*بھیڑیوں نے اخبار نکالا بکریوں کو آزادی دو*


آج میری تحریر کا عنوان جامعہ ملیہ کے عظیم طلبہ ہیں جن سے مجھے غلا ہے جنہوں نے مسلم ہندو سکھ عسائی سب مذاہب کے نام لیکر یہ نعرا لگایا کہ ہمیں آزادی دو، اور وجہ یہ تھی کے ایک پریگنینٹ ہندو لڑکی کو یونیورسٹی میں گھسیٹا گیا اور اسکی موت ہو گئی.



*اولا ایک واقعہ سنیں جو اس صورت حال کے بلکل موافق ہے*

بھیڑیوں نے بکریوں کے حق میں جلوس نکالا کہ بکریوں کو آزادی دو بکریوں کے حقوق مارے جا رہے ہیں انہیں گھروں میں قید کرکے رکھا گیا ہے ایک بکری نے جب یہ آواز سنی تو دوسری بکریوں سے کہا کہ سنو سنو ہمارے حق میں جلوس نکالے جا رہے ہیں چلو ہم بھی نکلتے ہیں اور اپنے حقوق کی آواز اٹھاتے ہیں ایک بوڑھی بکری بولی بیٹی ہوش کے ناخن لو یہ بھیڑیے ہمارے دشمن ہیں ان کی باتوں میں مت آو مگر نوجوان بکریوں نے اس کی بات نہ مانی اور کہا جی آپ کا زمانہ اور تھا یہ جدید دور ہے اب کوئی کسی کے حقوق نہیں چھین سکتا یہ بھیڑیے ہمارے دشمن کیسے ہو سکتے ہیں یہ تو ہمارے حقوق کی بات کر رہے ہیں، بوڑھی بکری سن کر بولی بیٹا یہ تمہیں برباد کرنا چاہتے ہیں ابھی تم محفوظ ہو اگر ان کی باتوں میں آگئیں تو یہ تمہیں چیر پھاڑ کر رکھ دیں گے بوڑھی بکری کی یہ بات سن کر جوان بکری غصے میں آگئیں اور کہنے لگیں کہ اماں تم تو بوڑھی ہو چکی اب ہمیں ہماری زندگی جینے دو تمہیں کیا پتہ آزادی کیا ہوتی ہے باہر خوبصورت کھیت ہونگے ہرے بھرے باغ ہونگے ہر طرف ہریالی ہوگی خوشیاں ہی خوشیاں ہونگی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو اب ہم مزید یہ قید برداشت نہیں کر سکتیں یہ کہ کر سب آزادی آزادی کے نعرے لگانے لگیں اور بھوک ہڑتال کر دی ریوڑ کے مالک نے جب یہ صورتحال دیکھی تو مجبوراً انہیں کھول کر آزاد کر دیا بکریاں بہت خوش ہوئیں اور نعرے لگاتی چھلانگیں مارتی نکل بھاگیں اور اپنی عقل کو کھو بیٹھی

بھیڑیوں نے تو ان پر حملہ کر دیا اور معصوم بکریوں کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا آج عورتوں کے حقوق کی بات کرنے والے در حقیقت عورتوں تک پہنچنے کی آزادی چاہ رہے ہیں یہ ان معصوموں کے خون کے پیاسے ہیں انہیں عورتوں کے حقوق کی نہیں، اپنی غلیظ پیاس کی فکر ہے کاش کہ کوئی سمجھے در حقیقت آج کا لبرل مرد عورت کی آزادی نہیں عورت تک پہچنے کی آزادی چاہتا ہیے.


اب میرا کہنا یہ ہے میری بہنوں اور میرے بھائیوں مجھے ہندو، سکھ، عسائی، یہودی، بتھ، جین، یا کسی اور دھرم سے مطلب نہیں وہ آزادی کا نعرا لگائیں یا جو چاہیں نعرا لگائیں کیونکہ یہ وہ دھرم ہو سکتے ہیں جنہوں نے اپنے ماننے والوں کو مکمل آزادی نا دی ہو لیکن اسلام (بحمدہ تعالی و تقدس) مکمل آزادی عورت مرد سب کو دے چکا ہے اب اس سے زیادہ اگر عورت یا مرد کو آزادی چاہیے تو وہ آزادی نہیں بلکہ وہ عیاشی اور حد سے تجاوز ہے.


اگر آپکو نفس پرستی کرنا ہے تو لڑکی اور لڑکے دونوں کے گھر والے بات کریں اور نکاح کریں مہر دیں اور اسلام کے مطابق جنسی تعلق کو قائم کریں اور بات کرلی جائے کے دونوں پڑھتے رہیں اور بیوی شوہر کے رشتے کو فالو کرتے رہیں، اور یہ آزادی اسلام نے دی ہے کے جب بچے بالغ ہو جائیں تو انکی شادی کردیں اور جب آپکا دل شادی کرتا ہے تو اپنے گھر والوں سے شادی کو کہیں اور اگر وہ کفالت نہیں کر سکتا تو پھر اسلام نے نفلی روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے روزہ رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں.


