🎊🎈🎀🪄🎉🎉🪄🎀🎈🎊
*نکاح ایک عبادت ہے مصیبت نہیں*
الحمدللہ الذی ھدانا لھذا وما کنا لنھتدی لو لا ان ھداناالله(امابعد)
أعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةًؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ (صدق اللہ العظیم)
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ’’ من تزوج فقد استكمل نصف الإيمان فليتق الله في النصف الباقي (اوکماقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم)
فضل الہی میں آج اس اہم موضوع پر لب کشائی کرنے کوشش کررہی ہوں جس کو معاشرہ نے ناسور بنادیا ہےاور آپ تمام کے حق میں دعا گو ہوں اللہ پاک ہم سب کو متعینہ موضوع پر عمل کرنے والا بنائے آمین
انسانوں کی ہدایت اللہ تعالی نے قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ رکھا ہے فرمایا ہے *ماآتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھو* رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو جس چیز کا حکم دیں وہ لے لو جس سے منع کرے رک جاؤ دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے *لقد کان لکم فی رسول اللّٰہ اسوۃ حسنۃ* حقیقت تو یہ ہے کہ تمہارے لیے اللہ کے رسول بہترین نمونہ ہے قران مجید میں اگے درس دیتا ہے کہ *من یطع الرسول فقد اطاع اللہ* جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہے وہی اللہ کی اطاعت کرتا ہے ان آیات سے پتہ یہ چلتا ہےکہ ہر راہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم اختیار کریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کو لازم پکڑیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کام کا حکم دیا ہے اس کو اپنائیں جس کام سے منع کیا ہے اس سے رک جائیں
♦️ہمارے یہاں پر ایک اہم مسئلہ اور عبادت ۔ امر الہی نکاح بھی ہے نکاح انسانی زندگی کی وہ عبادت اور وہ امر شرعی ہے جس سے معاشرہ اور خاندان موجود پذیر ہوتا ہے اور معاشرت کے لیے شریعت و طریقت کی ضرورت ہوتی ہے جس سے انسانوں کو جینے کا شعور اور مقصد ملتا ہے پیدا کیے جانے کی وجہ *صرف مذہب ہی بتاتا ہے* کہ یہ دنیا کس نے بنائی کیوں بنائی ؟
ہمیں کیوں پیدا کیا گیا؟
انسان کو چاہیے کہ اپنی زندگی میں نکاح جیسا جو اہم امر اللہ نے رکھا ہے وہ انسانی حاجات کی تکمیل کا بھی ذریعہ ہے اور امر الہی کی تعمیل کا بھی ذریعہ ہے اور خداوند عالم کا دستور رہا ہے کہ جب کسی عبادت کا حکم دیتا ہے تو اس کا طریقہ سکھلانے کے لیے رسول کی ذات کو مخلوق کی طرف پیش کرتا ہے اور کہتا ہے یہی تمہارے لیے *اسوۃ حسنہ* ہے
تابعدار بن جاؤ
نبی کی اطاعت گزار بن جاؤ
عبادت کو عبادت کے انداز میں اپناؤ
نیکی نیکی کے ارادے سے کرو
تاکہ اجرآخرت تیار ہوجائے
کیونکہ نکاح بھی ایک عبادت ہے نکاح بھی ایک سنت ہے
نکاح بھی ایک رحمت ہے
نکاح بھی ایک راحت ہے
نکاح بھی ایک طہارت ہے
نکاح بھی ایک ہدایت ہے
تقریب نکاح وہ مقدس تقریب ہے اس کائنات کے وجود میں آنے کے بعد اس کو سب سے پہلے منعقد کیا گیا حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا کی ولادت کے بعد عقد ہوا ہے اس تقریب کو اللہ نے منعقد فرمائی ہے گویا کائنات کا آغاز تقریب نکاح سے ہوا
