جوں جوں رمضان مبارک قریب آتا ہے تو حفاظ کرام بھی قرآنِ شریف سنانے کے لیے جگہ تلاش کرنے میں مشغول ہو جاتے ہیں اور وہ یہ سوچتے ہیں کہ کسی طرح ہمیں قرآن کی جگہ مل جائے اور ہمیں کچھ نہیں چاہیے۔
لیکن درمیانی سال میں جو حافظ یہ کہتے ہیں کہ ہم قرآنِ شریف سنانے کے بعد میں ہدیہ نہیں لیں گے، جوں ہی رمضان المبارک قریب آتا ہے تو وہ اپنے اس وعدے سے مکر جاتے ہیں اور اس تاویل کو نکالتے ہیں کہ مقتدی حضرات اپنی خوشی سے جو دے دیں تو الگ بات ہے۔
تو کیا فرق ہوا ان میں اور جہیز مانگنے والوں میں؟
دورِ حاضر میں دیکھا گیا ہے کہ لڑکے والے بھی یہی کہتے ہیں کہ اپنی خوشی سے جو آپ لوگ اپنی لڑکی کے لیے دے دو گے، اس کو ہم بخوشی قبول کر لیں گے۔
لیکن لڑکی والوں پر جو بیتی ہے، جو ان کے دلوں کو پریشانی ہوتی ہے، اس کا آپ لوگوں کو بخوبی علم ہے۔
تو حفاظِ کرام سے درخواست ہے:
صرف قرآنِ کریم ہی سنائیں، اور اس طرح کی تاویل نکالنے سے پرہیز کریں۔
قرآن تجارت نہیں، امانت ہے۔
قرآن رزق کا ذریعہ ضرور ہے، مگر شرطوں، دباؤ اور اشاروں کے ساتھ نہیں۔
اللہ تعالیٰ قرآن کی خدمت کرنے والوں کے رزق کا خود ذمہ لیتا ہے، بشرطیکہ نیت صاف ہو اور عمل خالص ہو۔
یہ تحریر کسی کی تذلیل کے لیے نہیں، بلکہ قرآن کے وقار، حفاظ کے مقام اور امت کی اصلاح کے لیے ایک درد بھری صدا ہے۔
اللہ ہمیں اخلاص عطا فرمائے اور قرآن کو ہماری دنیا و آخرت کا ذریعۂ نجات بنائے۔ آمین۔