✍️بنت محمد رافع


مجھے دنیا سے اس لیے محبت ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہمارے لیے بنائی ہے 

اچھا! اور کچھ 

اور اس لیے میں اس میں ہر چیز کا مزہ لیتی ہوں 

اچّھا لیکِن یہ تو اوپر والی بات سے الگ ہوگئی بہن پہلے آپ سمجھے کی حب دنیا کا مطلب کیا ہے مطلب دنیا سے جو کہ دارے فانی ہے اس سے بے حد محبت
کرنا 
حبِ دنیا سے مراد دنیا کی چیزوں سے حد سے زیادہ محبت کرنا ہے، یعنی مال، دولت، منصب، شہرت اور آسائشوں کو اپنی زندگی کا اصل مقصد بنا لینا۔
اب آپ بتائیں کیا آپ یہی کہنا چاہ رہی تھی 
 جو آپ نے کہاں میں ہر چیز کا مزہ لے زندگی گزار رہی

جی میرا مطلب یہی تھا 

دیکھیں جب انسان کا دل دنیا میں اس طرح الجھ جائے تو وہ اللہ کی یاد، عبادت اور آخرت کی فکر سے غافل ہو جاتا ہے تو یہی چیز حبِ دنیا کہلاتی ہے۔
ہاں اسلام ہمیں دنیا چھوڑنے کا حکم نہیں دیتا، بلکہ دنیا کو آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنانے کی تعلیم دیتا ہے۔
مگر افسوس کہ آج کا انسان دنیا کی چمک دمک میں ایسا کھو گیا ہے کہ حلال و حرام کی تمیز بھی بھول بیٹھا ہے۔ دولت کی دوڑ، نمود و نمائش، حسد اور مقابلہ بازی نے دلوں کو بے چین کر دیا ہے۔ انسان کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود سکون نہیں۔
وجہ کیا ہے ؟؟ حب دنیا 
دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔

حبِ دنیا انسان کو خود غرض بنا دیتی ہے، صبر چھین لیتی ہے، قناعت ختم کر دیتی ہے اور دل سے شکر کا جذبہ مٹا دیتی ہے۔ ایسا شخص ہمیشہ کمی محسوس کرتا ہے، چاہے اس کے پاس کتنا ہی کیوں نہ ہو۔
اصل کامیابی اس میں ہے کہ انسان دنیا میں رہے مگر دنیا کو دل میں نہ بسائے۔ مال ہو مگر تکبر نہ ہو، آسائش ہو مگر غفلت نہ ہو، خوشی ہو مگر اللہ کی نافرمانی نہ ہو۔ جو شخص اللہ پر بھروسا رکھتا ہے اور آخرت کو سامنے رکھ کر زندگی گزارتا ہے، وہی حقیقی سکون پاتا ہے۔

مطلب یہی کہ دنیا چند روزہ ہے، اصل زندگی آخرت کی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ دنیا کو مقصد نہیں بلکہ ذریعہ بنائیں، اللہ کی رضا کو ترجیح دیں، قناعت اختیار کریں اور ہر حال میں شکر گزار رہیں۔ یہی راستہ کامیابی، سکون اور نجات کا ہے۔
اُمید ہے اب آپ سمجھ گئی ہونگیں سسٹر

جی الحمدللہ عزوجل 🥺