♦️یاد رکھیے ہر نکاح چھ باتوں کا نام ہے اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہو وہ فضول ہے اور بے کار ہے نکاح کے اہم امور میں
دو فرض ہے
ایک واجب ہے
تین سنتیں ہیں
نکاح کو شریعت نے بہت آسان بنایا ہے لیکن ہم نے اس کو مشکل بناڈالا ہے *فرائض نکاح وہ ہے جس کے بغیر نکاح ہی نہیں ہوتا*
نمبر ایک: ایجاب و قبول
نمبر دو: دو مسلمانوں کی گواہی نمبر تین : حق مہر
نمبر چار : چھوارے تقسیم کرنا نمبر پانچ : خطبہ نکاح
نمبر چھ : دعوت ولیمہ
اگر ہم نے ان چھ چیزوں پر نکاح کو تسلیم کر لیا اور یہی چھ چیزوں پر اپنا نکاح قائم کیا ہے تو خدا کی قسم نکاح مشکل نہیں ہوگا اور نکاح مشکل اسلام نے نہیں بنایا اسلام کے دائرے سے نکل کر ہم نے نکاح کو مشکل بنا لیا ہے
نکاح نہایت سادگی اور آسانی کا نام ہے نکاح مذکورہ بالا چھ امور کے مجموعے کو کہتے ہیں اس سے ہٹ کر اسراف کرنے والا مجرم ہوگا احکام شریعت کی بے شمار کتابیں ہیں بے شمار حدیثیں ہیں لیکن کہیں بھی جہیز کا حکم مذکور نہیں ہے
نہ کسی دلہن پر یہ واجب ہے کہ وہ اپنے ساتھ جہیز لے آئے
نہ دلہن کے والدین کا فریضہ ہے کہ اپنی گڑیا کے ساتھ سامان جہیز بھی روانہ کریں
بخاری میں کتاب الایمان موجود ہے کتاب اللباس موجود ہے
ترمذی میں کتاب الطہارہ موجود ہے کتاب العلم موجود ہے
ابو داؤد میں کتاب الزکوۃ موجود ہے کتاب الحج موجود ہے
اسی طرح بقیہ کتابوں میں کتاب التجمل موجود ہے باب البر ہے
لیکن کتاب الجہیز کہیں پر بھی موجود نہیں ہے کیونکہ وہ شریعت کا حصہ نہیں ہے طہارت زکوۃ عبادت شریعت کا اہم حصہ ہے ان سب کو ترتیب کے ساتھ بیان کیا ہے لیکن جہیز جیسی منحوس رسم کا حکم کہیں پر بھی نہیں ملتا ہے نہ علما ملتا ہے نہ عملا ملتا ہے
♦️ *یہاں پر ہماری قوم کہتی ہے کہ کیا سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لخت جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو جہیز نہیں دیا تھا؟*
ہم کہتے ہیں جی ہاں دیے تھے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف ایک ہی بیٹی تھی؟
آپ کہیں گے نہیں چار بیٹیاں تھیں پھر
میرا بھی سوال سنیے کہ صرف فاطمہ کے جہیز کا تذکرہ ہی کیوں؟
باقی تین بیٹیوں کے جہیز کا تذکرہ کیوں نہیں
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے جہیز کا تذکرہ کیوں نہیں؟
حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے جہیز کا تذکرہ کیوں نہیں ؟
حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا کے جہیز کا تذکرہ کیوں نہیں؟
*سنیے جواب بھی میں ہی دوں گی*
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کو جہیز نہیں دیا گیا کیونکہ جہیز دینا شرعی امر نہیں ہے
حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو جہیز نہیں دیا گیا کیونکہ جہیز شرعی امر نہیں ہے
حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا کو نہیں دیا گیا کیونکہ جہیزشرعی امر نہیں ہے
لیکن حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کو جہیز دیا گیا کیونکہ وہاں پر جہیز کی ضرورت تھی نہ کہ جہیز کو سنت قرار دیا جانے کے لیے دیا گیا!
