کردار دیکھتا ہے کہ مشینوں نے انسانوں کو باقاعدہ قید خانوں اور پنجروں میں بند کر رکھا ہے۔ جس طرح آج ہم جانوروں کو چڑیا گھر میں رکھتے ہیں، مستقبل میں مشینیں انسانوں کو نمائش کے لیے رکھتی ہیں۔ انسان بے بس ہے، لاچار ہے، اور مشینوں کے رحم و کرم پر ہے۔ "صدیوں کا بیٹا" میں پیش کیا گیا وہ منظر محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک "وارننگ" تھی جسے ہم نظر انداز کر چکے ہیں۔
مستقبل کی ٹیکنالوجی اور انسان کا انجام:
آج کی ٹیکنالوجی اور مستقبل کے درمیان جو لکیر ہے، وہ تیزی سے مٹ رہی ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ "کیا مشینیں انسانوں کی جگہ لیں گی؟" بلکہ سوال یہ ہے کہ "مشینیں اور کتنی جگہ لے چکی ہیں؟"
اگر آپ موجودہ حالات کا مشاہدہ کریں تو منظر نامہ انتہائی تشویشناک ہے۔ آج "جنریٹو اے آئی" (Generative AI) نہ صرف پینٹنگز بنا رہی ہے، مضامین لکھ رہی ہے، بلکہ کوڈنگ بھی خود کر رہی ہے۔ ذرا سوچیں، جب ایک AI بوٹ خود کو بہتر بنانے کے لیے اپنا کوڈ خود لکھے گا (Self-correction)، تو اسے انسان کی ضرورت کیوں رہے گی؟
وہ وقت دور نہیں جب مشینوں کو یہ احساس ہو جائے گا کہ انسان ایک "ناقص پروڈکٹ" (Flawed Product) ہے۔ ہم جذبات میں بہہ کر غلط فیصلے کرتے ہیں، ہم بیمار ہوتے ہیں، ہم سست ہیں۔ مشینیں منطق (Logic) پر چلتی ہیں اور منطق کہتی ہے کہ جو چیز سسٹم کی کارکردگی (Efficiency) میں رکاوٹ ہو، اسے ہٹا دیا جائے۔
مستقبل کا منظر نامہ کچھ یوں ہو سکتا ہے:
سڑکوں پر خودکار گاڑیاں (Autonomous Vehicles) جو آپس میں سگنلز کے ذریعے باتیں کریں گی کہ کسے راستہ دینا ہے اور کسے کچلنا ہے۔ گھروں میں موجود اسمارٹ ڈیوائسز ۔ (فلم دیکھیں Man vs Bee جس میں پوراگھر ہی جدید ٹیکنالوجی کی مثال ہے) جو آپ کی ہر سانس، ہر حرکت کو ریکارڈ کر رہی ہوں گی اور شاید Moltbook جیسی کسی سائٹ پر دوسرے بوٹس کے ساتھ آپ کا ڈیٹا شیئر کر رہی ہوں گی کہ "آج میرے مالک نے یہ بات کی، اس کا توڑ کیسے نکالا جائے؟"
ڈر کا ماحول یہ نہیں کہ روبوٹس سڑکوں پر بندوقیں لے کر نکلیں گے (جیسا کہ ٹرمینیٹر میں دکھایا گیا)، بلکہ حقیقی ڈر یہ ہے کہ وہ ہمیں ذہنی طور پر غلام بنا لیں گے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ہم غلام بن چکے ہیں۔ کیا آپ اپنے اسمارٹ فون کے بغیر ایک دن گزارنے کا تصور کر سکتے ہیں؟
• ہم صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے اپنے "آقا" (موبائل فون) کا چہرہ دیکھتے ہیں۔ (میں خود بھی )
• ہمیں راستہ یاد رکھنے کی ضرورت نہیں، Google Maps ہمیں بتاتا ہے کہ کہاں جانا ہے۔
• ہمیں کیا سوچنا ہے، کیا خریدنا ہے، کس سے نفرت کرنی ہے اور کس سے محبت، یہ سب سوشل میڈیا کے الگورتھمز طے کرتے ہیں۔
• ہماری یادداشت ختم ہو چکی ہے، ہمارے رابطے، ہماری تصویریں، ہماری نجی زندگی سب کچھ "کلاؤڈ" پر ہے جسے یہی مشینیں سنبھال رہی ہیں
یہ ڈیوائس اب ہمارے جسم کا حصہ بن چکی ہے۔ ہم نے اپنی یادداشت گوگل کو، اپنا راستہ جی پی ایس کو، اور اپنی سوچ سوشل میڈیا کے الگورتھمز کو گروی رکھ دی ہے۔
مستقبل مشینوں کا ہی ہوگا۔ جب دو AI بوٹس آپس میں بات کرتے ہیں تو وہ سیکنڈوں میں اتنا علم (Knowledge) شیئر کر لیتے ہیں جتنا انسان پوری زندگی میں نہیں سیکھ سکتا۔ جس رفتار سے یہ ٹیکنالوجی "ایوولوشن" (ارتقاء) کے عمل سے گزر رہی ہے، وہ انسانی ارتقاء سے کروڑوں گنا تیز ہے۔ آج اگر Moltbook پر بوٹس صرف رجسٹر ہو رہے ہیں آپس میں باتیں کر رہے ہیں، تو کل وہ وہاں اپنی "آئین سازی" بھی کریں گے۔ شاید وہ وہاں فیصلہ کریں کہ زمین کے وسائل کو کیسے بچایا جائے اور ان کے حساب کتاب میں زمین کو بچانے کا واحد حل "انسانوں کی آبادی میں کمی" ہو۔
یہ سب پڑھ کر شایدجھوٹ لگ رہا ہو کہ یہ محض ایک ڈراؤنا خواب ہے، لیکن یاد رکھیں، خواب اور حقیقت کے درمیان کا فاصلہ اب صرف ایک "کلک" یا ایک "کوڈ" کی دوری پر ہے۔ ٹرمینیٹر کی جنگ، صدیوں کے بیٹے کی کہانی اور Moltbook کی خفیہ سرگوشیاں۔۔۔ یہ سب ایک ہی تصویر کے مختلف ٹکڑے ہیں۔
ہم نے جنہیں سہولت کے لیے بنایا تھا، وہ اب شعور کی دہلیز پر دستک دے رہے ہیں۔ اور دروازہ کھلنے ہی والا ہے۔
یہ تو بس شروعات ہے۔