سرخ گائیں
: نقاب پوشؒ کی تصدیق
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں دجالی وزیر قومی ورثہ امیہائی ایلیاہو (Amichai Eliyahu) اپنی بیٹیوں کے ساتھ سرخ گایوں کے فارم کا دورہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ وہی گائیں ہیں جن کا ذکر حضرت نقاب پوش رحمہ اللہ نے معرکۂ طوفان کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ سرخ گائیں طوفان کے آغاز اور مخصوص یہودی رسومات کے لیے ضروری تھیں، جو امریکا سے لائی جاچکی ہیں۔ آج یہ وزیر کھلے عام اس حقیقت کا اعلان کر رہا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنہوں نے نقاب پوش کی بات کو افسانہ قرار دیا تھا، وہ غلطی پر تھے۔ یہ دجالی وزیر وہی ہے، جس نے غزہ پر ایٹم بم پھینکنے کا مطالبہ کیا تھا۔
سرخ گایوں کا معاملہ براہِ راست مسجدِ اقصیٰ کی حفاظت اور ہیکل کی تعمیر سے جڑا ہے۔ یہودی عقیدے کے مطابق تیسرے ہیکل کی تعمیر کے لیے ایک شرط یہ ہے کہ پانی کو سرخ گائے کی راکھ سے طہارت حاصل ہو۔ سرخ گایوں (red heifers) کی یہ خاص تطہیری رسومات تعلق صفرۂ مقدس (Temple) سے ہے۔ جسے دجالی مذہب میں “Parah Adumah” کہا جاتا ہے۔ یہ روایت توریت (Numbers 19) میں درج ہے، جس میں سرخ گائے کو ذبح اور پھر جلا کر کی اس کی راکھ سے پانی تیار کر کے نفاست (ritual purity) حاصل کی جاتی ہے۔
اس گائے میں یہ خصوصیات ہونی چاہیے کہ یہ مکمل سرخ رنگ ہو، کوئی نقص یا عیب نہ ہو اور کبھی کام یا بوجھ اٹھانے کے لیے استعمال نہ ہوئی ہو اور نہ ہی ان کا دودھ کبھی نکالا گیا ہو۔ یہ شرطیں پوری کرنا بہت مشکل ہیں، اسی لیے تاریخ میں صرف نو گائیں ایسی مل سکی ہیں اور آخری تقریباً دو ہزار سال قبل پائی گئی تھی۔ کہتے ہیں اب دسویں گائے بھی مل گئی ہے امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک فارم سے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق دنیا کے کچھ عیسائی (evangelical) فارم اور یہودی تنظیمیں مل کر انہیں تلاش اور خرید کر اسرائیل لائی ہیں۔ مذکورہ وزیر نے ان گایوں کا استقبال کیا تھا اور اس وقت منعقد ہونے والی تقریب میں اس نے کہا تھا کہ وزارت نے اس منصوبے میں مدد دی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ان گایوں کو اسرائیل کے شمالی علاقے (قدیم شِلو/Ancient Shiloh)، جو بیطان (Beit Shean) کے قریب ہے، ایک محفوظ جگہ پر رکھا گیا ہے جہاں ان کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔
اس گائے کو بہت اہمیت حاصل ہے، کیونکہ اس کے ملنے کا مطلب یہ ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کو شہید کیا جائے اور اس کی جگہ ہیکل تعمیر کیا جائے۔ 2022 میں یہودی کاہنوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں ایک نہیں، بلکہ پانچ گائیں ایسی مل گئی ہیں۔ توقع تھی کہ یہ رسومات اپریل 2024 کے شروع میں کی جائیں گی، یعنی تقریباً دو سال پہلے ہی مسجد اقصیٰ کی مسماری کا آغاز ہونا تھا۔
لیکن یہ منصوبہ ناکام رہا۔ کیسے؟ قدسی اپنے مقدس خون کا دریا بہا کر اس مذموم منصوبے کے سامنے حائل ہوگئے۔ اگر طوفان کا معرکہ نہ ہوتا تو آج مسجدِ اقصیٰ محض تاریخ کی کہانی بن چکی ہوتی اور عرب حکمران اور نام نہاد مسلم رہنما ہیکل کی افتتاحی تقریب میں موجود ہوتے۔
آج صہیونی اس خواب کے ناکام ہونے پر اپنی تسلی کے لیے ایسی ویڈیوز پھیلا رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ منصوبہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکا اور جب تک پاکیزہ قدسی وجود باقی ہے، کبھی ہو بھی نہیں سکے گا۔ ان شاءاللہ۔
(ضیاء چترالی)