♦️حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے شوہر ابو العاص ابن ربیع بڑے بزنس مین تھے وہاں جہیز نہیں دیا گیا ہے
حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے شوہر عثمان غنی غنی تھے وہاں جہیز نہیں دیا گیا ہے
حضرت امکلثوم رضی اللہ تعالی عنہا کے شوہر عثمان غنی غنی تھے وہاں جہیز نہیں دیا گیاہے
حضرت فاطمۃ الزہرہ کے شوہر حضرت علی جن کے مالی حالات کچھ بہتر نہیں تھے اس لیے اللہ کے نبی نے ان کو بقدر ضرورت کچھ سامان مہیا کر کے اپنی بیٹی کو ان کے نکاح میں دے دیا ہے
♦️کیا آج جہیز دینے والے کسی امانت دار اور غریب کے گھر میں اپنے شہزادی کو دینے کا ارادہ کرتے ہیں دینا گوارا کرتے ہیں
اپنے لیول کے خاندان کو تلاش کرتے ہیں
گاڑی بنگلے کو تلاش کرتے ہیں
اپنے اسٹیٹس کا خاندان دیکھتے ہیں
وہ جتنا مالی اعتبار سے اونچا ہوتا ہے اپنی بیٹی کو اتنا ہی اچھے انداز میں جہیز مہیا کرتے ہیں
یہ جہیز کی گندی ریل پیل کو جہیز فاطمی قرار نہ دو
جہیز فاطمی سے میچ نہ کرو
جہیز فاطمی سے تشبیہ نہ دو
جہیز فاطمی کا سہارا نہ لو
اپنی بد نیتی کے جہیز کو جہیز فاطمی کا نام نہ لگاؤ
وہاں پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدد کی نیت سے ایک خاندان کو جنم دینے کی نیت سے کچھ سامان میسر کر دیے تھے
یہاں ہم نام و نمود کے لیے جہیز دیتے ہیں
یہاں ہم واہ وائی کے لیے جہیز دیتے ہیں
یہاں ہم رسم ادا کرنے کے لیے جہیز دیتے ہیں
یہاں ہم رواج بڑھانے کے لیے جہیز دیتے ہیں
یہاں ہم قرض لے کر جہیز دیتے ہیں
یہاں ہم سود لے کر جہیز دیتے ہیں
یہاں ہم مقابلہ بازی کے لیے جہیز دیتے ہیں
♦️یاد رکھیے اللہ کے نبی نے آسان نکاح کو بابرکت نے نکاح کہا ہے
اللہ کے نبی نے کم خرچ والے نکاح کو بابرکت نکاح کہاہے
اللہ کے نبی نے سادگی کے نکاح کو بابرکت نکاح کہا ہے
اللہ کے نبی نے لوگوں کو تکلیف نہ دینے والے نکاح کو بابرکت نکاح کہا ہے
حدیث میں ارشاد نبوی ہے *إن من أعظم النکاح برکةً أیسرہ موٴنة*
ہاں آج کل ہمارا نکاح رسم کے بغیر مکمل نہیں ہوتا
آج ہمارا نکاح سہرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا
آج ہمارا نکاح سوغات کے بغیر مکمل نہیں ہوتا
آج ہمارا نکاح باجے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا
آج ہمارا نکاح ویڈیو کے بغیر مکمل نہیں ہوتا ہے
آج ہمارا نکاح گانے میوزک کے بغیر مکمل نہیں ہوتا ہے
آج ہمارا نکاح فضول خرچی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا ہے
آج ہمارا نکاح 10 / 10 کھانوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتا ہے
آج ہمارا نکاح 50 ہزار روپےوالے ہالوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتا ہے
آج ہمارا نکاح پودینے کے ہار کے بغیر مکمل نہیں ہوتا ہے
یہ نکاح والے کام نہیں ہیں یعنی نکاح کے فرائض اور واجبات میں سے نہیں ہیں یہ نکاح محض ہندوانہ نکاح ہے ہندوانہ رواج کو پڑھانے والا نکاح ہے
♦️یاد رکھیے! جس میں ہندوانہ رسم پائی جاتی ہے ہندوانہ رواج پائے جاتے ہیں یہ نکاح رحمت والا نکاح نہیں ہو سکتا
یہ نکاح محض مصیبت والا نکاح ہوتا ہے
یہ نکاح زیادہ پائیدار نہیں بنتا ہے
