*ڈپریشن/ اینزائٹی سے کیسے نجات حاصل کریں؟*
1) جو چیزیں اخیتار میں نہ ہوں اس کی فکر چھوڑیں۔ یاد رکھیں ڈر موت کو نہیں لیکن زندگی کو ضرور روک سکتا ہے۔
2) انسان خدا نہیں ہے نعوذوبااللہ کہ جو وہ چاہے وہی ہوگا۔ بعض اوقات بہت قابیلیت اور کوشش کے باوجود بھی وہ نہیں ہوتا جو انسان چاہتا ہے۔ یہ انسان کو تسلیم کرنا ہوگا۔
3) ورزش کریں۔ ضروری نہیں آپ جِم جائیں۔ واک بھی ایک ورزش ہے۔ غیر ضروری طور پر بائیک چلانے اور گاڑی چلانے کی بجائے پیدل واک کریں۔
4) مصروفیت بڑھائیں۔ حد سے زیادہ آرام اور ریلیکسیشن ذہنی سکون کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔
5) اکیلے رہنا چھوڑیں لوگوں میں گھل ملیں جس کا ایک آسان طریقہ محلے کی مسجد میں پنج وقتہ باجماعت نماز بھی ہے۔
6) نماز اگر خشوع اور وضوع سے پڑھیں تو یہ ایک مڈیٹیشن یعنی مراقبہ ذہنی یکسوئی کا طریقہ بھی ہے۔
7) غمگین گانے سننا چھوڑیں۔ غمگین ڈرامے اور فلمیں دیکھنا بند کردیں۔ غمگین لٹریچر پڑھنا بند کردیں۔ پریکٹیکل لائف میں حقیقی غم ویسے بھی بہت سارے ہیں۔ مصنوعی طور پر اپنے اوپر غم مسلط کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ آبیل مجھے مار والی پریکٹیس ہے یہ۔
📍اہم ترین بات❗
اگر آپ فح+ش ویڈیوز اور مشت زنی وغیرہ جیسی عادات میں مبتلا ہیں تو سختی سے اس عادت کا سر کچل دیں۔
یہ زندگی میں شامل ہو تو پھر روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں خوشیاں محسوس ہی نہیں ہوتی۔
اس عادت سے دوسرے کام کرنے کی ساری موٹیویشن ختم ہوجاتی ہے۔
یہ انرجی ، توجہ اور وقت کو چوس لیتی ہے جس کو استعمال میں لاتے ہوئے آپ کوئی دوسرا اہم کام سر انجام دے سکتے ہیں۔
ہر دوسری بار دماغ پہلے کے مقابلے میں نیا اور زیادہ شدید پو+رن دیکھنا پسند کرے گا جس کی تلاش میں گھنٹوں لگے رہنے سے بندے کا بہت وقت ضائع ہوجاتا ہے۔
اس کے علاوہ بعض لوگ اس نئے پن کی اور زیادہ سیٹسفیکشن کے لیے پہلے سے زیادہ شدید مواد تک رسائی کے لیے پو*ن سائٹس کے مہنگے سبسکرپشنز لے کر الگ پیسے اڑانے لگتے ہیں۔
کچھ کو جب توانائی میں کمی یا بیماری محسوس ہوجاتی ہے تو اسی حساب سے خوراک یا ڈاکٹر کی سروس لینے یا دوائیاں کھانے پر الگ پیسے لگانا شروع کردیتے ہیں اور کمانے لائق تو یہ ہوتے نہیں۔
بس گھر سے اٹھاکر اڑاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ عادت آپ کو تنہا زندگی گزارنے یعنی لوگوں سے کٹ آف کرنے میں بھی بڑا تھگڑا رول ادا کرتا ہے ،
کیونکہ پو+رن دیکھنے کے لیے آپ کو اکیلا ہونا پڑتا ہے۔
9) آن لائن لائف کو بیلنس رکھیں۔ ہر وقت ڈیجیٹل ڈیوائس یعنی موبائل یا کمپیوٹر میں نہ گھسے رہیں۔
فیزیکل ورلڈ کا بھی مزہ لیا کریں۔ فزیکل ورلڈ کے ایکٹویوٹیز ، فزیکل گیم کھیلنے ،فزیکل محفلوں،یاروں دوستوں ، غمی خوشی میں شرکت کے محفلوں وغیرہ میں حصہ لیں۔ انسان معاشرتی جانور ہے۔ تنہا نہیں رہ سکتا۔
10) جو کام ہوجاتا ہے اس پر حد سے زیادہ اور مستقل طور پر پچھتائیں مت۔ ہاں کام غلط ہو تو توبہ ضرور کریں آئندہ نہ کرنے کی ٹھانیں ،ممکن ازالہ کریں لیکن اس کے باوجود بھی پچھتانا کوئی معقول رویہ نہیں ہے۔
انسان فرشتہ نہیں ہے کہ پرفیکٹ ہو۔ ہاں بس ہٹ دھرم نہیں ہونا چاہیے۔ غلطی پر توبہ اور آئندہ نہ کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔
11) ڈسپلنڈ رہنا سیکھیں۔ کچھ اصولوں کی پابندی۔ وقت کی پابندی۔ اس میں بھی پنج وقتہ باجماعت نماز بہت رول پلے کرتا ہے۔ باجماعت نہ بھی ہو لیکن کم سے کم وقت پر نماز۔