اور اگر آپکو ایسی آزادی چاہیے جیسی بکریوں کے حق میں بھیڑیوں نے مانگی تھی تو پھر اپنا انجام بھی دیکھ لیں اور بہت سی مثالیں موجود ہیں اس طرح کا نعرہ لگانے والی لڑکیوں کی تاریخ کے اوراق میں جن کا ہم مشاہدہ کرتے رہتے ہیں ایسی لڑکیوں کی حالت یہ ہو گئی نا انہیں گھر ملا ناشوہر ملا بلکے اس نے اسکو یوز کیا تشدد کیا جنسی تعلق کا جشن منایا اہنی پیاس بجھائی اور کبھی کسی دوست کے ذریعے سے جنسیت کا نشانہ بنایا گیا پھر طعنے دیے اور جب وہ کسی قابل نا رہی تو پھر اسکو چھوڑ دیا اور حالت پھر اسکی یہ ہو گئی نا وہ دوسرا شوہر تلاش کر سکی نا اسکا کوئی حامی و ناصر بلکے وہ در در پر بھیک مانگ کر اپنا گزارا کرنے لگیں یا انہوں نے چند پیسوں کے لیے طوائف خانوں کا رخ کیا اور چند روٹی کے ٹکڑے کھانے کے لیے جنسیت کا نشانہ بنتی گئیں اور پھر موت کا شکار ہو گئیں اور انکی لاشوں کو کتوں نے گھسیٹا درندوں نے انکی دھجیاں بکھیری اور وہ کچرے خانے سے جا ملیں ناکفن میسر ہو سکا ناقبر اور لاش نے پوری کائنات کو بدبودار کیا والدین کی عزت کا جنازہ نکالا یہ ہے آزادی.


ایک بات اور عرض کرتا چلوں بھائی مجھے بتائیں جب لڑکے لڑکیوں کی آزادی کا نعرا لگا رہے ہیں لڑکیاں آزادی مانگ رہیں ہیں پھر یہ کریں گے کیا وہی نا کے ریسٹورنٹ میں جا کر یا کسی بھی عیاشی پلاٹ فارم پر جاکر عیاشی کرنا اور یہ عیاشی کس اعتبار سے صحیح ہے مجھے کوئی بتا سکتا ہے، جب ہر ایک مذہب کے پاس ایک رول شادی کا بنا ہوا تو شادی کرو کون منع کرتا ہے،اور آزادی کس چیز سے چاہیے کھانا کے لیے اسے پابندی نہیں، پینے کے لیے اسے پابندی نہیں، مارکیٹ کرنے کے لیے اسے پابندی نہیں، پڑھنے لکھنے کے لیے اسے پابندی نہیں، کھیلنے کودنے کے لیے اسے پابندی نہیں، معاشرے کے اعتبار سے جینے کے لیے اسے پابندی،اسکے ہاتھوں میں زنجیریں نہیں، اسکے پیروں میں بیڑیاں نہیں، کوئی ضرورت جو اسکو ہو اسکی پابندی نہیں بس پابندی اس چیز کی تو ہے ماں باپ بھائی بہن کی عزت معاشرے میں رہے اور جب بات شادی کی آتی ہے کیا تب جنسیت قائم نہیں ہوتی تب بھی ہوتی تب بھی پریگنینٹ ہوتی ہے تب بھی وہ مرد کا فراش بنتی ہے وہ بچوں کی ماں بنتی ہے وہ بھابھی بنتی ہے وہ کسی کی بہو بنتی اور اسکی اجازت والدین پورے معاشرے کے سامنے دیتے ہیں اس وقت ماں باپ بھائی بہن معاشرے کا ہر انسان اسے عزت نگاہوں سے دیکھتا ہے لیکن باوجودیکہ وہ اس وقت بھی جنسی تعلقات کو قائم کرتی ہے لیکن جب شادی سے پہلے اسکے ساتھ جنسیت کا تعلق کیا جائے تب غالباً ہر ذی شعور انسان کے نزدیک وہ گناہگار ہوتی ہے لڑکا گناہگار ہوتا ہے وجہ کیا ہے وجہ صرف یہ ہے نا کے وہ شادی سے پہلے عیب ہے تو مجھے آپکو کیسی آزادی چاہیے، مجھے تو ایک بات سمجھ میں آتی ہے کے جو اس طرح کی آزادی مانگتی ہیں انہیں عزت نہیں ذلت چاہیے کیونکہ زانی اور زانیہ ہونا کوئی عزت کا کام نہیں بلکے بےعزتی کا کام ہے یا کوئی لڑکا یا لڑکی پکڑی جاتے ہیں کیا اسکے گلے میں ہار ڈالے جاتے ہیں نہیں بلکے جوتے چپل سے نظر اتاری جاتی ہے کیوں؟ اسلیے کے عزت و ناموس کا مسئلہ ہے.


خدا کے لیے میرے بھائی اللہ کی حدود کو پامال نا کریں اللہ سے ڈریں اسکے یہاں بھی حساب دینا ہے ہر سوال کا جواب دینا اچھی بات ہے آپ پردرشن کریں اور ہر ظلم کے خلاف کریں اور وہ اگر صحیح ہے اسلام کے آئین کے مطابق ہے یا معاشرتی موقف کے موافق ہے ہم آپ کے دوش با دوش کھڑے ہیں لیکن ایسی آزادی کا نعرا نا لگائیں جس سے ہماری بہنیں درندگی کا شکار ہوں اور انکا سہاگ اجڑ جائے، اور انکی عزت ان ہی درندوں کے ہاتھوں روند دی جائے جو آزادی کا نعرا لگانے والے بلکہ ایسا ہوتا بھی ہے اور بھائی ہوگا بھی جب بھیڑیوں کے سپرد بکریاں کر دی جائیں تو وہ چیر پھاڑ ہی کر سکتے ہیں وہ چرا نہیں سکتے، اور یہ بات مسلم لڑکے اور لڑکیاں کان کھول کر سن لیں جتنی آزادی چاہیے تھی لڑکے اور لڑکی کو اسلام دے چکا اب جو لڑکی کو چاہیے وہ آزادی نہیں بلکے عزتوں سے کھلواڑ کا سرٹیفکیٹ ہے.


اللہ ہمیں سوچنے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین بجاہ النبی الکریم ﷺ.


✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️