یہ نکاح خستہ اور بےکار ہو جاتا ہے
نکاح امر الہی ہے
نکاح ایک عبادت ہے
نکاح ایک فریضہ ہے
نکاح کے حدود کو جانو
نکاح کے حدود کو مانو
نکاح کے حدود کو فالو کرو
جو شخص حد سے آگے بڑھ جاتا ہے وہ دائرے سے نکل جاتا ہے
*جو چیز دائرے سے نکل جاتی ہے وہ بکھر جاتی ہے*
♦️ *میری ماں اور بہنوں!* میرا مقصد صرف آپ تمام کو آسان اور مسنون نکاح بتانا مقصود ہے آسان اور مسنون نکاح کا سب سے بڑا راز میں آپ کو بتا دوں آپ کو بڑی سہولت محسوس ہوگی انسان دو کاموں کی طاقت رکھنے پر مسنون اور آسان نکاح کی قدرت پا لیتا ہے نمبر ایک: سنت رسول کی اہمیت کو دل میں جگہ دینے کی کوشش کرنا
نمبر دو: خود کفیل اور خود مختار ہو جانا
حدیث پاک میں آتا ہے جو شخص بیوی کے خرچ اٹھانے کی طاقت رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ نکاح کرے
نکاح کرنے کے لیے ایک اچھی سی حلال روزی حاصل کرنے والی جاب جس میں کم از کم روزانہ کا گزر بسر آسانی سے ہو جاتا ہو
*بڑے بزنس مین بن کر ہی شادی کرنا ضروری نہیں ہے* مختصر حلال روزی حلال آمدنی کا ذریعہ بھی نکاح کرنے کے لیے کافی ہے
آدمی کا خود کفیل ہونا بھیک مانگنے سے بچاتا ہے
غیرت مند بناتا ہے
آدمی اپنی حیثیت کے مطابق کام کرنے کی کوشش کرتا ہے
جو خود کفیل ہو کر بھی بھیک مانگتا ہو آگے والے کی تھالی میں جھانکتاہو وہ حرص اور لالچ میں مبتلا ہے دستور دنیا کو رواج دنیا کو ہندوانہ رسم کو فروغ دینے کی کوشش میں لگا ہے
♦️یاد رکھیے نکاح نبی کی سنت ہے صرف نبی کی ہی نہیں بلکہ تمام انبیاء کی سنت ہے
*سنت زندہ کیجیے سنت کا جنازہ مت نکالیے*
مسنون اور آسان نکاح کو فروغ دو تاکہ تمہارے نکاح سے دوسروں کی بیٹیوں کے نکاح آسان ہو جائے دوسرے ماں باپ کا بوجھ بھی ہلکا ہو جائے
اگر آپ فضول خرچی کا نکاح کرتے ہیں اور دھوم دھام سے شادی رچاتے ہیں خوب زیور پہناتے ہیں چمک دمک والا بھاری بھرکم لباس پہناتے ہیں اور قیمتی میکپ کرواتے ہیں اور کسی غریب کے گھر کے سامنے سے اپنی بارات لے گزرتے ہیں تو اگر وہ دیکھے اور حسرت کرنے لگے پھر اپنا منہ اپنے دوپٹے میں چھپا کر رونے لگے اپنا سر تکیے پر رکھ کر آنسو بہانے لگے تو
*یاد رکھیے*
آپ کامال اس کے انسوؤں میں بہ جائے گا
آپ کا حال اس کے آنسو میں بہ جائے گا
آپ کے خوابوں کا تاج محل اس غریب کی آنسؤوں میں بہ جائے گا
وہ دل میں کہتی ہوگی کہ کاش میرا ابابھی اس قدر مال والا ہوتا تو میں بھی اس طرح خوشی خوشی بہائی جاتی ہوگی یہ احساس اگر کسی بیٹی کے دل میں پیدا ہو گیا تو سمجھ جائیے آپ نے اس کو تکلیف دی ہے آپ کا نکاح رحمت والا نہیں مصیبت والا بن گیا ہے
لہذا اپنے نکاح کو کمزوروں کی آہ سے بچاؤ
اپنے نکاح کو غریبوں کی آہ سے بچاؤ
اپنے نکاح کو نظر بد سے بچاؤ
اپنے نکاح کو بد دعا سے بچاؤ
بہت سی جگہوں پر والدین اس کے نام پر قرضے میں مبتلا ہو جاتے ہیں
بہت سی جگہوں پر والدین جہیز کے نام پر اپنا گلا گھونٹ دیتے ہیں
بہت سی جگہوں پر والدین جہیز کے نام پر اپنے ماں کا زیور چھین کر اپنی بیٹی کے گلے میں ڈال دیتے ہیں
بہت سی جگہوں پر والدین اپنے بہو کا زیور چھین کراپنی بیٹی کا گلا سجا دیتے ہیں
بہت سےوالدین جہیز کے نام پر سود میں مبتلا ہو جاتے ہیں
یاد رکھیے! یہ نکاح رحمت والا نکاح نہیں ہے
تکلیف والا نکاح ہے
مصیبت والا نکاح ہے
ایذاء رسانی والا نکاح ہے
اور ہر آئے دن طلاق کی واردات کیوں سامنے آجاتی ہے
خلع کے مقدمےسامنے کیوں آجاتے ہیں
جوڑوں کے ٹوٹنے کی آوازیں کوٹ میں کیوں گونجتی ہیں
دو ماہ کے جوڑے وکیل اور جج تک کیوں پہنچ جاتے ہیں
چھ ماہ کی دلہن تھانے میں شکایت کیوں درج کرواتی ہے
وجہ یہی ہے نکاح کی بنیاد ہی ایذا رسانی پر رکھی تھی
وجہ یہی ہے نکاح کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھی تھی
وجہ یہی ہے کہ نکاح کی بنیاد ہی سود پر رکھی تھی
وجہ یہی ہے نکاح کی بنیاد ہی فضول خرچی پر رکھی تھی
وجہ یہی ہے نکاح کی بنیاد ہی بیکار رسم و رواج پر رکھی تھی
وجہ یہی ہے کہ نکاح کی بنیادہی ہندوانہ طرز پر رکھی تھی
وجہ یہی ہے نکاح کی بنیادہی سنت کو چھوڑ کر خواہشات پر رکھی تھی
اس لیے نکاح پائیدار نہیں بن سکے
تا دیر قائم نہیں رہ سکے
شاندار نہیں نبھ سکے
نسل دار نہیں ہو سکے
میری پیاری بہنوں دیکھیے مال کی نحوست چمنوں کو اجاڑ دیتی ہے مال کی نحوست خاندانوں کو توڑ دیتی ہے مال کی نحوست گھروں کو ویران کر دیتی ہے مال کی نحوست بے شمار دولت کو خاک میں ملا دیتی ہے لہذا نکاح کو اسان بناؤ مسنون نکاح اپنا بابرکت نکا وجود میں لاؤ مختصر سی تقریب میں نکاح کا ماحول قائم کرو آسان اور مسنون نکاح کے
♦️ *چند امور ملاحظہ فرمائیے*
نمبر ایک: نکاح مسجد میں پڑھوایا جائے تاکہ خوب عام ہو سکے
نمبر دو: شادی کی کوئی تقریب ہی نہ ہو تو بہت اچھا ہے
نمبر تین: اگر شادی کی تقریب رچاؤ تو بہت مختصر ہو
نمبر چار: مہر معجل ادا کرنے کی کوشش کریں
نمبر پانچ: کم خرچ والا نکاح کریں
نمبر چھ: جہر جیسی ناسور رسم سے خالی ہو ایسا نکاح کری
نمبر سات: ایک ہی دن میں نکاح اور ولیمہ ہو جائے ایسا نکاح کریں
نمبر آٹھ:تحفے تحائف اور لفافوں والی رسم کو ختم کرنے والا نکاح کریں
نمبرنو: ہر قسم کی بے کار رسم دور کرنے والا نکاح کریں
نمبر دس: خود کفیل اور خود مختار ہو کر نکاح کریں
نمبر گیارہ: کم عمری میں نکاح کریں
نمبربارہ: سنت والا نکاح کریں
نکاح بے عیب عبادت ہے
لاریب اطاعت ہے
نکاح کو آسان بناؤ
زنا کو مشکل بناؤ
نکاح انبیاء کی سنت ہے
نکاح اتنا پاکیزہ بندھن ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام دس سال خدمت کا مہر ادا کیے ہیں نکاح جیسی عبادت کے خاطر
اور زنا اتنا بڑا گناہ اور ایسی بدترین برائی ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اس سے بچنے کے لیے 10 سال کی قید کو منظور کر لیا ہے مسلمانوں کے لیے بہت اہم سبق ہے
نکاح کے سلسلے میں ہوش کی ضرورت ہے اللہ کے حکم کو مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے تعلیمات نبوی کو طرز زندگی بنانے کی ضرورت ہے مسنون نکاح کے بے شمار ثمرات ہے
نکاح سے آدمی اپنی عزت کی حفاظت کرتا ہے
ذلت سے بچ جاتا ہے
ثواب کی راہ اختیار کر لیتا ہے
نگاہوں کو نیچے رکھتا ہے
معاشرے سے گندگی کا خاتمہ ہو جاتا ہے
انسانیت کی حفاظت ہو جاتی ہے
بیٹی محفوظ ہو جاتی ہے
امن کا قیام ہوجاتا ہے
وقت کی بدترین صورتحال آج نکاح میں تاخیر ہے جو معاشرے کا ناسور بن گیا ہے محض بیکار کے رسم رواج اور ضرورت سے زائد تعلیم کے حصول کے آڑ میں آج نکاح کو مؤخر کر دیا جا رہا ہے
اگر شادی کی تقریبات سے ہندوانہ رسم و رواج کا خاتمہ ہو جائے تو نکاح کرنا دو رکعت نفل نماز پڑھنے سے بھی زیادہ آسان ہو جاتا ہے نکاح مشکل ہم خود نے بنایا غیروں کے اعتبار کو اپنا کر اپنے دین سے اپنے مذہب سے اپنی تعلیمات سے اپنے نبی سے اپنے خدا سے دور بھاگ کر
ایک جگہ قرآن و سنت آسان نکاح کا درس دیتا ہے تو ہم دوسری طرف بے جا مطالبات اور بے جا رسموں سے نکاح کو مشکل نہیں بنارہے ہیں جس سے معاشرتی نظام میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے بلکہ نوجوان نسل بھی اس سے متاثر ہو رہی ہے جس طرح سے جب ہمیں بھوک پیاس محسوس ہوتی ہے تو ہم کھانے اور پانی سے مٹاسکتے ہیں اور اگر ایسے ہی جنسی پیاس ابھر آئے تو انسان کو سیدھا راستہ میسر نہ ہوتو وہ غلط راستے سے اپنی ہوس کو مٹاتا ہے جس کا وبال صرف وہ نوجوان نسل پر نہیں ان کے والدین کے سر پر بھی ہوگا نکاح کی تعلیم نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کچھ اس طرح سے دی ہے آپ توجہ فرمائیں کیونکہ نکاح ایک پاکیزہ سنت ہے جسے عملی طورپر اپنایا ہے امت کو اس جانب متوجہ کیا ہے اور فرمایا ہےنکاح میری سنت ہے اور جو میری سنت سے منہ پھیر دے وہ مجھ سے نہیں نکاح وہ فطری تقاضہ ہے جس سے انسان اپنی زندگی کو پاکیزہ اور پائیدار بناتا ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے نوجوانو تم میں سے جو کوئی استطاعت رکھتا ہے نکاح کی اس کو چاہیے کہ نکاح کرے کیونکہ وہ نگاہوں سے روکتا ہے نگاہوں کو نیچا رکھتا ہے اور شرمگاہوں کی حفاظت کرتا ہے
تابعی ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں نکاح رچاؤ اور رزق کی پرواہ نہ کرو کیونکہ جو ذات عورت کو اس کے والدین کے گھر میں رزق فراہم کر رہی تھی وہی ذات اسی طرح اس کے ساتھ ساتھ تمہیں بھی تمہارے گھر میں رزق فراہم کرے گی خدا کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہوئے نبی کی سنتوں کی طرف قدم بڑھانے کی ضرورت ہے مولانا الیاس گھمن صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت جس شخص سے محبت فرماتے ہیں اس کو اپنے نبی کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماتے ہیں خوش قسمت اور سعادت مند شخص ہے وہ جو اپنی خوشیاں اور غمیاں اللہ رب العزت کے حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق گزارے
یاد رکھیے نکاح اتنی خوبصورت عبادت ہے کہ اللہ تعالی اس کائنات کا آغاز نکاح سے کیا جب تک نکاح ہوگا کائنات رہے گی جب نکاح کا سلسلہ ختم ہو جائے تو دنیا کے ختم ہونے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے مسلم شریف کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا *لا تقوم الساعۃ حتی یقال فی الأرض اللہ* اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ بولنے والا رہے گا تو نکاح جیسا اہم فریضہ نکاح کو عبادت سمجھنے والی قوم صرف مسلمان ہے مسلمان قوم ہی وہ واحد قوم ہے جو زمین پر اللہ کا ذکر کرتی ہے جو اللہ کا ذکر کرے گی اس سے دنیا چلتی ہے خدا کو یاد کرنے والی قوم خدا کے احکام کی پابندی کرنے والی قوم ہے جب احکام کی پاسداری کرے گی تو نکاح کرے گی اور جب یہی مسلمان ختم ہو جائے تو نکاح ختم ہو جائے گا اسی طرح دنیا بھی ختم ہو جائے گی اسی لیے نکاح عبادت ہے اور عبادت کی طرح اس کو فروغ دینا چاہیے
*نکاح کے بہت سارے مقاصد ہیں*
پہلا مقصد: اولاد کا حاصل کرنا ہے
دوسرا مقصد :عزت عفت پاک دامنی کا حاصل کرنا ہے
تیسرا مقصد :سکون اور راحت کا حاصل کرنا ہے
چوتھا مقصد: دو خاندانوں کا آپس میں ملن رشتہ داریاں پڑھانا ہے
پانچواں مقصد:
نبی کی سنت کو زندہ کرنا
آج ہم مسلمان اصل مقصد سے کوسوں دور ہو گئے
آج ہم شادی سنت کو زندہ کرنے کی نیت سے نہیں کرتے
آج ہم شادی عبادت کی نیت سے نہیں کرتے
آج ہم اپنے خواہشات کو پورا کرنے کے لیے شادی کرتے ہیں
آج ہم دھوم دھام انداز میں کرنے کی نیت سے شادی کرتے ہیں
آج ہم بڑے فنکشن حال میں دولہا دلہن بن کر بیٹھنے کی نیت سے شادی کرتے ہیں
آج ہم ویڈیو میں اچھے اچھے پوز دینے کی نیت سے شادی کرتے ہیں
آج ہم کو اللہ نے مال دیا ہم اس کا استعمال محض اپنےخواہشات میں استعمال کرتے ہیں
ہم اپنا مال بیسیو کھانوں میں صرف کرتے ہیں
ہم ہمارا پیسہ حیدرآباد کے مہنگے فنکشن ہال خریدنے میں لگا دیتے ہیں
ہم ہمارا پیسہ قیمتی قیمتی زیور پہننے میں لگا دیتے ہیں
ہمارے اندر انفاق فی سبیل اللہ کا جذبہ ختم ہو کر انفاق فی سبیل الشیطان کا جذبہ پیدا ہو گیا ہے
اگر آپ اپنا مال اپنی طاقت اپنی جوانی اور خواہشات میں صرف کریں گے تو اپ اپنی اولاد میں ابوبکر کیسے پیدا کریں گے آپ اپنی اولاد میں عمر بن خطاب کہاں سے لائیں گے
آپ اپنی اولاد میں صلاح الدین ایوبی کیسے پیدا کریں گے
آپ اپنی اولاد میں ولی اللہ محدث کیسے پیدا کریں گے
جبکہ آپ اپنی اصل طاقت اصل جوانی غیروں کے طریقے کے مطابق گزار رہے ہیں شادیوں کا اسراف کہاں سے آیا
شادیوں کا جہیز کا نظام کہاں سے آیا
شادیوں میں مہر موخر جہیز معجل کا رواج کہاں سے پیدا ہو گیا
کبھی آپ اس بات پر بھی غور کیجئے
اگر میں یوں لڑکی والوں سے سوال کروں تو کل مجھے بھی بیٹی ہوگی میرے گھر پر بھی ایسی دستک آسکتی ہے اوریہ کام امر الہی امر نبوی کے خلاف ہے *نبی تو فرماتے ہیں کم خرچ والا نکاح بابرکت ہوگا*
یہاں پر خرچ کی ایسی ریل پیل ہے کہ لڑکی والوں کے طاقت و استطاعت کی دھجیاں اڑائی جاتی ہے
عقد کے عین وقت پر ڈیمانڈ کی جاتی ہے
♦️ یاد رکھیے جوآپ دوسروں کو تکلیف دیتے ہیں وہ واپس آپ کو بھی پہنچتی ہے
آج کل معاشرہ کی نئی جہالت عروج پر ہے ایک طرف لڑکے والوں کا دباؤ نظر آتا ہے تو دوسری طرف لڑکی والوں کی ضد جاری رہتی ہے
کہیں لڑکا ہاتھ پھیلا پھیلا کر جہیز کا مطالبہ کرتا ہے تو کہیں لڑکی والے کہتے ہیں ہماری ایک ہی بیٹی ہے ہم پورا جہیز دیں گے ہماری آخری بیٹی ہے ہماری خواہش ہے کہ ہم ساری بیٹیوں کی طرح یہ بیٹی کو بھی پورا جہیز دیں
یاد رکھیں اگر آپ اسراف سے باز نہیں آئیں گے
اگر آپ اس رواج کو نہیں دبائیں گے
اگر آپ اس رسم کو ختم نہیں کریں گے تو ساری غریب بیٹیوں کی بددعا کے آپ مستحق ہو جائیں گے
اور قرآن و حدیث کی مخالفت کرنے کے گناہ کے مجرم ہوں گے لہذا وقت اب بھی باقی ہے *باز آجاؤ توبہ کرو عہد کرو ارادہ کرو* کہ ہم سیدھی سادی شادی رچائیں گے آسان مسنون نکاح کو فروغ دیں گے جب بھی آپ کا ارادہ نکاح کا ہو لڑکی کے انتخاب کا وقت ہو تو دینداری کو ترجیح دیں نکاح کے وقت لوگ اکثر چار چیزوں پر نظر رکھتے ہیں پھر اس میں سے کسی ایک چیز کو ترجیح دے کر شادی کرتے ہیں کوئی حسب نسب دیکھتا ہے کوئی حسن و جمال دیکھتا ہے کوئی مال و دولت دیکھتا ہے کوئی دین دیکھتا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا *فاظفر بذات الدین* دینداری کو ترجیح دیں دینداری کو فوقیت دیں جو لڑکا دیندار ہوگا نمازی ہوگا اللہ سے ڈرنے والا ہوگا وہ اللہ کے خوف کا خیال رکھ کر اپنی بیوی کے مکمل حقوق ادا کرے گا *اپنی بیوی کی عزت کرے گا اور خوشحال زندگی عطا کرے گا* *جس لڑکی میں دینداری ہوگی اللہ کا خوف رکھنے والی ہوگی اپنے شوہر کی مکمل اطاعت کرے گی اس کے مال کی اس کے عزت کی محافظ بنے گی کبھی خیانت نہیں کرے گی
♦️ نکاح کے درجات بھی چار ہیں
اگر نکاح کا شدید تقاضہ ہو اور استطاعت بھی رکھتا ہو استطاعت کا بھی مالک ہو بغیر نکاح کے اپنے آپ کو قابو میں نہیں رکھ پاتا ہو تو اس پر نکاح کرنا فرض ہے ۔اور ۔
دوسرا درجہ یہ ہے کہ صرف اتنی قدرت ہو کہ روزانہ کمانا تو روزانہ کھانا ہو اور نکاح کاشدید تقاضہ ہو نہ کرنے پر گناہ کا اندیشہ ہو تو اس پر نکاح واجب ہو جاتا ہے ۔ اور ۔
تیسرا درجہ یہ ہے کہ جنسی اعتبار سے یہ نکاح کی حاجت ہو اور وہ تقاضا بے حد شدید ہو نکاح نہ کرنے پر گناہ کے قریب جانے کا اندیشہ ہو تو نکاح کرنا سنت ہے
اور آخری درجہ یہ ہے کہ اس کے پاس نہ حق نفس کی استطاعت ہو نا حق مال کی استطاعت ہو تو اس کو نکاح کرنا ممنوع ہے ایسا شخص نکاح نہ کرے
اے مسلمانو! نکاح کو دین کی بنیاد پر ادا کریں
ہر صلاحیت استطاعت کے ساتھ ادا کریں
کم عمری کے نکاح کو فروغ دیں
سادے نکاح کو اپنائیں
فضولیات سے اجتناب کریں
🔺 *آخر میں میں آپ تمام کو اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اپنے کلام کو ختم کرتی ہوں الحمدللہ ہمارے سروں پر علماء کا سایہ موجود ہے انہوں نے یہ بیداری قائم کرنے کا عزم مسمم کیا ہے کہ ہمارے اندر کے بے فائدہ خواہشات کو ختم کر کے فائدے مند مسنون طریقے کو رواج دینے کی تلقین کریں راہ شیطان سے نکال کر راہ رحمان کی طرف آنے کی دعوت دیں مفکر علماء کی ٹیم بالخصوص مسلم پرسنل بورڈ اس مہم میں پیش پیش ہو کر بڑی جدوجہد کر رہا ہے آپ تمام حضرات سے گزارش ہے کہ آسان مسنون نکاح کو قبول کریں اور اس کی تبلیغ اور تلقین پر بورڈ کا ساتھ دے سارے عالم میں آسان مسنون نکاح کو قائم کرنے میں بورڈکا بھرپور تعاون کریں تاکہ یہ مہم مقصد حیات میں تبدیل ہو جائے*
اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہمیں اس بات پر متفق ہونے کی توفیق عطا فرمائے اتحاد و اتفاق کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ پیغام آسان مسنون نکاح کو عام و تام کرنے میں ہم سب کا حصہ شامل فرمائیں اللہ پاک توفیق عمل نصیب فرمائے اور اکابر کی کاوشوں کو قبول فرمائے (آمین)
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین
بنوک قلم: فردوس جہاں مظاہری نعمانی
(خادمہ مدرسہ ھبۃ الرحمن للبنات)